خبریں

ہندوپا ک مذاکرات کی بحالی پر اتفاق

ہندوپا ک مذاکرات کی بحالی پر اتفاق

جب فرانس کی راجدھانی پیرس میں عالمی ماحولیاتی کانفرنس کے حاشئے پر وزیراعظم نریندر مودی اور پاکستانی وزیراعظم میاں نواز شریف کے درمیان دس روز قبل ہوئی ملاقات کے بعد دوطرفہ تعلقات میں وقوع پذیر ہوئی گرم جوشی کو آگے بڑھاتے ہوئے اعلان کیا گیا تھا کہ دونوں ممالک کے خارجہ سیکریٹری جامع مذاکرات کے شیڈول اور طریقہ کار طے کرنے کیلئے ملاقی ہونگے۔اس سلسلے میں اسلام آباد میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے پاکستانی مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے مختصر بات کرتے ہوئے کہا کہ جامع مذاکرات کو دوبارہ بحال کرنے پر دونوں ممالک متفق ہیں۔ ’’ان جامع مذاکرات میں پہلے کی طرح تمام حل طلب مسائل پر مذاکرات کئے جائیں گے اور ان میں کچھ نئی چیزیں بھی شامل کی گئی ہیں‘‘۔ ’دونوں ممالک کے سیکریٹری خارجہ کی سطح پر ہونے والی بات چیت میں جامع مذاکرات کا شیڈول اور طریقہ کار ترتیب دیا جائے گا ۔غور طلب ہے کہ وزیر خارجہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کے لئے پاکستان کے دورے پر گئی تھی جہاں انہوں نے پاکستانی مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقات کی۔سشما سوراج نے سرتاج عزیز کی موجودگی میں ایک مختصر سی پریس کانفرنس کے دوران ذرائع ابلاغ سے مختصر گفتگو میں کہا کہ دونوں ممالک کے مشیرانِ قومی سلامتی کے درمیان بینکاک میں ہونے والی ملاقات میں بات چیت دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حکام سے ملاقات میں جو بات چیت ہوئی ہے اس پر وہ بھارتی پارلیمان میں خطاب کے دوران تفصیل سے ذکر کریں گی۔ ملاقات کے حوالے سے تفصیلات مشترکہ اعلامیہ میں شامل ہونگیں اور وہ جلد ہی جاری کیا جائے گا جس کے کچھ وقت بعد ہی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے’’سرتاج عزیزاور وزیرخارجہ سشما سوراج کی ملاقات میں دہشتگردی کی مذمت کی گئی ہے اورملاقات میں دہشت گردی کے خاتمے میں تعاون کا عزم کیا گیا‘‘۔اعلامیہ کے مطابق دونوں لیڈران نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ بنکاک میں قومی سلامتی مشیروں کے درمیان دہشت گردی اور سیکورٹی امور پر کامیاب مذاکرات ہوئے اور فیصلہ لیاگیا کہ قومی سلامتی مشیران دہشتگردی سے جڑے تمام امور کے حل کیلئے مشترکہ طور کام جاری رکھیں گے۔جبکہ پاکستان کی جانب سے بھارت کوممبئی ٹرائل کوجلدمنطقی انجام تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، دونوں ملکوں نے اقتصادی وتجارتی تعاون پربھی جامع مذاکرات میں بات چیت کی۔اعلامیہ کے مطابق دونوں طرفین نے جامع مذاکرات کی بحالی پر اتفاق کیا‘‘۔اعلامیہ میں کہاگیا ہے’’خارجہ سیکریٹریوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ مذاکرات کے تحت آنے والے امور،جن میں امن و سلامتی ،اعتماد سازی اقدامات ،جموں وکشمیر ،سیاچن ،سرکریک ،ولر بیراج ،تلبل نیوی گیشن پروجیکٹ،معیشی و تجارتی اشتراک ،انسداد دہشت گردی ،نارکو ٹیکس کنٹرول، انسانی مسائل،عوامی رابطوں و فود کے تبالوں اور مذہبی سیاحت جیسے معاملات شامل ہیں،کیلئے شیڈول اور طریقہ کار ترتیب دیں گے‘‘۔اس سے قبل سشما سوراج نے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سے بھی ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر کرنے پر زور دیا۔ وزیراعظم ہاؤس پہنچنے پر وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے سشما سوراج کا والہانہ استقبال کیا۔ نواز شریف کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز، سیکریٹری خارجہ اعزاز سید اور مشیر برائے قومی سلامتی ناصر جنجوعہ کے علاوہ طارق فاطمی بھی موجود تھے۔