سرورق مضمون

ہڑتال ، پابندیوں اور خوف و ہراس کے بیچ وزیر اعظم منموہن سنگھ کا کشمیر دورہ

ہڑتال ، پابندیوں اور خوف و ہراس کے بیچ وزیر اعظم منموہن سنگھ کا کشمیر دورہ

ڈیسک رپورٹ
25جون کو وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق سرینگر پہنچ گئے ۔ ان کے ہمراہ حکمران اتحاد یوپی اے کی چیرپرسن سونیا گاندھی ، مرکزی وزیر صحت اور سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد اور دوسری کئی اہم شخصیات اس دورے پر تھیں ۔ وزیر اعظم نے اپنے دورے کے دوران سرینگر میں کئی عوامی اور سیاسی وفود کے ساتھ ملاقات کرنے کے علاوہ کشتواڑ میں پن بجلی پروجیکٹ کاسنگ بنیاد ڈالااور بانہال قاضی گنڈ ریل کا افتتاح بھی کیا۔ اس کے علاوہ ریاست کیلئے مالی پیکیج اور مزید بجلی فراہم کرنے کا اعلان کیا ۔ وزیر اعظم کے اس دورے پر یہاں ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا ۔ علاحدگی پسندوں نے یہ ایک ناکام دورہ قرار دیا ، کانگریس نے اس پر خوشی کا اظہار کیا اور عوامی حلقوں میں اس پر خاموشی اختیار کی گئی۔ البتہ نیشنل کانفرنس کے لیڈر اور پارلیمنٹ ممبر ڈاکٹر محبوبہ کی طرف سے اس دورہ کے بارے میں مایوسی کے اظہار پر سبھی حلقے حیران ہیں ۔
وزیر اعظم کے کشمیر دورہ سے پہلے سرینگر میں جنگجووں نے حملے کرکے سخت خوف وہراس پیدا کیا تھا ۔ 24جون کو عسکریت پسندوں نے حیدر پورہ بائی پاس پر ایک زور دار حملہ کرکے 8 سیکورٹی اہلکاروں کو ہلاک اور 14 کو زخمی کیا ۔ اس سے پہلے سرینگر کے لالچوک علاقے میں ڈرامائی انداز میں پولیس کے دو اہلکاروں پر نزدیک سے گولی چلاکر انہیں ہلاک کیا گیا ۔ اس وجہ سے وادی میں سخت خوف وہراس پایا جاتا تھا۔ وزیر اعظم کے دورے پر علاحدگی پسند لیڈروں نے ایک روزہ ہڑتال کی کال دی تھی جو کافی کامیاب رہی ۔ کال اس وجہ سے زیادہ ہی کامیاب رہی جب حکومت نے وادی کے بیشتر علاقوں خاص کر سرینگر میں وزیر اعظم کی آمد پر غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کیا۔ اس وجہ سے لوگ گھروں سے باہر نہیں آسکے اور لوگوں کی نقل وحمل محدود کردی گئی۔ وزیر اعظم سرینگر پہنچتے ہی سیدھے بادامی باغ کے فوجی ہسپتال پہنچ گئے ۔ یہاں انہوں نے ان زخمی اہلکاروں کی عیادت کی جو سرینگر میں عسکریت پسندوں کے حملے میں زخمی ہوگئے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے کشتواڑ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کیا۔ یہاں انہوں نے 850میگاواٹ بجلی پروجیکٹ کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔ اسی روز وزیر اعظم نے سرینگر کے SKICC میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی بھی صدارت کی جہاں ریاست کے مالی پلان اور دوسرے کئی اہم معاملات پر بات چیت ہوئی ۔ وزیر اعظم نے لوگوں کو الیکشن میں حصہ لے کر اپنے جذبات کا اظہار کرنے کی دعوت دی۔ اس موقعہ پر وزیراعظم نے ریاست کے لئے 750روپے کے اضافی مالی امداد کا اعلان کیا اور 150 میگاواٹ مزید بجلی ریاست کو فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کی ۔ ریاست میں اس وقت بجلی کی عدم سپلائی کی وجہ سے حکومت کے خلاف سخت ردعمل پایا جاتا ہے ۔ اس بحران پر قابو پانے کے لئے ریاست کو مزید بجلی دینے کی یقین دہانی کی گئی ۔ اگلے روز وزیر اعظم نے بانہال قاضی گنڈ ریل لنک کا افتتاح کیا ۔ اس موقعہ پر انہوں نے 18کلومیٹر اس ریل ٹریک کو تعمیر کرنے پرجس میں 11 کلو میٹر لمبی ٹنل شامل ہے ، ماہر انجینئروں کی تعریف کی۔ ریل ٹریک کے ذریعے وادی میں پہلے سے چل رہی قاضی گنڈ بارہمولہ ریل کا رابطہ جموں کے ساتھ ہوگا اور یہ ریل ملک کے باقی ماندہ علاقوں کے ساتھ جڑجائے گی ۔ اس طرح سے وزیر اعظم اپنا دو روزہ دورہ مکمل کرکے واپس دہلی چلے گئے۔
وزیر اعظم کے کشمیر دورہ کے دوران جنگجووں کی سرینگر میں موجودگی کے علاوہ کوئی اہم بات سامنے نہ آئی ۔ اس وجہ سے لوگوں میں اس دورہ کے بارے میں کوئی اہم ردعمل سامنے نہیں آیا ۔ علاحدگی پسندوں نے اس کو مجموعی طور ایک ناکام دورہ قرار دیا ۔ اگرچہ وزیر اعظم نے اپنے دورے کے دوران علاحدگی پسندوں کو بات چیت کی دعوت دی تاہم اس دعوت میں زیادہ گرمجوشی نہ تھی ۔ علاحدگی پسندوں نے ا س دعوت کو مسترد کیا ۔ ادھر این سی کے جنوبی کشمیر کے رہنما اور پارلیمنٹ ممبر ڈاکٹر محبوب بیگ نے اس دورہ پر مایوسی کا اظہار کرکے سیاسی حلقوں کو حیران کردیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ این سی توقع کررہی تھی کہ وزیر اعظم کشمیر کی اندورونی خود مختاری کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کریں گے لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ یوں وزیر اعظم کا دورہ تو مکمل ہوا تاہم کسی بھی فرنٹ پر اس دورے سے کوئی خاص پیش رفت دیکھنے کو نہیں ملی ۔