اداریہ

ہسپتالوں میں مریضوں کی پریشانیاں

بالآخر مریض کو یہی لگتا ہے کہ آخری سہارا ہسپتال ہی ہے کیونکہ یہی پر اسے شفایاب ہونے کی امید نظر آتی ہے مگر جب انہی ہسپتالوں میں مریضوں کو شفا کے بجائے ڈاکٹروں کی عدم دلچسپی اور عدم توجہی نیز بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے پریشانیوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے تو ان کا شفایاب ہونے کی امید ہی نہیں رہتی۔ تقریباً وادی کے سبھی ہسپتالوں کا حال ایک جیسا ہی ہے جہاں مریضوں کو طرح طرح کے مشکلات در پیش ہیں۔ سردیوں کے ان ایام میں خاص طور پر دمے میں مبتلا مریضوں کی سہولیات کے حوالے سے کئی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ سرینگر کے ڈالگیٹ میں واقع پرانا چسٹ ڈیزیز ہسپتال ہے جہاں مریضوں کو طرح طرح کے مشکلات در پیش ہیں۔ سردیوں کے ان ایام میں دمے میں مبتلا مریضوں کو سہولیات کے حوالے سے کئی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ ہسپتال بلندی پر واقعہ ہونے کی وجہ سے دمے اور اسی طرح کے دیگر امراض میں مبتلا مریضوں کو اونچائی پر واقع وارڈوں تک رسائی حاصل کرنے میں دشواروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالیہ ریڈیو رپورٹ کے مطابق مریضوں کو اوپر جانے کے لئے ویل چیرس دستیاب نہیں ہے اور اگر کہیں کوئی ویل چیئر دکھ بھی جائے تو اس کیلئے درکار سلوب وے موجود نہیں ہے۔ واڈوں میں گرمی کا کوئی خاصا بندوبست نہیں ہے جس کی وجہ سے یہاں داخل مریضوں کو سخت سردی سے جھوجھنا پڑ رہا ہے۔ اور ان کی حالت سدھرنے کے بجائے ابتر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ نائٹ ڈیوٹی کے دوران ڈاکٹروں کی مناسب تعداد اور نیم طبی عملے کی عدم دستیابی بھی مریضوں کیلئے وبال جان سے کم نہیں۔ یہی صورتحال وادی کے کئی دیگر ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ سرینگر کے بڑے بڑے ہسپتالوں خاص کر منٹل ہسپتال اور صدر ہسپتال میں بھی دیکھنے کو مل رہی ہے جہاں مریضوں کو کئی قسم کے مشکلات کا سامنا ہے۔ ہسپتال انتظامیہ سنجیدہ نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو ان پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ سنجیدہ ہونگے بھی کیسے کیونکہ انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں۔ ہیلتھ سکٹر کو اپنی ترجیحات میں سہرفہرست رکھنے کے ریاستی سرکار کے دعوے نہ تو صحیح اور نہ ہی وعدے پورتے ہوتے ہیں۔ ہسپتالوں میں مریضوں کی طبی نگہداشت کو یقینی بنانے کے لئے جدید سازوسامان اور سہولیات قائم کرنے کے لئے اگر چہ ریاستی و مرکزی سرکار کی طرف

سے بھاری رقومات خرچ کی جا رہی ہے تاہم زمینی سطح پر اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوتے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ اس جانب توجہ دے کر صحت سے جڑے معاملات کو حل کرنے کے لئے ہمدردانہ بنیادوں پر فوری اقدام کریں تاکہ مریضوں کی بہتر طبی نگہداشت کو یقینی بنایا جا سکے۔