سرورق مضمون

ہند پاک دوستی منموہن نواز ملاقات،جموں میں خود کش حملے

ہند پاک دوستی  منموہن نواز ملاقات،جموں میں خود کش حملے

ڈیسک رپورٹ

نیویارک میں اقوام متحدہ اجلاس کے حاشیے پر بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ اور پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے درمیان ملاقات کو طے ہوئے ابھی ایک دن بھی نہیں گزرا تھا کہ جموں خطے میں دو خود کش حملے کئے گئے ۔دو الگ الگ مقامات پر ہوئے ان حملوں میں فوج کے ایک لفٹنٹ کرنل سمیت 13 افراد مارے گئے ۔ تین جنگجوئوں کے مارے جانے کی بھی اطلاع ہے۔ حملہ آوروں نے جمعرات کی صبح ہیرا نگر تھانے پر حملہ کرکے یہا ںچار پولیس اہلکاروں کو ہلاک کیا ۔ اس کے بعد جنگجو ایک ٹرک میں سوار ہوکر سانبہ کے ڈویژنل فوجی ہیڈ کواٹر میں داخل ہوگئے اور اندھا دھند فائرنگ کی جس سے ہر طرف خوف وہراس پھیل گیا۔یہ حملہ نیویارک میں ہند پاک وزراء اعظم کی طے شدہ ملاقات سے چند روز پہلے کیا گیا۔ دونوں وزیر اعظموں کے درمیان اس ملاقات سے اگرچہ کسی خاص تبدیلی کی امید نہیں کی جارہی ہے تاہم خطے میں دوستی کا ماحول پیدا کرنے میں یہ ملاقات بڑی اہم مانی جارہی ہے۔ اس سے پہلے بہت سے حلقے خدشہ ظاہر کر رہے تھے کہ یہ ملاقات ناممکن ہے۔ لیکن بعد میں بیک چینل سرگرمیاں بڑھادی گئیں اور اس ملاقات کے لئے ماحول ساز گار بنادیا گیا ۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے بدھوار شام کو اس بات کی تصدیق کردی کہ وہ نواز شریف سے نیویارک میں ملاقات کررہے ہیں۔ ان کے اس اعلان سے دونوں ملکوں کے سیاسی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔لیکن جلد ہی جموں میں گولیوں کی گن گھرج سنادی اور ماحول میں تبدیلی دیکھنے کو ملی۔ نواز شریف کے وزیراعظم بننے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیاں اعلیٰ سطح کی یہ پہلی ملاقات ہے ۔
ہند و پاک کے درمیان تعلقات میں اس وقت تنائو پیدا ہوگیا تھا جب حال ہی میں سرحد پر موجود دونوں ملکو ں کی فوجوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی روز تک ایک دوسرے پر فائرنگ کی۔ دونوں ملک ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزامات لگاتے رہے ۔ یہاں تک کہ پونچھ سیکٹر میں دوبھارتی فوجیوں کی آنکھیں نکال کر ان کی لاشیں پھینک دی گئیں ۔ اسی طرح پاکستان نے الزام لگایا کہ بھارتی فوجیوں نے اس کی کئی سپاہی اور عام شہری ہلاک کئے۔ اس وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان سخت تنائو پیدا ہوگیا۔بعد میں کچھ لوگوں کی ثالثی سے دونوں ملکوں کے درمیان یہ تنائو کا ماحول ختم ہوگیا اور حالات معمول پر آنے لگے ۔ اب نیویارک میں منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کی 68کانفرنس میں شرکت کے دوران دونوں وزراء اعظم ایک دوسرے سے ملاقات کررہے ہیں ۔ یہ کانفرنس 27تاریخ کو شروع ہورہی ہے اور اس میں دنیا بھر کے مختلف ممالک کے سربراہ شرکت کررہے ہیں ۔ البتہ سب کی نظریں ہند وپاک کے وزراء اعظم پر لگی ہوئی ہیں ۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کے دوران کسی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں ہے تاہم یہ ملاقات کافی اہم مانی جاتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ دونوں سربراہوں نے اس بارے میں فیصلہ لیا اور ایک دوسرے کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔ پاکستانی وزیراعظم نے اس بات کی یقین دہانی کرادی ہے کہ ان کے ملک سے ہندوستان کے خلاف کسی طرح کی سرگرمیان انجام دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ نواز شریف بذات خود ہند وپاک کے درمیان امن کے خواہش مند ہیں۔ وہ اس بات کے لئے بہت پہلے سے سرگرم رہے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان دوستی قائم ہوجائے ۔ ماضی میں انہوں نے فوج اور اسلامی تنظیموں کی سخت مخالفت کے باوجود اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم کو لاہور بلایا۔ لاہور میں دونوں ملکوں نے ایک ڈیکلریشن کا اعلان کیا۔ لاہور معاہدہ کو دونوں ملکوں کے درمیان ایک اہم معادہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس پر وہاں سخت ردعمل دیکھا گیا۔ اس وجہ سے نواز شریف کے خلاف فوج اور فوج سے باہر سخت مخالفت پیدا ہوگئی۔ بعد میں کرگل کی لڑائی ہوئی اور نواز شریف کو ملک بدر ہونا پڑا۔ اب بہت حد تک حالات بدل چکے ہیں۔ نواز شریف کو ایسا فوجی جنرل ملاہے جو اب تک کے جرنیلوں کے برعکس ہندوستان کے ساتھ دوستی کی حمایت کرتا ہے۔ اسی طرح امریکہ خاص طور سے سعودی عرب کی خواہش ہے کہ پاکستان ہندوستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات قائم کرے ۔ اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ نیو یارک ملاقات دونوں ملکوں کے لئے بہت ہی اہم ہے۔ یہاں سے دوستی کی نئی شروعات ہونے کی امید کی جارہی ہے ۔ البتہ جہادی تنظیموں نے اس کے خلاف جو رد عمل دکھایا ہے اس سے بہت سے لوگ خوفزدہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان تنظیموں کی حمایت حاصل نہ رہی تو آپسی دوستی کو بڑھاوا دینا سخت مشکل ہے۔ تاہم دونوں ملکوں کے وزیر اعظموں نے جس طرح کا پیغام دیا ہے اس سے لگتا ہے کہ آگے بڑھنے کا فیصلہ ہوچکا ہے ۔ مشکلات کے باوجود دونوں ملک اب پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