مضامین

ہندپاک کشیدگی ذمہ دار کون؟

سلمان عابد

پاکستان بھارت تعلقات کی کہانی میں کافی اتار چڑھائو ہی آتا رہتا ہے لیکن بگاڑ کا پہلو نمایاں رہا ہے۔اگرچہ دونوں ملکوں میں تعلقات کی بہتری کے لیے مذاکرات کے کئی ادوار ہوئے،لیکن کبھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکے۔ اس کی ایک بڑی وجہ دونوں ملکوں کے درمیان ہر سطح پر بداعتمادی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان اچھے تعلقات کا قائم ہونایقینا وقت کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ہمسائے کے طور پر دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ جنگ اور دشمنی کے ماحول میں زندہ نہیں رہ سکتے۔لیکن اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بحالی عالمی سیاست کا حصہ بن گئی ہے۔یہی وجہ ہے دورہ پاکستان کے موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی کہا ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت متفق ہوں تو وہ مسئلہ کشمیر پر دونوں ممالک کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔اس سے قبل امریکہ بھی کئی مواقع پر کہہ چکا ہے اگر تعلقات کی بہتری میں امریکہ دونوں ملکوں کی کوئی مدد کرسکتا ہے تو وہ اس کے لیے بھی تیار ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اگلے ما ہ اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان اور بھار ت کے وزیراعظم نواز شریف اور ڈاکٹر من موہن سنگھ کے درمیان ہونے والی ملاقات کو سیاسی محاذ پر بہت زیادہ اہمیت دی جارہی ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان بحران کی کیفیت کا اندازہ لگائیں کہ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کو تعلقات کی بہتری میں امریکہ کی زمین اور امریکی حکومت کی مدد کی ضرورت پڑرہی ہے۔ اس حوالے سے دو پہلو نمایاں ہیں۔ اول دونوں ممالک میں اعتماد سازی کا بحران ہے اور کوئی تیسرا فریق اس میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ دوئم دونوں ممالک میں تعلقات کی بہتری یا مذاکرات کے عمل میں جو گرم جوشی پائی جاتی ہے وہ ان کی اپنی کم اور امریکہ کی زیادہ ہے۔ یعنی دونوں ممالک پر امریکی دبائو ہے کہ وہ تعلقات کی بہتری میں کوئی پیش رفت کو آگے بڑھائیں۔
جب بھی دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا عمل ہوتا ہے اوراس کے نتیجہ میں جو کچھ طے ہوتا ہے وہ عملدرآمد میں ناکام رہا ہے۔ اسی طرح جب بھی دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی اسٹیج سجایا جاتا ہے تو مذاکرات سے قبل ہی دونوں ملکوں میں کشیدگی کا پہلو سامنے آجاتا ہے، جو مذاکرات کے عمل کو سبوتاز کرتا ہے۔ایک عمومی تصور یہ ہے کہ دونوں ملکوں کی اسٹیبلشمنٹ مذاکرات کی حامی نہیں ا ور بہتر تعلقات ان کے ایجنڈے کا حصہ نہیں، جبکہ سیاسی محاذ پر دونوں ملکوں کی قیادت مذاکرات سمیت تعلقات میں بہتری میں زیادہ سنجیدہ ہیں۔ اگرچہ سیاسی محاذ پر یہ بات بہت زیادہ پاکستان کے بارے میں کہی جاتی ہے کہ یہاں بھارت کے مقابلے میں اسٹیبلشمنٹ کا زیادہ کنٹرول ہے۔ لیکن بھارت میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے تناظر میں بھارت کی اسٹیبلشمنٹ کا سیاسی فیصلوںپر کافی اثر نفوذ ہے۔مثال کے طور پر جب پچھلے چند ماہ قبل لائن آف کنٹرول پر دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی تو وہاں بھار ت کی فوج کے سربراہ کو پاکستان کے خلاف براہ راست پریس کانفرنس کرنا پڑی۔ بھارت جیسے جمہوری ملک میں سیاسی قیادت کی موجودگی میں آرمی چیف کی پریس کانفرنس نے بہت سے لوگوں کو تنقید کا موقع فراہم کیا اور تنقید کرنے والوں کو یہ کہنا پڑا کہ یہ عمل بھارت کی جمہوریت کے لیے کوئی اچھا شگون نہیں۔
