اداریہ

ہسپتالوں میں او پی ڈی ٹھپ
غیر کو رونا مریض حالات کے رحم و کر م پر

تیسری دنیا کے ممالک کے اندر ایک مسئلہ یہ رہا ہے کہ یہاں پر حکو مت کسی بھی پا رٹی یا کسی بھی نظریا تی گروہ کی ہو بنیا دی مسائل کے تئیں کو ئی خاص تو جہ نہیں دی جا رہی ہے اور اب جبکہ کو رونا وائرس نے پو رے عالم کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے تو ہم ’وہ نا داں گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا ‘ کے مصداق ہسپتالوں کی تعمیر اور طبی بنیا دی ڈھانچے کو مضبوط کر نے میں لگے ہو ئے ہیں ۔کورونا کی پہلی لہر میں قدرے بہتر کا ر کر دگی کے بعد جب دوسری لہر قہر بن کر ہم پر ٹو ٹ پڑ ی تو ہما را پو را طبی نظام در ہم بر ہم ہو کر رہ گیا اور ہسپتالوں میں مر یضوں کو بیڈ تک دستیا ب نہیں ہو پارہے ہیں ۔ہسپتالوں کی دہلیز اور صحن میں مریضوں کو لٹائے جا نے کے ساتھ ساتھ ویٹنک رومز میں انہیں آکسیجن لگا ئے جا نے کی تصاویر سے ہما ری خوب جگ ہنسائی ہو ئی اور یہ سارا معاملہ ہما رے لئے با عث خفت تھا ۔ایسے میں ایک اور سنگین مسئلہ ہما رے لئے یہ کھڑا ہو گیا ہے کہ اکثر و بیشتر سرکا ری ہسپتالوں نے اپنی او پی ڈی خدما ت معطل کر دی ہیں اور نجی کلینکوں میں مر یضوں کا علا ج کر نے والے ڈاکٹر صاحبا ن نے بھی کورونا کے خوف سے اپنے مطب بند کردئے ہیں اور اس طرح سے غیر کو رونا مر یضوں کو حالا ت کے رحم و کر م پر چھو ڑ دیا گیا ہے ۔وادی کے بڑے بڑ ے ہسپتالوں جن میں صورہ میڈیکل انسٹی چیو ٹ ،ایس ایم ایچ ایس ہسپتا ل اور سبھی اضلا ع کے ضلع ہسپتا ل شامل ہیں میں روزانہ ہزاروں مر یضوں کا علا ج و معالجہ ہونے کے ساتھ ساتھ لا کھوں تشخیصی ٹیسٹ ہوا کر تے تھے ۔تاہم جب سے جموں وکشمیر یا پھر پو رے بھا رت کے اندر کو رونا وائرس کے عالمی وبا ء کی دوسری لہر اپنی تمام تر قہر انگیزیوں کے ساتھ چل رہی ہے تب سے سر کاری و غیر سر کا ری ہسپتالوں نے اپنے مطب بند کر دئے ہیں ۔ہما ری وادی کے اندر کینسر، بلند فشار ِ خون ،ذیا بطیس اور دیگر امراض کے ہزاروں مریض ہیں جو مستقل طور زیر علا ج رہتے ہیں اور انہیں وقفے وقفے ڈاکٹروں کے ساتھ مشاورات کر نا پڑ تی ہے۔ اسی طرح سے شہر و گا م کے اندر مریضوں کی ایک بڑ ی تعداد ایسی ہے جنہیں ڈاکٹروں کے نجی کلینکو ں پرجا کر اپنا علا ج و معالجہ کرانا پڑ تا ہے اوراس طرح سے ان کی سانسیں چل رہی ہیں ۔ہسپتالوں کے او پی ڈی بند کر نے سے ان مریضوں کے لئے طرح طرح کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور علاج و معالجہ نہ ملنے کی سبب انہیں شدید ذہنی و جسمانی کوفت ہو رہی ہے ۔ایسے مریضوں کی ایک بڑ ی تعداد مختلف قسم کے ذہنی مسائل کا بھی شکا ر ہو رہی ہے جبکہ ان کے افراد خانہ کو بھی زبر دست کو فت ہو رہی ہے ۔سرکا ری ہسپتالو ں کی جانب سے او پی ڈی سہولیا ت کو معطل کر نا اس اعتبا ر سے ایک صحیح فیصلہ نہیں ہے کہ ان مر یضوں کو زبردست ذہنی و جسما نی الجھن میں ڈال دیا گیا ہے اور لاک ڈائون کے ان اوقات میں کو ئی ان کی سننے والا نہیں ہے ۔نجی کلینکوں پر مریضوں سے فیس کے نام پر مو ٹی موٹی رقوما ت وصولنے والے ڈاکٹروں کیلئے یہ بات کا فی مذموم ہے کہ مشکل صورتحال کی اس گھڑی میں انہوں نے مریضوں کو حالا ت کے رحم و کرم پر چھو ڑ دیا ہے اور یہ مریض انتہا ئی لاچار صورتحال میں بے یا ر و مدد گا ر پڑ ے ہو ئے کسی مسیحی کے منتظر ہیں ۔