خبریں

ہم جنس پرست شادی کا قانون کالعدم قرار

ہم جنس پرست شادی کا قانون کالعدم قرار

آسٹریلیا کی ہائی کورٹ نے دارالحکومت کے دائرہ اختیار میں آنے والے علاقوں اے سی ٹی میں ہم جنس پرست شادی کے قانون کوکالعدم قرار دے دیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پہلے اس قانون کے تحت ہم جنس پرستوں کو آپس میں شادی کی اجازت دی گئی تھی۔ اکتوبر میں اے سی ٹی کی پارلیمان نے ہم جنس پرست شادی کے بل کو منظور کر کے اسے آسٹریلیا کا پہلا ایسا علاقہ بنا دیا تھا جہاں ہم جنس پرستوں کو آپس میں شادیاں کرنے کی قانونی اجازت حاصل ہوگئی تھی۔ لیکن قومی حکومت نے اس فیصلے کے خلاف یہ کہتے ہوئے اپیل کی تھی کہ یہ قانون وفاق کے قانون سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ گذشتہ ہفتے جب سے یہ قانون نافذالعمل ہوا تھا تو آسٹریلیا میں تقریباً 27 ہم جنس پرست جوڑوں نے شادی کی تھی لیکن اب ان کی شادی غیر قانونی قرار پائے گی۔ اس نئے قانون کے مطابق اے سی ٹی کے علاقے دارالحکومت کین بیرا میں ہم جنس پرستوں کو آپس میں شادی کی اجازت تھی خواہ وہ کسی بھی صوبے سے تعلق رکھتے ہوں۔ بہر حال وفاقی قانون نے سنہ 2004 میں یہ واضح کر دیا تھا کہ شادی صرف ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان ہی ہو سکتی ہے۔ تاہم آسٹریلیا کے بعض صوبوں میں عدالت میں کی گئی شادی کی اجازت ہے۔ کین بیرا کے ہائی کورٹ نے اے سی ٹی کے قانون کو اتفاق رائے سے یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا ہے کہ \’یہ قومی قانون سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ \’ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ \’ہم جنس پرست شادی کو قانونی جواز حاصل ہوگا یا نہیں اس بات کا فیصلہ صرف وفاقی حکومت کر سکتی ہے۔ شادی کا قانون نہ تو کسی ہم جنس پرست شادی کی اجازت دے دیتا ہے اور نہ ہی منظوری۔ آسٹریلیا میں شادی کا قانون صرف مرد اور عورت کے درمیان شادی کی اجازت دیتا ہے۔\’