اداریہ

ہندپاک ڈی جی ایم اوز ملاقات

پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کی گذشتہ روز لاہور میں واہگہ بارڈر پر چودہ سال بعد ملاقات ہوئی جس میں لائن آف کنٹرول پر سیزفائر برقرار رکھنے پر اتفاق ہوا۔ ملاقات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق پاکستانی وفد کی قیادت پاک فوج کے ڈی جی ایم او میجر جنرل عامر ریاض جب کہ بھارتی وفد کی قیادت بھارتی فوج کے ڈی جی ایم او لیفٹیننٹ جنرل ونود بھاٹیا نے کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات خوشگوار، مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئی، دونوں ڈی جی ایم اوز نے کنٹرول لائن پر جنگ بندی برقرار رکھنے اور سیز فائر معاہدے کے احترام کے عزم کا اظہار کیا۔
پاک بھارت سیاسی و عسکری تاریخ کے پورے نفسیاتی تناظر میں دیکھا جائے تو لائن آف کنٹرول پر تناو، کشیدگی، سرحدی جھڑپوں اور سیز فائر خلاف ورزیوں کے واقعات آخر کار جنگ کے شعلوں کو بلند کرنے کا باعث بنتے رہے ہیں، اس اعتبار سے ایک طویل عرصے کے تعطل کے بعد دونوں ملکوں کے ڈی جی ایم اوز کی ملاقات ایک بریک تھرو ہے اور امن و مفاہمت کے سلسلے کا یہ دو طرفہ پیغام درحقیقت خطے کو جنگ کے خطرات اور اس تباہی سے بچانا ہے جو کسی بھی لمحے کشیدگی اور بداعتمادی کے باعث کروڑوں انسانوں کے مستقبل کو ہلاکتوں کی نذر کرنے کی پوری قوت رکھتی ہے، کیونکہ پاکستان اور بھارت خطے کے دو ایٹمی ملک ہیں جو برطانوی سامراج سے آزادی کے بعد سے امن کی تلاش میں کبھی ’جنگ سے نفرت امن سے محبت‘ کی شاہراہ پر بوجوہ نہیں آ سکے جب کہ زمینی حقائق چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ بھارت مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور غیر عسکری حل پر بات چیت کے لیے دو قدم آگے بڑھائے تو پاکستان خطے میں امن و سلامتی کے سفر کی تکمیل کے لیے پہلے سے زیادہ پر جوش کردار ادا کرنے کو تیار ہے، لیکن بدقسمتی یہ رہی کہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے اندر پاکستان سے مخاصمت رکھنے والے جنگجو عقابوں کی ہمیشہ جیت ہوتی رہی اور امن کے علمبرداروں کو مایوسی اور بے منزل سفر کے راہی ہونے کا دکھ رہا۔
اس صورتحال کا سارا ملبہ ان مظلوم کشمیریوں پر گرتا رہا جو اپنے حق خودارادیت کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر اور قراردادوں کی روشنی میں پائیدار حل کے آج بھی منتظر ہیں۔ اس لیے اس استدلال میں وزن ہے کہ جب تک لائن آف کنٹرول پر موجود تناو اور کشیدگی کا مستقل خاتمہ نہیں ہو جاتا، امن، خیر سگالی، ترقی، مفاہمت اور تعلقات کی بحالی، مکالماتی عمل کی کامیابی اور خطے میں غربت، پسماندگی، جنگی جنون، ایٹمی اسلحے کی دوڑ کے خاتمے اور امن کی منزل تک پہنچنے کے خوابوں کی تعبیر نہیں مل سکے گی۔ اگرچہ ڈی جی ایم اوز کی میٹنگ بھی کافی تعطل کا شکار رہی جب کہ ستمبر میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے درمیانی وقفے میں وزیر اعظم نواز شریف اور بھارتی وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے درمیان ایل او سی کا معاملہ زیر غور آیا تھا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ یہ میٹنگ ضرور ہونی چاہیے، چنانچہ گزشتہ روز ہوئے مفید مذاکرات اور ملاقات میں طے پایا کہ اعتماد سازی کے موجودہ میکنزم کو برقرار رکھا جائے گا اور نہ صرف انھیں مزید تقویت دی جائے گی بلکہ ڈی جی ایم اوز کے درمیان ہاٹ لائن رابطے کو مزید موثر اور نتیجہ خیز بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
