خبریں

ہندوارہ میں شہری ہلاکتیں اور تحقیقات کے احکامات

ہندوارہ میں شہری ہلاکتیں اور تحقیقات کے احکامات

ڈیسک رپورٹ
ہندوارہ میں اس وقت دو نوجوان موقعے پر ہی ہلاک ہو گئے جب فوج نے مبینہ طور احتجاج کرنے والوں پرنزدیک سے گولی چلائی ۔ کل ملاکر پانچ لوگ مارے گئے جن میں ایک عورت بھی شامل ہے ۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ نعیم قادراورپیر اقبال نامی دو نوجوان اس وقت مارے گئے جب یہاں لوگ جمع ہوکر احتجاج کررہے تھے۔ لوگ الزام لگارہے تھے کہ فوج کے ایک جوان نے ایک دوشیزہ سے چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کی جس پرلوگ مشتعل ہوگئے اور نعرہ بازی شروع کی۔ اس دوران وہاں مردوزن اور طلبا جمع ہوگئے۔ کچھ نوجوانوں نے نزدیکی فوجی کیمپ پر پتھرائو کرنا شروع کیا۔ کچھ نوجوانوں نے لکڑی کے بنے فوجی بنکر میں آگ لگادی جبکہ کچھ نوجوانوں نے فوج کی طرف سے لہرایا گیا جھنڈا اتارنے کی کوشش کی۔ اس دوران فوج نے آنسو گیس کے گولے پھینکے اور گولی چلائی جس سے دو نوجوان موقعے پر ہی ہلاک ہوگئے۔ ایک عورت بعد میں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھی۔ اس طرح سے محبوبہ مفتی کی سربراہی والی پی ڈی پی -بی جے پی کی نئی سرکار کا شہری ہلاکتوں کا کھاتہ ہندوارہ سے شروع ہوا۔ جس سے علاقے میں سخت تنائو پیدا ہوگیا ۔ علاحدگی پسندوں نے اگلے روز ہڑتال کرنے کی اپیل کی۔ اس دوران سرینگر اور دوسرے کئی قصبوں میں نوجوانوں اور پولیس کے مابین پتھرائو کے واقعات پیش آئے۔ ادھر ہندوارہ میں ہی تصادم آرائی میں ایک اور نوجوان مارا گیا جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ۔ زخمیوں میں پولیس کے درجنوں سپاہی بھی شامل ہیں ۔
ہندوارہ میں مارے گئے نوجوان نعیم قادرکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بہت ہی ہونہار طالب علم ہونے کے علاوہ کرکٹ کا اچھا کھلاڑی تھا۔ اس کی موت سے علاقے نے ایک باصلاحیت کرکٹ کھلاڑی کھودیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ نعیم کا بھائی ایک مقامی ٹی وی چینل کے ساتھ کام کرتا ہے ۔ وہ بھی جب دوسرے صحافیوں کی طرح ہسپتال پہنچ گیا ۔ ہسپتال میں وہ اپنے بھائی کی لاش دیکھ کر ہوش و حواس کھوگیا۔ فوج نے ہندوارہ میں پیش آئے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور معافی مانگی۔ حکومت نے واقعے کی تحقیقات کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے فوج کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے ۔ تاہم تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے ۔ فوج نے اس الزام کو مسترد کیا ہے کہ اس کے کسی جوان نے طالبہ کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ کی ۔ بلکہ فوج کی طرف سے واقعے میں ملوث لڑکی کا ویڈیو بیان جاری کیا گیا جس نے ایسے کسی واقعے کے پیش آنے کی سختی سے تردید کی ہے ۔ لڑکی کا کہنا ہے کہ نعیم اور اس کے ساتھیوں نے زور زبردستی اس واقعے میں اسے ملوث کرنے کی کوشش کی۔