نقطہ نظر

ہند پاک تعلقات ایک نئی راہ پر گامزن

ہند پاک تعلقات ایک نئی راہ پر گامزن

عمران خان نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ ’’پاک بھارت ڈائیلاگ بھارت کے مفادات میں ہے کیونکہ پاکستان کے ساتھ تمام مسائل حل کرکے وہ وسطی ایشیاء کے ممالک تک راہداری پاسکتا ہے‘‘ ظاہر ہے کہ ’’ راہداری ‘‘کی بات پہلی بار شاید کسی پاکستانی وزیر اعظم نے کی ہے جو ہند پاک تعلقات میں ایک نئے باب کا دروازہ بھی کھول سکتی ہے ،، عمران خان کا یہ بیاں اپنے اس بیان کے بالکل متوازی اور بر خلاف ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ ۵اگست کے تمام فیصلوں کو جب تک کالعدم نہیں کیا جاتا بھارت سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی ‘‘ حالیہ بیان پاکستان کا آفیشل موقف بھی تسلیم کیا جاسکتا ہے ،لیکن پہلے یہ کہ روائتی حریف پاک بھارت کے درمیان پچھلے مہینے اچانک سیز فائر یعنی جنگ بندی کا اعلان ہوا ، بالکل ناگاہ ،، اچانک اور خاموشی کے ساتھ ، جس طرح سے یہ خبر ایک چھوٹی سی خبر بناکر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے سے تشہیر پا گئی وہ بھی اپنی جگہ پر اچنبھے سے کم نہیں کیونکہ اتنی بڑی خبربالکل اتنی خاموشی کے ساتھ دی جائے تو معاملہ کچھ اور ہی لگتا ہے ، اس کے ساتھ ہی بھارتی چیف آف آرمی سٹاف نے پہلے اپنی زباں کھولتے ہوئے پورے عزم کے ساتھ یہ بات کہی کہ ہم اس جنگ بندی کو کامیاب بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڈیں گے اور یہ کہ صبر کا مظاہرہ بھی کریں گے ، ، دوسری طرف سے بھی کچھ ایسے ہی احساسات کا اظہار ہوا،،، ہند پاک جنگ بندی ہو ، اپنے آپ میں معمہ ہے اور دوئم یہ کہ جس طرح اچانک اس کا اعلان بڑی خاموشی سے ہوا ہے یہ بذات خود ایک الجھن ہے اور تیسری اہم بات یہ کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ کہیں پر ہند پاک کے درمیان ٹریک ٹو ڈپلومیسی جاری ہے ، اس کی اپنی وجوہات ہیں جو پچھلے کئی برسوں سے واشگاف انداز میں ظاہرہیں ، یہ برتن جو پچھلے کئی برسوں سے ابل رہا تھا اسطرح اچانک ٹھنڈا نظر آئے ، سمجھ سے باہر ہے کئی بار ایسے ابال بھی آئے کہ بھارت، پاکستان کے درمیان جنگی صورتحال بھی پیدا ہوئی ، اتناہی نہیں بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ بھارتی ائر سٹرائیک کے بعد تو بھر پور جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی جس میں بھارت کے کئی جنگی بمبار اوران ہی ذرائع کے مطابق پاکستان کا ایک ایف سولہ بھی مار گرایا گیا تھا ، ائر فورس جوان ابھینندن کا معاملہ تو ابھی تک سبھی لوگوں کے ذہن میں ہوگا جس سے پاکستان نے پکڑ کر فوری طور رہا کیا تھا،، ایک طرف تو یہ نازک معاملات ، انتہائی درجے کی کشیدگی اور دو سری طرف بھارت کی اندرونی سیاست ،جس میں پاکستان سب سے بڑا مدعاہوتا ہے، جس کے ہوتے ہوئے بی جے پی کے ا نتخابات جیتنے کے لئے کسی اور مدعے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی ،،ان حالات کے پسِ منظر میں سرحدوں پر جنگ بندی کوئی معمولی اور چھوٹی بات نہیں ، لیکن یہ بھی حیران کُن بات ہے کہ بھارتی الیکٹرانک میڈیا کے نام نہاد ایکسپرٹس ، جو ، رائی کا پربت بنانے میں اپنی مثال آپ ہیں ،نے۔ نہ تو اتنی بڑی اور اچھی خبر کو پر جوش انداز میں پیش کیا اور نہ فوری طور پر ٹی وی شوز میں شور شرابہ کرتے نظر آئے ،، سب کچھ خاموشی کے ساتھ ہوا اور یہ خاموشی کسی اور ہی طوفان کا پیش خیمہ بنتی ہے کہ نہیں ابھی دیکھنا باقی ہے ، فی الحال اس کے پس منظر کو جتنا ہم سمجھے ہیں وہ یہ کہ ،، آپ کو یاد ہوگا کہ چین بھارت کے درمیان پچھلے برس زبردست تناؤ اور کشیدگی رہی ، اس کشیدگی نے بھی اس وقت جنگی صورتحال پیدا کی جب بھارت کے تیس یا چالیس جوان چینی افواج کے ہاتھوں مارے گئے ، چینی افواج نے بقول بھارتی ذرائع کے اس علاقے میں گھس پیٹھ کی جو بھارت کا حصہ ہے اور اس میں جھیل پینگوگ بھی شامل ہے ، ابھی متضاد خبریں ان معاملات کے بارے میں موصول ہورہی ہیں لیکن بھارتی اور چینی ذرائع سے اس بات کی تصدیق ہوچکی ہے کہ دونوں ممالک کسی معاہدے پر پہنچ چکے ہیں۔ کشیدگی کم ہوچکی ہے ، اس بات سے ہمیں کوئی غرض نہیں کہ کس نے کیا دیا اور کس نے کیا لیا ۔ کیونکہ بھارت کی پارلیمنٹ میں بھی یہ بیان دیا جاچکا ہے کہ چینی افواج ایک سمجھوتے کے تحت واپس اپنی اصل جگہ پر لوٹ چکی ہے اور یہ بھارت کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے ۔اس کے بعد ان امورات پر بحث کی گنجائش ہمارے پاس نہیں رہتی ، بہر حال معاہدہ ہوچکا ہے ، جواس لحاظ سے حیران کن تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نے اپنے بیان میں پہلے ہی واضح کیا تھا کہ بھارت کی سر حد میں کوئی گھس پیٹھ نہیں ہوئی ہے ، ،،، ماننا پڑے گا کہ ایسا ہی رہا ہوگا ، تو معاہدہ صلح کس بات پر؟ ،،،، اس پسِ منظر میں اچانک ہی بھار ت پاک کی سرحدیں بھی خاموش ہوجاتی ہیں ،،،کیا یہ ایک معمہ نہیں ،، ؟ اور کیا بھارت چین کے معاہدے سے بھی اس کا کوئی تعلق بنتا ہے ؟ یہ بہت سارے سوالات اپنی جگہ پر اہم ہیں ۔ ، ظاہر ہے کہ جب جنگ بندی پر عمل ہو رہا ہے کیونکہ سرحدوں پر مکمل خاموشی ہے اور اس کے ساتھ ہی کچھ اور معاملات میں بھی پیش رفت ہورہی ہے ، پاکستان کا ایک وفد بھی بھارت آچکا ہے،سفارتی تعلقات جو منقطع ہیں استوار ہونے کے اشارے مل رہے ہیں ۔ اس کے بعد تجارتی معاملات پر بھی بات چیت ہوگی،اور یہ سب عجلت کے ساتھ اُس وقت ہوہا ہے جب بھارت کی پانچ ریاستوں میں الیکشن ہونے والا ہے اور اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ اسی دوران پاکستان کے ساتھ یہ رابطے بھی آگے بڑھیں گے ، پاکستانی چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر باجواہ نے بھی اپنی طرف سے ایک اہم اور بالکل ہی نئے زاوئے کا بیان دیا ہے جو نہ صرف ہٹ کر ہے بلکہ اس کے اندر بھی تلاش پر بہت سارے نئے خدو خال ابھر کر سامنے آجاتے ہیں،، انہوں نے گذشتہ ہفتے کئی قدم آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ، ’’وقت آگیا ہے کہ پاک بھارت ،دونوں ممالک کو اپنا ماضی دفن کرکے آگے بڑھنا ہوگا ، اس میں کوئی دو رائیں نہیں کہ جو دنیا کی نئی صف بندی ہورہی ہے اس میں یورپ کا اتنا رول نہیں رہے گا جتناکہ ایشیائی خطے کا ہوگا کیونکہ ، چینی ٹیکنالوجی ، روس و بھارت جیسے بڑے ممالک کے ہوتے ہوئے دیکھا جائے تو خستہ حال امریکہ اب اپنی پہلی پوزیشن پر نہیں اور بھارت اگر مفلسی، غربت اور اندرونی مسائل سے کسی طرح فراغت حاصل کرتا ہے تو چین کے ساتھ ساتھ کھڑا ہوسکتا ہے لیکن ، وہاں تک پہنچنے کے لئے آس پاس امن و اماں اور ساز گار ماحول کا موجود ہونا ضروری ہے جو ہمسائیوں کے ساتھ ہم آہنگی اور مفاہمت کے بغیر ممکن نہیں، کیا اس لحاظ سے بھارت کوئی یو ٹر ن لے رہا ہے ،؟ یہاں سوچ و فکر کی راہ فی ا لحال اس لئے مسدود ہوجاتی ہے کہ زمینی سطح پر بھارت کے اندر کوئی نئی اور کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں دکھائی پڑتی ، جمہوری قدریں اسی طرح پامال ہیں ، اور ہر نئے دن کے ساتھ جمہوری بنیادیں ہلتی اور ڈھتی نظر آرہی ہیں ، آر ایس ایس کا روڈ میپ پوری قوت کے ساتھ جاری و ساری ہے اور اس روڈ میپ میں پاکستان کے ساتھ کوئی بھی مفاہمت اور جنگ بندی اس ٹریک سے ہی اترنے کے مترادف کہلایا جاسکتا ہے ، پھر یہ معمہ ہے کیا ؟ اس کا دوسرا پہلویہ بھی ہوسکتا ہے کہ آخر پاکستان نے اپنے موقف سے ہٹ کر کوئی اور راہ متعین کی ہو ، ، گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ قرار دینے کو بھی شاید اس کا اشارہ سمجھا جاسکتا ہے ، جس طرح سے جموں و کشمیر کا تشخص ختم کرکے یوٹی کا درجہ دیا گیا تھا ،،، کیا کوئی ایسی مفاہمت بھی پس ِ پردہ ہوئی ہے جو ادھر کا اِدھر اور اُدھر کا اُدھر والے معاملے کے مترادف قرار دیا جاسکتا ہے؟،،،اس صورت میں سرحدوں کو نرم کرنے کی باتیں پہلے سے ہی موجود ہیں ۔ عبدالباسط کہتے ہیں کہ بھارت اپنے اقدامات کو مستحکم کرنے کے لئے وقت چاہتا ہے ،اس لئے ہمیں محتاط رہنا چاہئے ، کونسل فار انڈین فارن پالیسی کے چئر مین ڈاکٹر ویدک کہتے ہیں مسئلہ کشمیر کو کسی درمیانی راستے سے ہی حل کیا جاسکتا ہے ، اور یہ درمیانی راستہ اس سے مشرف کے چار نقاطی فارمولے کے کہیں آس پاس ہی نظر آتا ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق ہند پاک کے درمیان یہ جادوئی کرشمہ۔ یو اے ،ای کی ثالثی کا نتیجہ ہے لیکن شاید اصل حقائق کو جان بوجھ کر چھپایاجا رہا ہے ہند چینی معاہدات میں یقینی طور پر چین نے، سی پیک کی نگہبانی کو مدِنظر رکھا ہوگا کیونکہ چین کے جارحانہ عمل کی تحریک ہی اسی پروجیکٹ کی حفاظت اور نگہبانی سے جڑی ہے اور آگے بھی چین اس پروجیکٹ کی حفاظت اور پاسبانی کو اولین ترجیح پر رکھے گا ، اور یہ خطرات باقی رہیں گے جب تک ہند پاک میں کشیدگی برقرار رہتی ہے ۔ پاکستان اگر جنگ میں الجھتا ہے تو سی پیک کے اہداف پانا چین اور پاکستان دونوں کے لئے مشکل ہوگا ،،،کیا ہند۔ چین معاہدے میں یہ بھی طئے ہوا ہے کہ پاک ہند کے تعلقات کو ایک نئی دشا اور راہ دی جائے ؟ یہ بھی بعید نہیں۔ کیونکہ اسی معاہدے کے بعد ہند پاک تعلقات ایک نئی راہ پر گامزن ہوئے ہیںلیکن کس پاور گرڈ سے یہ کرنٹ آرہی ہے دونوں ممالک اس سے ایک راز بنائے ہوئے ہیں جو ابھی تک باہر نہیں آسکا ہے ،بہ ظاہر ایسا تاثر دیا جارہا ہے کہ یہ سب خلیجی ممالک کی ثالثی کا نتیجہ ہے ،،اس بات کے بہت سارے تجزیہ نگار شاید خریدار نہیں ہوں گے ، جنگ بندی لاکھوں آر پار کشمیریوں کے لئے راحت کا پیغام ہے اور ابھی تک یہ سرحدیں خاموش بھی ہیں اور اللہ کرے کہ خاموش ہی رہیں ،، لیکن دونوں ممالک اور مملکت کشمیر کے لئے مجموعی طور پر یہی بہتر ہے کہ اس مسلے کا حل ڈھونڈا جائے ، اور اس کا یہ کوئی حل نہیں کہ اس’’ ایٹم بم ‘‘کو سرد خانوں کے حوالے کیا جائے ،، کیونکہ سرد خانوں سے اس عفریت کو باہر لانا کوئی بڑی بات نہیں ، اس سے بہتر اور اچھا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل کشمیری عوام کی امنگوں اور آرزوؤں کو مد، نظر رکھ کر کیا جائے ، ، تاکہ وہ سب لوگ اور ممالک جو اس مسئلے کے یر غمال ہیں،اطمینان کی سانس لے کر تعمیر و ترقی کی راہوں پرآگے بڑھیں ۔