سرورق مضمون

ہند پاک مذاکرات / دہلی میں سرتاج عزیز اورڈوول کی ملاقات / کشمیر ی علاحدگی پسندو ں کی نظر بندی اور رہائی کا ڈرامہ

ہند پاک مذاکرات / دہلی میں سرتاج عزیز اورڈوول کی ملاقات / کشمیر ی علاحدگی پسندو ں کی نظر بندی اور رہائی کا ڈرامہ

ڈیسک رپورٹ
پروگرام کے مطابق پاکستانی وزیراعظم کے سلامتی کے مشیر دہلی پہنچ گئے۔ یہاں انہوں نے اپنے ہم منصب سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں جو باتیں زیربحث آئیں ان میں کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ ہند وپاک کے درمیان پچھلے ساٹھ سال سے گفت وشنید جاری ہے ۔ لیکن آج تک تجارت کو چھوڑ کرکسی بھی سطح پرکوئی پیش رفت دیکھنے کو نہ ملی ۔ آج کی ملاقات کے موقعے پر بھی کوئی خاص بات سامنے نہ آئی۔ دونوں ممالک کے نمائندوں کی ملاقات سے پہلے پاکستانی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز نے دہلی میں اپنے ملک کے سفارتخانے پر کشمیری علاحدگی پسند رہنمائوں سے ملاقات کرنے کا اعلان کیا۔ اس غرض سے کئی علاحدگی پسند رہنمائوں کو دہلی آنے کی دعوت دی گئی۔ ایسے رہنمائوں میں حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے سربراہوں کے علاوہ لبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک بھی شامل ہیں۔ ریاستی سرکار نے اس ملاقات کو ناممکن بنانے کے لئے حریت رہنمائوں کی نقل و حمل پر پابندی لگائی اور انہیں اپنے گھروں میں نظر بند کیا گیا ۔ اس پر کئی حلقوں نے شور مچانا شروع کیا ۔ حکم جاری کئے ہوئے ابھی دو ہی گھنٹے گزرے تھے کہ نظر بندی کے احکامات واپس لئے گئے اور سید علی گیلانی کے سوا تمام لیڈروں کو آزادی سے گھومنے پھرنے کی اجازت دی گئی۔ علاحدگی پسندوں کی یہ خانہ نظر بندی کیسے ختم ہوگئی اس بارے میں کئی طرح کی چہ مے گوئیاں کی جارہی ہیں۔ کئی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس کے پیچھے پی ڈی پی صدر اور پارلیمنٹ ممبر محبوبہ مفتی کا ہاتھ ہے ۔ ان کی ضد کے آگے مفتی سعید نے ہتھیار ڈالے اور حریت رہنمائوں کو رہا کیا گیا۔اس کے باوجود تعطل برقرار ہے اور ماحول میں موجود کشیدگی میں کوئی خاص فرق نہ دیکھا گیا۔تاہم دونوں ملکوں نے مذاکرات کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
ہندپاک کی دونوں حکومتوں پر اس وقت عالمی طاقتوں کا سخت دبائو ہے کہ خطے میں موجود کشمکش کو ختم کیا جائے ۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ افغانستان میں پائی جانے والی صورتحال کی وجہ سے بیرونی ممالک میں سخت تشویش پائی جاتی ہے ۔ پچھلے کچھ عرصے سے یہاں جس طرح کے حالات پائے جاتے ہیں اس وجہ سے خطے میں چین کا اثر و رسوخ بڑھنے لگا ہے۔ افغانستان سے نیٹو فوجوں کی واپسی کے بعد پاکستان نے بہت حد تک چین کے ساتھ تعلقات بڑھادئے ہیں۔ اس سے خطے میں چین کی مداخلت بڑے پیمانے پر ہورہی ہے۔ چین نے ہندوستان سے ملنے والی سرحدوں کے آس پاس کافی دبائو بڑھایا ہے ۔ اس وجہ سے دونوں ملکوں کے آپسی تعلقات میں تنائو پایا جاتا ہے ۔ اس صورتحال کو دیکھ کر امریکہ کی کوشش ہے کہ پاکستان کی چین کے ساتھ دوستی کو زیادہ آگے نہ بڑھنے دیا جائے ۔ حالانکہ دونوں ملکوں کے درمیان دوستی بہت آگے بڑھ گئی ہے ۔ اس کے باوجود امریکہ کی کوشش ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین رشتوں میں کمی نہ آنے دی جائے ۔ ادھر ہندوستان میں بھا جپا سرکار اپنے طور پاکستان سے کھچائو قائم رکھنے کے لئے کوشش کررہاہے ۔ تاہم امریکہ کی طرف سے بڑھائے گئے دبائو کا مقابلہ کرنا اس کے لئے ممکن نہیں بن رہاہے ۔ امریکہ نے مبینہ طور آج ایک بار پھر اسے پاکستان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے پر دبائو ڈالا۔ اس دبائو کی وجہ سے ہی اُفا کانفرنس میں دونوں ملکوں کے وزرا اعظم نے باہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں ملکوں کے سلامتی کے مشیروں کے درمیان بات چیت کرنے سے کام کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس ملاقات سے پہلے خطے میں سخت کشیدگی پیدا ہوگئی۔ سرحد پر دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان کئی روز تک فائرنگ جاری رہی ۔ اس فائرنگ سے کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے ۔ اس کے علاوہ اودھم پور میں ملی ٹینٹوں کی طرف سے بی ایس ایف کانوائے کی ایک بس پر حملہ کیا گیا ۔ حملے میں دو بی ایس ایف اہلکاروں کے علاوہ ایک جنگجو مارا گیا اور دوسرا زندہ پکڑا گیا ۔ اسی طرح سیاسی سطح پر ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات دئے جارہے ہیں۔ مذاکرات کے دوران سرتاج عزیزکاحریت رہنمائوں سے ملنے پر طرفین میں سخت تنائو پایاجاتا ہے ۔ تاہم یہ خوشی کی بات ہے کہ طرفین سخت صبر و تحمل کا مظاہرہ کررہے ہیں اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کے فیصلے پر ڈٹے ہوئے ہیں ۔