پاکستان میں نوازشریف کی صورت میں ایک نئی جمہوری حکومت سامنے آئی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف جنھیں عمومی طور پر دائیں بازو کا حامی سیاست دان سمجھا جاتا ہے، وہ بھی بھارت کے ساتھ تعلقات میں کافی گرم جوشی رکھتے ہیں۔ ان کی یہ گرم جوشی حالیہ دنوں میں پیدا نہیں ہوئی بلکہ وہ اپنی سابقہ حکومت کے درمیان بھی کافی گرم جوش تھے۔ اس وقت کے بھارتی وزیراعظم اور بی جے پی کے سربراہ اٹل بہاری واجپائی کا دورہ پاکستان اور وہاںدونوں ملکوں کے درمیان اعلان لاہور کو بہت زیادہ سیاسی اہمیت حاصل ہے۔جنرل پرویز مشرف کے دورہ بھار ت میں بھی یہ گرم جوشی کے کئی پہلو دیکھے جاسکتے تھے، لیکن کرگل کے واقعہ نے دونوں ملکوں کے درمیان جو تھوڑی بہت اعتماد سازی پیدا کی تھی وہ بھی کارگر ثابت نہیں ہوسکی۔ بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کے حامیوں کا اصرار ہے کہ کرگل کے واقعہ نے تعلقات کی بہتری کے امکانات کو پس پشت ڈال کر دونوں ممالک کو دیوار کے ساتھ لگانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔بہرحال پاکستان میں اب نواز شریف دوبارہ وزیراعظم کے منصب پر فائز ہوئے ہیں تو انھوں نے ابتدا ہی میں بھارت کے ساتھ تعلقات کی بہتری کو اپنی بنیادی ترجیحات کا حصہ قرار دیا۔ اسی طرح بھارت میں بھی پاکستان کی جمہوریت اور نواز شریف کا دوباہ وزیراعظم بننے کے عمل کو کافی سراہا اور اقدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔بھارت کی سیاسی اشرافیہ کاخیال ہے کہ نوازشریف بطور وزیراعظم دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری میں سیاسی کنجی کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔اس طبقہ کا خیال ہے کہ کیونکہ نواز شریف دائیں بازو کے راہنما ہیں اور اس طبقہ میں بھارت کے خلاف کافی تحفظات موجود ہیں۔ اس لیے جب نواز شریف بطور وزیراعظم بھارت کے ساتھ تعلقات کی پیش رفت میں آگے بڑھیں گے تو ان کی اندرون ملک سیاسی حمایت مفید ثابت ہوگی۔ اسی طرح تجارت کے معاملے میں پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کی دلچسپی پیپلز پارٹی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ پاکستان کا سرمایہ دار طبقہ اور کاروباری طبقہ بھی نواز شریف کے اس ایجنڈے کی حمایت میں کھڑانظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں ملک میں نواز شریف کی بھارت کے ساتھ تعلقات کی حمایت میں کچھ لوگ سرگرم ہیں تو کچھ ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیںجو بھارت کے ساتھ حالیہ مذاکرات کے بارے میں اپنے شدید تحفظات رکھتے ہیں۔ان میں ایک بڑا اور معتبر نام معروف کشمیر ی راہنما سید علی گیلانی کا بھی ہے۔ سید علی گیلانی نے ایک معروف صحافی کو دیے گئے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں نواز شریف کی نئی حکومت اور بھارت کے ساتھ مذاکرات پر جو تحفظات اٹھائے ہیں وہ بھی قابل ذکر ہیں۔ ان کے بقول 146146ہمیں وزیراعظم نواز شریف کی نئی حکومت سے بہت زیادہ توقعات تھیں، لیکن مسند اقتدار پر پہنچنے کے بعد دیکھنے میں آرہا ہے کہ وہ تو بھارت سے تعلقات اور تجارت کے لیے بے چین ہیں، جس کا فائدہ بھارت نے اٹھاتے ہوئے وادی کے اندر دہشت گردی میں کئی گنا اضافہ کردیا ہے۔ہمارے ساتھ جو جبرو تشدد ہورہا ہے اس پر پاکستان کی حکومت تجاہل عارفانہ کی پالیسی پر گامزن ہے۔ان کے بقول بھارت کے ساتھ وزیراعظم نواز شریف کو بیک ڈور ڈپلومیسی مبارک ہو۔بظاہر تو کہا جاتا ہے کہ کشمیر پاکستان کے لیے کور ایشو ہے، لیکن عملا پاکستان کی حکومت گومگو کی کیفیت سے دوچار ہے۔انھوں نے پاکستان کے عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ حکومت پر دبائو ڈالیں کہ وہ کشمیر کی پالیسی پر نظر ثانی کریں اورایسی پالیسی کو بروئے کار لائے جو پاکستان اور کشمیری عوام کی امنگوں سے مطابقت رکھتی ہو۔ گیلانی نے کہا کہ تقریباً 55مذاکراتی ادوار کے باوجود بھارت کے موقف میں کوئی لچک نہیں آئی اورہمیں اپنے موقف سے دست بردار ہونے کو کہا جارہا ہے جو ہمیں قابل قبول نہیں۔145145یہ موقف محض سید علی گیلانی کا ہی نہیں بلکہ مجموعی طور پر پاکستان میں یہ رائے پائی جاتی ہے کہ حکومتی سطح پر اب کشمیر کا معاملہ پس منظر میں دھکیلا جارہا ہے۔بھارت اورامریکہ کے دبائو کے باعث اب پاکستان کو کہا جارہا ہے کہ اب وہ تجارت اور ثقافت کی مدد سے تعلقات کو بہتر بنائے اور مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈال کر بات آگے بڑھائی جائے۔ یہ تاثر حکومت پاکستان اور بالخصوص کشمیری قیادت کے لیے اچھا نہیں اورہمیں جو بھی معاملہ آگے بڑھانے ہیں اس میں کشمیری قیادت کو اعتماد میں لے کر ہی آگے بڑھنے میں حکومت اور پاکستان کا مفاد ہوگا۔ کیونکہ اگر اس کے برعکس معاملات کو آگے بڑھایا جاتا ہے تو اس سے خود حکومت پاکستان کے بارے میں بداعتمادی پیدا ہوگی۔
یہاں یہ کہنے کا مقصد نہیں کہ پہلے کشمیر کا مسئلہ حل کرو باقی معاملات بعد میں دیکھیں جائیں گے۔بلکہ مقصد یہ ہے کہ مذاکرات کے عمل میں جہاں دیگر امور زیر بحث آئیں وہیں کشمیر کے مسئلہ کو بھی اہمیت دی جائے۔ 1998میں جب بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی پاکستان گئے اور اعلان لاہور کیا تو اس میں یہ تسلیم کیا گیا تھا کہ کشمیر ایک متنازعہ معاملہ ہے اور اسے بات چیت کی مدد سے حل کیا جانا چاہیے۔ اس لیے اب جب نواز شریف دوبارہ وزیراعظم بنے ہیں تو انھیں اعلان لاہور اور اپنے اس موقف سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔یہ بات ٹھیک ہے کہ مذاکرات میں hot issuesکو فوری طور پر بحث کا حصہ بنایا جائے تو بات چیت کے دروازے بند ہوجاتے ہیں۔ لیکن یہ بات مت بھولی جائے کے ہم پچھلے 65سالوں سے محض مذاکرات ہی کررہے ہیں اوراس کا نتیجہ نہ نکلنا دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں۔ تجارت اور ثقافت دونوں کو ترجیح دے کر بھی ہم نے نتائج نکالنے کی کوشیش کی، لیکن یہ عمل بھی ابھی تک بے سود رہا ہے۔اب جب پاکستان اور بھار ت کے درمیان پاکستان میں نئی جمہوری حکومت کے قیام کے بعد دوبارہ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکراتی عمل شروع ہونے جارہا ہے تو یہ اچھی بات ہے اور ہمیں اس کی قدر بھی کرنی چاہیے۔لیکن ابھی کیونکہ مذاکرات کا عمل شروع نہیں ہوا اور اس کے لیے دونوں حکومتیں سیاسی فضا ہموار کرنا چاہتی ہیں، مگر بدقسمتی سے پچھلے دو ہفتوں میں لائن آف کنٹرول پر دونوں ملکوں کی فوج میں جو کشیدگی پیدا ہوئی اس نے مذاکرات کے عمل کے رنگ میں بھنگ ڈال دیا ہے۔