سرورق مضمون

ہند پاک تعلقات…… فوجی سطح کی میٹنگ ، اہم فیصلے ، تناؤ کم

ہند پاک تعلقات…… فوجی سطح کی میٹنگ ، اہم فیصلے ، تناؤ کم

ڈیسک رپورٹ
ہندوپاک کے درمیان تعلقات میں پچھلے کچھ عرصے سے سخت تناؤ پایاجاتاتھا۔ عالمی فورموں میں دونوں ملکوں کے نمائندوں نے ایک دوسرے کے خلاف تند و تیز رویہ اختیار کیا۔ اس وجہ سے سفارتی سطح پر سخت تناؤ پایاجاتا تھا۔ اس سے پہلے لائن آف کنٹرول پر بھی صورتحال پر تشدد تھی۔آٹھ سال پہلے ہوئے جنگ بندی معاہدے کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی کے کئی واقعات سامنے آئے۔ ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے کے الزامات لگائے جارہے تھے ۔ کئی طرح کی یقین دہانیوں کے باوجود گولہ باری میں اضافہ ہورہا تھا ۔ فائرنگ سے دونوں طرف کے فوجی مارے جانے کے علاوہ کئی عام شہری بھی ہلاک اور زخمی کئے گئے ۔ اس وجہ سے کنٹرول لائن کے دونوں طرف رہائش پذیر لوگوں میں سخت تشویش پائی جاتی تھی۔ سب سے زیادہ تناؤ کشمیر سرحد پر پایاجاتا تھا۔ اوڑی اور کیرن سیکٹر میں کئی ہفتوں تک گولہ باری ہوتی رہی۔ فائرنگ اور مارٹر شلنگ کی وجہ سے یہاں جنگ کی سی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔ اس کے بعد کرگل میں بھی یہی ماحول پیدا ہوگیا۔ ادھر فوج نے الزام لگایا کہ پاکستان آرمی نے کئی جگہوں پر دراندازی کی ہے اور نئے پکٹ بنائے گئے ہیں۔ اس وجہ سے سفارتی سطح پر بھی حالات دگرگوں ہونے لگے اور دونوں ملکوں میں سخت تشویش پیدا ہونے لگا۔ اب معلوم ہوا ہے کہ دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا ہے ۔ اس اجلاس میں کئی اہم فیصلے لئے گئے ہیں جس سے تناؤ میں کمی آنے کی امید کی جارہی ہے ۔ اس اجلاس کے باوجود کئی لوگ تشویش کا اظہارکررہے ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کی سیاسی قیادت کے درمیان مذاکرات کا عمل بحال ہونے تک کشیدگی برقرار رہے گی۔ ان لوگوں کا ماننا ہے کہ مذاکرات کی بحالی کے بغیر معاملات بہتر ہونے کا عمل عارضی ہے ۔ تاہم بہت سے لوگ فوجی سطح کی ملاقات کو حوصلہ افزا قرار دے رہے ہیں۔ ادھر کشمیر میں بھی مین اسٹریم جماعتوں نے اس ملاقات پر اطمینان کا اظہار کیاہے ۔ تاہم علاحدگی پسندوں نے اس پر تحفظات پیش کئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سہ فریقی ملاقات کے بغیر دونوں ملکوں کے درمیان مسائل حل ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے ۔
فوجی سطح کے مذاکرات میں دونوں طرف کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے شرکت کی اور ملاقات کو بہت ہی کامیاب قرار دیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے اب تک ملی اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں فیصلہ لیا گیا کہ سرحد پر تناؤ ختم کرنے کے لئے جنگ بندی معاہدے پر سختی سے عمل کیا جائے گا ۔اسی طرح ہارٹلائن قائم کرنے کااعلان بھی کیا گیا ۔ سرحد پر امن بحال کرنے کی غرض سے دونوں ملکوں کے بابین ایک میکانزم بنانے کابھی فیصلہ لیا گیا۔ اسی طرح غلطی سے سرحد پار کرنے والوں کے بارے میں طے کیا گیا کہ ان کے بارے میں ایک دوسرے کو اطلاع دی جائے گی۔واہگہ بارڈر پر ہوئی یہ ملاقات دو گھنٹوں تک جاری رہی اور بہت ہی کامیاب ملاقات قرار دی جارہی ہے۔ ملاقات کے حوالے سے کہاجاتا ہے کہ ٹریک ٹو پر ہوئی کوششوں سے یہ ملاقات ممکن بنائی جاسکی۔ یہ بھی اطلاع ہے کہ پاکستانی وزیراعظم نواز شری نے اپنے امریکہ دورہ کے دوران صدر باراک اوبامہ کو ہندوپاک مذاکرات بحال کرنے کے لئے اپنااثر ورسوخ استعمال کرنے کو کہا۔اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ امریکی کوششوں کے نتیجے میں یہ ملاقات ممکن ہوسکی۔ فوجی سطح کے مذاکرات سے پہلے پاکستانی وزیراعظم کی طرف سے ان کے برادر اور پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف دہلی تشریف لائے ۔ دہلی آمد کے موقعہ پر انہوں نے بھارتی وزیر اعظم کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی ۔ اس دعوت کو قبول کیا گیا تاہم ابھی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی جاسکی ہے۔ تاہم اس ملاقات کے دوران دونوں طرف کے ملٹری آپریشنز کے ڈائریکٹروں کے درمیان ملاقات کئے جانے کا فیصلہ لیا گیا۔ یہ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت قرار دی جارہی ہے۔ملاقات کے بعد ہندوستانی ڈی جی ملٹری آپریشنز بے اسے ایک کامیاب ملاقات قرار دیا اور کہا کہ بات چیت خوشگوار فضا میں ہوئی اور چند اہم فیصلے لئے گئے ۔ انہوں نے یقین دہانی کی کہ فیصلوں پرعمل کرکے حالات میں بہتری لانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی ۔مبصرین کا کہنا ہے کہ سرحد پر تناؤ کم کرنے سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر ہونے کی پوری امید ہے۔ ادھر یہ بھی اطلاع ہے کہ برگیڈ کمانڈروں کی فلیگ میٹنگ بھی جلد ہی ہورہی ہے جس سے حالات کافی بہتر ہونے کا امکان ہے ۔سرحد کے آر پاررہنے والے لوگوں نے اس بات پر خوشی کااظہار کیاہے کہ دونوں ملکوں نے گولہ باری ختم کرنے اور غلطی سے سرحد پار کرنے والوں کے بارے میں نرم رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ ریاستی وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے بھی اس پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ مزید پیش رفت کاانتظار ہے ۔