نقطہ نظر

ہوا میں ایک تنکا

ہوا میں ایک تنکا

کلدیپ نائر
ایسے لگتا ہے جیسے وزیر اعظم نریندر مودی کا جادو ماند پڑ رہا ہے۔ ان کی بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) نے ضمنی انتخابات میں معکوس نتائج دکھائے ہیں۔ پنجاب‘ مدھیہ پردیش‘ کرناٹک اور بہار کی اٹھارہ نشستوں میں سے بی جے پی کو صرف 7 نشستیں ملی ہیں۔ تقریباً چار ماہ پہلے ہونیوالے پارلیمانی انتخاب میں بی جے پی نے محاورے کے مطابق جھاڑو پھیرتے ہوئے لوک سبھا میں اپنی خالص اکثریت قائم کر لی تھی۔
رائے دہندگان کا اتنے تھوڑے سے عرصے میں مایوسی کا شکار ہو جانا یقیناً گہرے تجزیے کا متقاضی ہے۔ یہ درست ہے کہ پارٹی نے بہت سے ایسے وعدے بھی کر لیے تھے جن کا پورا کیا جانا کٹھن تھا لیکن یہ تو وضاحت کا صرف ایک پہلو ہے۔ مکمل تفصیل یہ ہے کہ ان وعدوں کو پورا کرنے کی کوئی کوشش ہی نہیں کی گئی۔
سال ہا سال سے انتخابات ایک بے معنی سی مشق بن کر رہ گئے ہیں جن میں وعدے تو بہت بلند و بانگ کیے جاتے ہیں لیکن یہ وعدے وفا کم ہی ہوتے ہیں۔ چونکہ پارٹیوں کا اصل مقصد انتخاب جیتنا ہوتا ہے تو یہ حقیقت عوام کے سامنے بھی جلد ہی آشکار ہو جاتی ہے۔ چنانچہ بے چارے ووٹر کبھی ایک ڈال پر کبھی دوسری ڈال پر… یعنی پارٹیاں بدلتے رہتے ہیں کہ شاید دوسری پارٹی ہی ان کے مسائل حل کر دے اور گزشتہ پارٹی کی نسبت زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے۔ وہ ان کی تادیب بھی کرتے ہیں جو ان کے معیار پر پورے نہیں اترتے۔ کانگریس نے پچھلے پارلیمانی انتخابات میں صرف 44 نشستیں جیتی تھیں۔ وہ 55 سیٹیں بھی حاصل نہ کر پائی کہ لیڈر آف اپوزیشن کے منصب کا استحقاق مل پاتا۔
ضمنی انتخابات کے نتائج نے یہ بھی ظاہر کر دیا ہے کہ سیاسی پارٹیاں خواہ کس قدر کر و فر کا مظاہرہ کریں ان کی چمک دمک ماند پڑ رہی ہے۔ بی جے پی جس نے لوک سبھا کے انتخابات میں فی الواقعہ جھاڑو پھیر دیا تھا بڑی جلدی ہی اپنی حیثیت کھو بیٹھی ہے۔ سارا قصور سیاسی جماعتوں کا ہی ہے جو اپنی ناکامیوں سے سبق نہیں سیکھتیں۔ ہر انتخاب کے بعد رائے دہندگان کی مایوسی اور نا امیدی خاصی نمایاں ہے۔
ضمنی انتخابات بی جے پی کے لیے ’’لٹمس ٹیسٹ‘‘ کے طور پر دیکھے جا رہے تھے۔ نیز نئے محاذ یعنی لالو پرساد یادیو کے راشٹریہ جنتا دل اور نتیش کمار اور کانگریس کے جنتا دل (متحدہ) کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا جانا تھا کیونکہ بی جے پی کے مقابلے میں ایک سیکولر اتحاد کی کارکردگی کا جائزہ ناگزیر سمجھا جا رہا تھا۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو انتخابی نتائج متذکرہ اتحاد کے حق میں ہیں اور اس کا مورال بلند کرنے والے ہیں۔ بالخصوص گرینڈ اولڈ پارٹی یعنی کانگریس کے لیے یہ بہت مثبت خبر ہے۔
دوسری طرف بی جے پی بھی اپنی کارکردگی سے مایوسی کا شکار ہو گی کیونکہ اس کی تمام توقعات بکھر چکی ہیں۔ اگرچہ پارٹی قیادت نے بڑی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ واپس جا کر صورت حال پر قابو پانے کی کوشش کرے گی لیکن اتر پردیش کی گیارہ نشستوں کے لیے ستمبر میں ہونیوالے انتخابات کے لیے وقت بہت کم رہ گیا ہے۔
بی جے پی کے صدر امیت شا جس نے کہ پارٹی کے ڈھانچے میں بہت وسیع پیمانے پر تبدیلیاں کی ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ایل کے ایڈوانی اور مرلی منوہر جوشی جیسے نامور پرانے لیڈروں کو پارلیمانی بورڈ سے ہی خارج کر دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اترپردیش میں بھی پارٹی کا نتیجہ بہت اہم ہو گا۔ امیت شا پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ گیارہ کی گیارہ نشستیں اپنی جیب میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ اور ایک لحاظ سے یہ ضمنی انتخاب 2017ء میں ہونے والے ریاست کی اسمبلی کے انتخابات کے لیے سیمی فائنل کی حیثیت رکھتا ہے۔