اگرچہ بھارتی فوجیوں کی ہلاکت پر بھار ت کے وزیر دفاع اے کے انٹونی نے اعتراف کیا تھا کہ اس میں پاکستان یا وہاں کی فوج ملوث نہیں۔ لیکن پھر جس انداز میں بھارتی پارلیمنٹ میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی اور وزیر دفاع کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا توانھیں یوٹرن لے کر بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کا الزام پاکستان پر لگانا پڑا۔بھارت کی پارلیمنٹ کے بیشتر ارکان نے کھل کر پاکستان پر الزام تراشیاں عائد کی اور کہا کہ ان کا حل مذاکرات نہیں بلکہ فوج کی طاقت کے استعمال پر ہے۔اسی طرح دہلی میں پاکستان کے سفارت خانے پر احتجاج اور توڑ پھوڑ، دوستی بس سروس کے مسافروں کو روکنا اور دھکیاں دینا، پی آئی اے کے عملہ کے ساتھ بدسلوکی اور دہلی سمیت بعض علاقوں میں پاکستانی پرچم کو جلائے جانے کے واقعات مسائل کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔
پاکستان ایک ایسے موقع پر بھار ت کے ساتھ مذاکرات کے عمل میں جارہا ہے جب بھارت کی سیاست میں انتخابات کی گہما گہمی ہے۔ مئی 2014میں یہاں عام انتخابات متوقع ہیں۔ لیکن اسی برس نومبر میں یہاں کی چار اہم ریاستوں دہلی، راجستھان،مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے انتخابات ہونے والے ہیں۔ بھار ت کی سیاست کا ایک بحران یہ بھی ہے کہ وہاں پاکستان دشمنی کے نام پر سیاست میں شدت پیدا کرکے ووٹ کے حصول کی سیاست کی جاتی ہے۔ اس لیے جب ایک طرف بھارت مذاکرات کی جانب آگے بڑھے گا تو اس کی داخلی سیاست سے اپنی ہی حکومت کے خلاف آوازیں اٹھیں گی۔ بی جے پی نے تو مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ اقوام متحدہ کے اجلاس میں پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات سے انکار کردیں۔ ایک خدشہ یہ بھی ہے کہ اگر نومبر میں چار ریاستوں کے انتخابات کے نتائج کانگریس کے خلاف آتے ہیں تو پھر عام انتخابات کے لیے کانگریس بھی پاکستان مخالف کارڈ انتخابی سیاست میں کھیل سکتی ہے۔ پاکستان میں تو نئی حکومت کو اگلے پانچ برس کا مینڈیٹ مل گیا ہے، جبکہ اس کے برعکس بھارت کی حکومت اور کانگریس ان مذاکرات کو بنیاد بناکر نئے مینڈیٹ کے حصول میں سنجیدہ ہے۔ لیکن کیونکہ بھارت کی سیاست کی باریک بینی کو سمجھنے والے اعتراف کریں گے کہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کے اندر سیاسی انتہا پسند زیادہ غالب ہیں۔سنیئر اخبار نویس کلدیپ نائرجن کے بقول اگر دونوں ملکوں میں تعلقات کے فیصلے بھارت ا ور پاکستان کے انتہا پسند عناصر نے کرنے ہیں تو پھران ملکوں کا خدا ہی حافظ ہے۔ کلدیپ نیئر اعتراف کرتے ہیں کہ بھارت کی جمہوری سیاست میں انتہا پسند عناصر کا قبضہ ہے اور وہ بھار ت کی جمہوری سیاست پر اثرانداز ہورہے ہیں۔اسی طرح اگر اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا عمل ہوتا بھی ہے تو ان کی کامیابی کے امکانات کا بڑا انحصار محض اس بات پر ہوگاکہ انتخابات میں کانگریس دوبارہ کامیابی حاصل کرے، لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر مذاکرات اوراس میں کیے گئے فیصلوں کو نئی بھارتی حکومت آسانی کے ساتھ قبول نہیں کرے گی، جو مزید مسائل کو پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