اس کے برعکس وہاں موجود ایک نوجوان نے اپنے بیان میں کہا کہ اسکول سے واپس آرہی طالبہ ایک پبلک واش روم میں داخل ہوگئی۔ اس کو اکیلا دیکھ کر ایک فوجی جوان زبردستی اندر چلا گیا اور لڑکی سے چھیڑ چھاڑ کرنے لگا۔ لڑکی نے شور مچایا جس پر سارا ہنگامہ کھڑا ہوگیا ۔ مقامی ایم ایل اے سجاد لون نے اس واقعے کی ٹائم بائونڈ تحقیقات کرنے کی مانگ کی ہے۔ علاحدگی پسندوں نے ان ہلاکتوں کے خلاف مزید ایک دن کی ہڑتال اور جمعہ کو احتجاج کرنے کے لئے کہا ۔ اس وجہ سے پھر سے حالات میں سخت کشیدگی پیدا ہوگئی۔
وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے ملوث اہلکاروں کو سزا دینے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ انہوں نے اس دوران مرکزی وزیردفاع راجناتھ سنگھ سے ملاقات کی ۔ محبوبہ کا کہنا ہے کہ سنگھ نے انہیں فوجی اہلکاروں کو سزا دینے کی یقین دہانی کرائی۔ یاد رہے کہ محبوبہ وزارت کا حلف لینے کے بعد دہلی روانہ ہوگئی تھی جہاں انہوں نے کئی مرکزی رہنمائوں کے علاوہ وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ مودی کے ساتھ انہوں نے عوامی ضرورت کے کئی مسائل پر بات کی۔ لوگوں کا خیال ہے کہ ریاست میں فوج کے ہاتھوں ہلاکتوں کے یہ واقعات انہیں افسپا کے تحت ملے اختیارات کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔ معمولی احتجاج پر لوگوں کو گولیوں کا نشانہ بنانا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک فوج کو یہ اختیارات حاصل ہیں۔ اس قانون کو ہٹانے کی اب تک کی تمام کوششیں رائیگاں ہوگئی۔ کوئی بھی عوامی سرکار ان اختیارات کو ختم کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی ۔ یہی وجہ ہے کہ فوج اور عوام کے درمیان یہ تنائو پایا جاتا ہے ۔ ہندوارہ میں جو کچھ ہوا اس کو ٹالنا مشکل نہ تھا ۔ لیکن کسی نے اس کی کوشش نہ کی ۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیوٹی پر موجود پولیس آفیسر کو معطل کیا گیا ہے۔
ادھر متاثرہ لڑکی کا بیان سامنے آنے سے مقامی لوگوں کو لینے کے دینے پڑے جب متاثرہ لڑکی سے الٹا الزام دے کر شہری کو پھنسانے کی سازش رچائی۔ اس دوران متاثرہ لڑکی کی ماں نے سرینگر میں اس بات کا اعتراف کیا کہ پولیس نے لڑکی سے زبردستی بیان دلوایا، تاہم اصل حقیقت سامنے نہیں آرہے ہیں اور عام لوگ کئی طرح کے قیاس آرائیاں کر رہے ہیں، کئی حلقوں میں اس بات پر زبردست دست غم و غصہ پایا جاتا ہے کہ لڑکی سے زبردستی بیان دلوایا گیا، کئی حلقے اس سوال کا جواب ڈھونٹے ہیں کہ اگر متاثرہ لڑکی اپنی مرضی سے بیان دیتی ہے تو انہیں حراست میں کیوں رکھا گیا، اب سوال یہ ہے کہ چاہیے سانحہ کیسے بھی واقع ہوا ہو پانچ شہریوں کی جانیں تو چلی گئیں اب چاہیے اس پر کتنا بھی شو رغوغہ کیوں نہ کیا جائے جان بحق ہوئے شہریوں کی جانیں واپس نہیں آسکتی ہے۔ تحقیقات کے احکامات وزیراعلیٰ کے بجائے اگر چہ وزیراعظم یا صدر ہند بھی جاری کریں تب بھی جان بحق ہوئے شہریوں کی جانیں واپس نہیں آسکتی ہے۔