سرورق مضمون

ہند پاک خوش آئند تعلقات کے بیچ
سرینگر میں ملی ٹنٹ حملہ ، لشکر طیبہ کے ملوث ہونے کا خدشہ

سرینگر ٹوڈےڈیسک
سرینگر کے مضافات میں ملی ٹنٹوں کی طرف سے جمعرات کو کئے گئے حملے میں سی آر پی ایف کے دو اہلکار مارے گئے اور تین کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے ۔ اس حملے کی ابھی تک کسی بھی جنگجو تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی ۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ لشکر طیبہ کی طرف سے کیا گیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس اس واقعے کی جانچ میں لگی ہوئی ہے اور بہت جلد حملہ آوروں کی نشاندہی کی جائے گی ۔ اس حوالے سے سی آر پی سربراہ کی طرف سے دوپہر کو دی گئی پریس کانفرنس میں دو اہلکاروں کے مارے جانے کی تصدیق کی گئی۔ اس دوران ایک صحافی کی طرف سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے رائفل اڑانے کی اطلاع کے بارے میں کوئی واضح جواب نہیں دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے ۔ تاہم خبر رساں ایجنسیوں کی طرف سے سامنے آئے پریس ریلیز میں جنگجووں کی طرف سے ایک رائفل اپنے ساتھ لے جانے کی خبر دی گئی ہے ۔ سی آر پی سربراہ نے حملے کی تفصیل دیتے ہوئے کہا کہ گنجان آبادی والا علاقہ ہونے کے علاوہ یہاں سے نیشنل ہائے وے گزرتی ہے جہاں سارا دن ٹریفک کا سخت دبائو رہتا ہے ۔ اسی سڑک پر عسکریت پسندوں نے ایک سیکورٹی گاڑی کو نشانہ بنایا جہاں یہ ہلاکتیں پیش آئیں ۔ اس دوران ملی ٹنٹ بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے ۔ بیان میں کہا گیا کہ حملہ پوری تیاری سے کیا گیا تھا ۔ امکان یہ ہے کہ ملی ٹنٹ کسی کوچے سے گاڑی میں سوار ہوکر بھاگ گئے ۔ ملی ٹنٹ کس طرف سے آئے اور کس راستے سے بھاگ گئے اس بارے میں کوئی جانکاری نہیں دی جاسکی۔ اس حملے سے پورے علاقے میں سخت تشویش پیدا ہوئی ۔ سیکورٹی فورسز نے حملے کے فوراََ بعد پورے علاقے کو گھیرے میں لیا۔ تلاشیاں کی گئیں ۔ لیکن کوئی مصدقہ ثبوت نہیں ملا ۔ کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔ ہلاک ہوئے اہلکاروں کی شناخت انسپکٹر مانگا دیپ برما اور ڈرائیور اشوک کمار کے طور کی گئی ۔
سیکورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ سڑک پر حفاظت کے مزید انتظامات کئے جارہے ہیں ۔ ان ہلاکتوں پر سرکاری اور سیاسی حلقوں کی طرف سے سخت رنج اور غم کا اظہار کیا گیا ۔
سرینگر کے لاوے پورہ علاقے میں جنگجووں کی طرف سے حملے کی کاروائی ا س وقت سامنے آئی جب ہند پاک کے درمیان تعلقات میں پچھلے دو سالوں سے چھائی ہوئی سرد مہری ختم ہورہی ہے ۔ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات سرد مہری کا شکار تھے ۔ اس درمیان اچانک ہندوستان کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ وہ خطے میں پاکستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا خواہش مند ہے ۔ اس سے پہلے دونوں ملکوں کے درمیان طے پایا کہ لائن آف کنٹرول پر جاری گولہ باری کو روک دیا جائے اور 2003 میں طے پائے سیز فائر معاہدے کی پاسداری کی جائے ۔ تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی نے 23 مارچ کو یوم پاکستان کے موقعے پر پاکستان میں اپنے ہم منصب عمران خان کے نام ایک خط میں نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔ خط میں یقین دہانی کی گئی کہ دونوں ملکوں کے درمیان برادرانہ اور دوستانہ تعلقات میں کوئی بگاڑ پیدا نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ اس دوران دونوں ملکوں کے وفود نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے دو روزہ میٹنگ کا انعقاد کیا ۔ کہا جاتا ہے کہ اس دوران پاکستان کی طرف سے دریائے چناب پر ہندوستان کی طرف سے بنائے جارہے باندھ اور پاور پروجیکٹوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ پاکستانی وفد کے سربراہ نے ان خدشات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی معاہدے کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی گئی ۔ میٹنگ میں شرکت کے لئے پاکستان سے آٹھ رکنی وفد دہلی آیا تھا ۔ وفد کی سربراہی مہر علی شاہ نے کی ۔ ہندوستان کی طرف سے یقین دہانی کی گئی کہ تمام مسائل کا حل دوستانہ طریقے سے تلاش کیا جائے گا ۔ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے امکان کو بہت ہی حوصلہ افزا قرار دیا جارہاہے ۔
ہند وپاک کے درمیان پائے جارہے تعطل کو ختم کرنے کی کیا وجوہات بنیں اس حوالے سے کئی طرح کے آرا کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ایک حلقے کی طرف سے یہ رائے سامنے آئی کہ مذاکرات کی بحالی میں امریکہ کی طرف سے دبائو ڈالا گیا ۔ اس حلقے کا خیال ہے کہ امریکہ میں نومنتخب صدر جو بائیڈن کی طرف سے دونوں ملکوں پر زور دیا گیا کہ تعلقات کو بہتر بنانے کی طرف توجہ دی جائے ۔ اس حلقے کی طرف سے کہا جارہاہے کہ الیکشن مہم کے دوران بائیڈن نے دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات قائم کرنے میں امریکہ کی طرف سے مدد دئے جانے کا وعدہ کیا گیا تھا ۔ اب صدر کی طرف سے اپنے وعدے کو عملی جامہ پہنانے پر توجہ دی جارہی ہے ۔ حالانکہ ایک بڑا حلقہ اس بات پر زور دے رہاہے کہ چین اور برطانیہ کی طرف سے مذاکرات کئے جانے پر زورڈالا گیا ۔ ان دو ملکوں کو اس کے ساتھ کیوں دلچسپی ہے اس حوالے سے کوئی نئی بات سامنے نہیں آئی ۔ اس دوران یہ اہم انکشاف بھی کیا گیا کہ ہند وپاک کے درمیان ہورہے مذاکرات کے لئے عر ب ممالک خاص کر یواے ای کی طرف سے زوردیا گیا ۔ اس حوالے سے ایک بار پھر دوبئی مذاکرات کا شوشہ ڈالا جارہاہے ۔ کہا جاتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان دوبئی میں خفیہ مذاکرات ہوئے جہاں تعلقات بہتر بنانے کی راہیں تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا ۔ اس حوالے سے کہا گیا کہ پاکستان کی طرف سے وہاں کے فوجی سربراہ قمر جاوید باجواہ نے اسفندیارپٹوڈی کومذاکرات کو آگے بڑھانے کے لئے اختیار دیا تھا ۔ اس کے جواب میں ہندوستانی وزیراعظم کے سیکورٹی مشیر اجیت ڈوول کی طرف سے مذاکرات کار کا تقرر عمل میں لایا گیا ۔ اس فیصلے کے حوالے سے کہا گیا کہ کوششیں پچھلے دو سالوں سے جاری ہیں ۔ اب کئی اہم امور پر اتفاق کئے جانے کے بعد نئے اقدامات سامنے لائے گئے ۔ کہا جاتا ہے کہ دونوں طرف کے نمائندوں کے درمیان لندن کے علاوہ دوبئی میں خفیہ مذاکرات ہوئے جس کے نتیجے میں حالیہ اعلانات سامنے ہوئے ۔ ان اعلانات کو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت بتایا جاتا ہے ۔