امیت شاکو مذکورہ انتخابات میں اپنے امیدواروں کے چناؤ کی خاطر اوور ٹائم لگانا پڑے گا کیونکہ اس میں ان کا مقابلہ کانگریس کے علاوہ سماج وادی پارٹی سے بھی ہو گا جو کہ پہلے ہی اپنے امیدواروں کا اعلان کر چکی ہیں۔ اور پھر ویسے بھی شا کی ساکھ داؤ پر لگی ہے جنھیں کہ موجود پوزیشن میں اس بنا پر لایا گیا ہے کہ انھوں نے بی جے پی کے لیے لوک سبھا کی 80 میں سے 70 نشستیں جیتنے کی تن تنہا کوشش کی۔
مدھیہ پردیش کے ضمنی انتخاب میں ایک نشست کا کھویا جانا نہ صرف امیت شا بلکہ ریاست کے وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے جن کو پارلیمانی بورڈ میں بھی شامل کر لیا گیا تھا جو کہ اعلیٰ سطح کی انتخابی باڈی ہے۔ بہوری بند اسمبلی کی نشست جو کہ حکمران پارٹی نے بی جے پی کے امید وار کو شکست دیکر جیتی اس کا بی جے پی کو بے حد تعلق ہے۔ کانگریس لوک سبھا کی 29 نشستوں میں سے صرف 2کو ہی باقی رکھ سکی۔
جہاں تک بہار میں لالو۔ نتیش اتحاد کے انتخابی نتائج ان دو پرانے سیاستدانوں کے لیے کسی بڑے کامیابی سے کم نہیں ان دونوں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ جوا کھیلا تھا جس کا انھیں بہت فائدہ ہوا ہے کیونکہ اپریل اور مئی میں ہونیوالے لوک سبھا کے انتخابات میں ان کی پوزیشن خاصی نیچے جا چکی تھی۔ دونوں لیڈر بہار کی سیاست اور انتخابی حساب کتاب سے بڑی اچھی طرح سے آگاہ تھے اور انھوں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ جیتنے کے لیے انھیں متحد ہو کر لڑنا ہو گا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک جراتمندانہ تجربہ تھا جس کا نتیجہ توقع کے برعکس بھی نکل سکتا تھا۔ مایاوتی کی بہو جن سماج وادی پارٹی نے اس قسم کی ایک پیشکش جو اسے ملائم سنگھ یادیو کی طرف سے کی گئی تھی کہ وہ ضمنی انتخاب میں اس کا ساتھ دے لیکن اس نے وہ پیش کش مسترد کر دی کیونکہ وہ ابھی تک اس پرانی بات کو نہیں بھولی کہ سماج وادی پارٹی نے اسے سیاست سے ہی خارج کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اگر آنیوالے وقت میں وہ اپنا اعتماد بحال کر سکی تو ممکن ہے کہ وہ اس قسم کی پیشکش پر غور کرنا قبول کر لے۔ بہر حال ضمنی انتخاب کے نتائج بی جے پی کے مخالف لیڈروں کا دل یقینا گرما دیا ہو گا جو کہ خود بھی مستقبل میں ایسا کوئی تجربہ کرنے کی کوشش کریں گے۔
سی پی ایم لیڈر پرکاش کرت جس کا دعویٰ ہے کہ سیکولر پارٹیوں کے اتحاد کا حالیہ ضمنی انتخاب میں بہت فائدہ ہوا ہے لہٰذا اب وہ دیگر ہم خیال پارٹیوں کے تعاون سے بی جے پی سے لڑنا چاہتے ہیں لیکن ان کے اور ان کی پارٹی کے کانگریس کے ساتھ کچھ مسائل ہیں ہماری پارٹی لائن یہ ہے کہ ابتدائی طور پر بی جے پی کے ساتھ مقابلہ کیا جائے کیونکہ اب وہ اقتدار میں ہے لیکن ہم کانگریس کی پالیسیوں کے بھی خلاف ہیں۔
کوئی بھی صورت حال ہو تمام سیکولر پارٹیوں کو ایک سبق ضرور سیکھ لینا چاہیے کہ ووٹر کانگریس سے بددل ہونے کے بعد بی جے پی سے بھی ناامید ہو گئے ہیں اب انھیں ایک متبادل سیکولر جمہوری حکمرانی کی ضرورت ہے جس کے لیے کہ ملک نے آزادی کی جنگ لڑی تھی۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)