ملاقات میں ایک اور انسانی مسئلہ پر خاص توجہ دی گئی جو لاعلمی میں سرحد عبور کرنے والے بدنصیب شہریوں کی گرفتاری اور انھیں قید میں رکھنے سے متعلق تھا۔ اس ضمن میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ غلطی اور نادانستگی سے کنٹرول لائن پار کرنے والے شہریوں کے بارے میں ایک دوسرے کو فوری اطلاع دی جائے گی تا کہ ان کی واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس ملاقات کی مثبت روح کو آگے بڑھانے کے لیے اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ بریگیڈ کمانڈرز کی مستقبل قریب میں دو فلیگ میٹنگز ہوں گی تا کہ کنٹرول لائن پر امن برقرار رکھا جا سکے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے مطابق پاک بھارت ڈی جی ملٹری آپریشنز کی ملاقات کا فیصلہ سیاسی سطح پر ہوا۔ یہ اس امر کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اس معاملے پر ایک ہے۔ دونوں ڈی جی ایم اوز نے سیز فائر معاہدے کو مزید موثر بنانے کا جائزہ لیا تا کہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر کشیدگی کم ہو۔
دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی ملاقات میں پاکستان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں دیوار قائم کرنے کے حوالے سے اپنے موقف کے بارے میں بتایا اور بلا اشتعال بھارتی فائرنگ سے پاکستان میں ہونیوالے جانی اور مالی نقصان کے حوالے سے بھی اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ملاقات کے بعد وطن واپس پہنچنے پر بھارت کے ڈی جی ایم او ونود بھاٹیا نے کہا کہ ان کی پاکستانی ہم منصب سے دوستانہ ماحول میں تفصیلی اور مفید بات چیت ہوئی۔ انڈین ایکسپریس نے اپنی اشاعت میں اس بات چیت کو 14 سالہ وقفے کے خاتمے سے تعبیر کیا ہے اور اسے وسیع تر مکالمہ قرار دیا ہے۔ ادھر بھارتی بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کا 13رکنی وفد ڈائریکٹر جنرل شری سبھاش جوشی کی قیادت میں پانچ روزہ دورے پر لاہور پہنچ گیا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ 1999ء کی کرگل جنگ کے بعد پہلی ہمہ گیر بات چیت کا ابتدائیہ ہے۔
دوران گفتگو کئی مسائل کا احاطہ کیا گیا جن میں رینجرز نے بارڈر پر بھارت کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ‘ غیر قانونی تعمیرات اور منشیات کی اسمگلنگ پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا اور بھارت پر زور دیا کہ وہ نہ صرف بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ بند کرے بلکہ غیر قانونی تعمیرات اور منشیات کی اسمگلنگ بھی روکی جائے۔ بھارتی وفد نے28 دسمبر تک لاہور میں قیام کیا، اس دوران دونوں وفود کے درمیان مزید ملاقاتیں بھی ہونگی۔امید کی جانی چاہیے کہ ملاقاتوں کے تسلسل سے بد اعتمادی کی دھند مزید چھٹ جائے گی اور سرحدی خلاف ورزیوں کے الزامات اور جوابی الزامات کے بجائے فوکس اس بات کو کیا جائے گا کہ دونوں طرف سے توپوں کی گھن گرج بند ہو، اعتماد سازی کے عمل کو کوئی دھچکا نہ لگے، لائن آف کنٹرول کے تزویراتی وقار، عسکری تقدس اور دو طرفہ احترام کو ملحوظ خاطر رکھا جائے اور امن کے کاز کو آگے بڑھایا جائے