سرورق مضمون

ہند پاک مذاکرات پھر بحال / سشماسوراج کا دورۂ پاکستان/ مودی کا پاکستان کا دورہ اگلے سال

ہند پاک مذاکرات پھر بحال / سشماسوراج کا دورۂ پاکستان/ مودی کا پاکستان کا دورہ اگلے سال

ڈیسک رپورٹ

بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد ہندوپاک کے درمیان تعلقات میں سخت کشمکش پیدا ہوگئی تھی۔ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات معطل کئے گئے تھے اور تعلقات میں سخت تنائو پایا جاتا تھا ۔ یہ تنائو اس وقت ختم ہوگیا جب ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اسلام آباد جاکر وہاں خارجہ امور کے مشیر اور وزیر اعظم سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان جامع مذاکرات پھر سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بعد میں یہ بھی اعلان کیا گیا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اگلے سال پاکستان کا دورہ کریں گے۔ اس طرح سے دوسال بعد پہلی بار دونوں طرف سے لچک کا اظہار کیا گیا اور مذاکرات پھر سے شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ مذاکرات بحال کرنے کے اس اعلان کو لے کر عالمی اور مقامی سطح پر خوشی کا اظہار کیا گیا ۔ ریاستی وزیراعلیٰ مفتی سعید نے اسے کشمیر کے لوگوں کے لئے فتح کی مانند قرادیا۔ اسی طرح کئی علاحدگی پسند لیڈروں نے اسے بہتر عمل قرار دیا ۔ البتہ این سی صدر نے اسے ایک بے فائدہ قدم قرار دیا۔
سشما سوراج اسلام آباد ایک علاقائی کانفرنس میں شرکت کرنے کی غرض سے گئی تھی۔ یہ کانفرنس افغانستان کے مسئلے کے حل کے لئے بلاگئی تھی۔ اس موقعہ پر سشما سوراج نے پہلے پاکستانی وزیراعظم کے لئے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز سے ملاقات کی۔ اس کے بعد ان کی وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ بھی ملاقات ہوئی۔ دونوں طرف سے اس ملاقات پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس ملاقات کے بعد اعلان کیا گیا کہ دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ جامع مذاکرات کرنے پر تیار ہوگئے ہیں۔ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات بحال کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے اور ان مذاکرات کے حوالے سے تمام معاملات خارجہ سیکریٹریوں کی سطح پر طے ہونگے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے دونوں ملکوں کے خارجہ امور کے مشیروں کے درمیان بینکاک میں ایک اہم ملاقات ہوگئی تھی۔ اس ملاقات میں دونوں طرف سے جامع مذاکرات طے کرنے کا اعلان کیا گیا ۔اسی طرح دونوں ملکوں کے وزراء اعظم نے عالمی ماحولیاتی کانفرنس کے دوران ایک دوسرے سے غیر رسمی ملاقات کی تھی۔اس ملاقات سے مذاکرات بحال کرنے میں مدد ملی ۔ ادھر یہ بھی اطلاع ہے کہ دونوں ملکوں کے وزرااعظم کے درمیان نیپال میں ایک خفیہ ملاقات ہوگئی تھی جس دوران دونوں ملکوں کے سربراہوں نے ایک دوسرے کو اپنی مشکلات سے آگاہ کیا۔اب سشما سوراج کے دورہ پاکستان سے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات میں آئے جمود کوتوڑا گیا۔ہند پاک تعلقات پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اس سے خطے میں تنائو میں کمی آئے گی اور حالات میں بہتری آنے کا امکان ہے ۔دونوں ملکوں نے جامع مذاکرات بحال کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اس سے یہی مطلب لیا جاتا ہے کہ کشمیر سمیت تمام تنازعات پر بات چیت ہوگی۔ ان مسائل پر کیا پیش رفت ہوگی اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سخت پیچیدہ مسائل پائے جاتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر کو لے کر دونوں ملکوں کے درمیان تین جنگیں ہوچکی ہیں ۔ مذاکرات کے بھی کئی سو رائونڈ ہوچکے ہیں۔ ہر سطح پر بات چیت ہوئی۔ لیکن ایک بھی مسئلہ آج تک حل نہیں کیا جاسکا۔ دونوں ملکوں کے پاس اب ایٹمی صلاحیت ہے اور ایک دوسرے سے بہتر صلاحیت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ حال ہی میں یہ انکشاف ہوا کہ کرگل جنگ کے دوران دونوں ملک ایٹمی طاقت کا استعمال کرنے کے قریب آگئے تھے۔ جس کے بعد عالمی طاقتوں نے مداخلت کرکے یہ جنگ رکوادی ۔ اس وقت سے لے کر دونوں ملکوں کی فوجیں حالت جنگ میں ۔ اسی وجہ سے کئی لوگ سخت پریشان ہیں۔ ان ہی لوگوں کی کوششوں سے مذاکرات پھر سے بحال ہوئے ۔ اب نظریں مودی کے آئندہ پاکستان دورے پر لگی ہیں ۔ دیکھتے ہیں کہ اس کے لئے کیا طریقہ بنتا ہے اور کس قسم کا ایجنڈا طے ہوتا ہے ؟