وفود کی سطح پر ہونے والی باقاعدہ بات چیت سے قبل وزیراعظم نواز شریف نے اپنے وفد کا تعارف کروایا۔ نواز شریف نے جب مشیر برائے قومی سلامتی ناصر جنجوعہ کا تعارف کروایا تو وزیر خارجہ سوراج نے کہا ’’جی ان کا بہت سنا ہے‘‘۔پاکستان اور بھارت میں طویل وقفے کے بعد بات چیت کے راستے ہموار ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان پیرس میں ماحولیاتی کانفرنس کے دوران مختصر بات چیت ہوئی تھی جس کے بعد گذشتہ ہفتہ پاکستان اور بھارت کے مشیر برائے قومی سلامتی نے بینکاک میں ملاقات کی تھی۔پاکستان کا کہنا تھا کہ اس بات چیت میں کشمیر، دہشت گردی سمیت تمام مسائل زیر غور آئے اور دونوں ممالک نے مستقبل میں بھی تعمیری مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔گذشتہ تین برسوں کے دوران کسی بھی بھارتی وزیر خارجہ کا یہ پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حل طلب مسائل پر جامع مذاکرات کا سلسلہ 1998 میں شروع ہوا تھا۔ 1999 میں کرگل کی جنگ کے بعد یہ معطل ہو گئے۔ جس کے بعد 2004 اور 2005 میں جامع مذاکرات کے ایک ایک ادوار ہوئے تھے لیکن 2008 میں ممبئی حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہت کشیدہ ہو گئے تھے اور بات چیت کے تمام دروازے بند ہو گئے تھے۔ 2010 میں ’دوبارہ جامع مذاکرات‘ کے نام شروع ہونے والے مذاکرات 2012 میں دوبارہ ختم ہو گئے تھے اور اب دوبارہ ان مذاکرات کی بحالی کا اعلان کیاگیا۔اس سے قبل ہارٹ آف ایشیا ء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سشما سوراج نے کہا تھا کہ دنیا ہمیں دیکھ رہی ہے ،ہمیں چاہیے کہ برد باری کا مظاہرہ کریں ، انہیں مایوس نہ کریں۔ان کا کہناتھا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ اس رفتارسے تعاون کے لئے تیار ہے جس سے پاکستان کو سہولت ہو۔انہوں نے کہا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ ایک دوسرے سے تعلقات میں پختگی اور خود اعتمادی کا مظاہرہ کریں۔سوراج کا کہناتھا’’بھارت تیار ہے کہ اس رفتار پر تعاون آگے بڑھا ئے جس پر پاکستان آسانی محسوس کرے ، بھارت اپنی تجارت کے راستے پاکستان تک پھیلانا چاہتا ہے ، دنیا ہمیں دیکھ رہی ہے اور ہمیں دنیا کو مایوس نہیں کرنا چاہیے‘‘۔ سشما سوراج نے کہاتھا کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات انتہائی اہم ہیں ،افغانستان کے ساتھ تجارت کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے ، اقتصادی ترقی کے سوا افغانستان میں امن کا کوئی راستہ نہیں۔ انہوں نے کہاتھاکہ افغانستان کو بھارتی مارکیٹ تک براہ راست اور مکمل رسائی دی جائے جبکہ بھارت نے پاک افغان ٹریڈ اینڈ ٹرانزٹ ایگریمنٹ میں شامل ہونے کے لئے بھی باضابطہ خواہش کا اظہار کیا ہے۔دریں اثناء وزیر اعظم نریندر مودی اگلے سال سارک کانفرنس میں شرکت کیلئے پاکستان کا دورہ کریں گے۔اس بات کی جانکاری بھی وزیرخارجہ سشما سوراج نے دی۔اسلام آباد میں نامہ نگاروں سے گفتگو کے دوران سوراج نے کہا ’’ستمبر2016میں پاکستان میں سارک سربراہ کانفرنس منعقد ہورہی ہے اور وزیراعظم نریندر مودی اس کانفرنس میں شرکت کیلئے پاکستان آئیں گے اورمیں بھی وزیر اعظم کے ہمراہ ہوں گی‘‘۔ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ماحول میں گرمجوشی ہے اور اسی گرمجوشی کو بڑھانے کیلئے وہ پاکستان آئی ہیں۔قابل غور ہے کہ بھارت کی جانب سے کسی وزیراعظم نے آخری بار2004میں پاکستان کا دورہ کیاتھا اور اْس وقت وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی جنوری 2004میں پاکستان گئے تھے جہاں انہیں اْس سال پاکستان میں منعقد ہونیو الے سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت کرنا تھی۔