اداریہ

ہندپاک مذاکرات: صورتحال موزون نہی

جب جب بھی ہندپاک کے درمیان مذاکرات کا عمل شروع ہوتا ہے اوراس کے نتیجہ میں جو کچھ طے ہوتا ہے وہ عملدرآمد میں ناکام ہی رہتا ہے۔ اسی طرح جب بھی دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی اسٹیج سجایا جاتا ہے تو مذاکرات سے قبل ہی دونوں ملکوں میں کشیدگی کا پہلو سامنے آجاتا ہے، اس طرح سے مذاکراتی عمل کو سبوتاز کیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر خارجہ سلمان خورشید نے اعتراف کیا ہے کہ ہندوپاک سرحدوں پر صورتحال فی الوقت ٹھیک نہ ہونے کے سبب پاکستان کیلئے مذاکرات کا موزون وقت نہیں ہے۔نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے سلمان خورشید نے کہا کہ بھارت کے5فوجیوںکی سرحد پر موت کے گھاٹ اتاردیا گیاجہاںجنگ بندی کی خلاف ورزیاں معمول بن گئیں ہیں، اس سے ثابت ہوجاتا ہے کہ سرحد پر فی الوقت سب کچھ ٹھیک نہیں۔پاکستان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے حوالے کے ایک سوال کے جواب میں خورشید نے جنگ بندی کی حالیہ خلاف ورزیوں کے پیش نظر کسی بھی مذاکراتی عمل کے امکان کو خارج ازامکان قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ فی الوقت صورتحال مذاکرات کیلئے موزون نہیں ہے۔وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا146146مذاکرات کیلئے بھی کچھ وضع کردہ اصول ہیں،ان کی عدم موجودگی میں مذاکرات یا تو مشکل یا پھر ناممکن بن جاتے ہیں یا صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کی صورت میں یہ عمل معطل کیا جاتا ہے145145
ایک عمومی تصور یہ ہے کہ دونوں ملکوں کی اسٹیبلشمنٹ مذاکرات کی حامی نہیں ا ور بہتر تعلقات ان کے ایجنڈے کا حصہ نہیں، جبکہ سیاسی محاذ پر دونوں ملکوں کی قیادت مذاکرات سمیت تعلقات میں بہتری میں زیادہ سنجیدہ ہیں۔ اگرچہ سیاسی محاذ پر یہ بات بہت زیادہ پاکستان کے بارے میں کہی جاتی ہے کہ یہاں بھارت کے مقابلے میں اسٹیبلشمنٹ کا زیادہ کنٹرول ہے۔ لیکن بھارت میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے تناظر میں بھارت کی اسٹیبلشمنٹ کا سیاسی فیصلوںپر کافی اثر نفوذ ہے۔مثال کے طور پر جب پچھلے چند ماہ قبل لائن آف کنٹرول پر دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی تو وہاں بھار ت کی فوج کے سربراہ کو پاکستان کے خلاف براہ راست پریس کانفرنس کرنا پڑی۔ بھارت جیسے جمہوری ملک میں سیاسی قیادت کی موجودگی میں آرمی چیف کی پریس کانفرنس نے بہت سے لوگوں کو تنقید کا موقع فراہم کیا اور تنقید کرنے والوں کو یہ کہنا پڑا کہ یہ عمل بھارت کی جمہوریت کے لیے کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