سرورق مضمون

یواین مشاہدین کو بسترہ گول کرنے کا حکم /کشمیر مسئلے کے خلاف بی جے پی کا پہلا وار

ڈیسک رپورٹ
بی جے پی سرکار نے دہلی میں مقیم یو این ملٹری آبزرور گروپ سے کہا ہے کہ وہ جلد از جلد دفتر چھوڑ دے۔ اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے ملٹری آبزرور گروپ کے ایک ذمہ دار آفیسر نے کہا ہے کہ ان کے آفس کو باضابطہ خط ملا ہے جس میں انہیں دفتر خالی کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ اس طرح سے بی جے پی سرکار نے مسئلہ کشمیر پر پہلا وار کرتے ہوئے اپنے اس ایجنڈا پر عمل کرنا شروع کیا ہے جس کا وعدہ انہوں نے الیکشن دور میں عوام سے کیا تھا ۔ بی جے پی نے اپنے الیکشن منشور میں یہ بات کھل کرکہی تھی کہ پارٹی اقتدار میں آنے کی صورت میں دفعہ 370 ختم کرنے کے علاوہ مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ کے لئے طے کردے گی ۔ اس طرح پارٹی نے اپنے کام کا آغاز کرتے ہوئے پہلے مرحلے پر یو این ملٹری مشاہدین سے کہا ہے کہ وہ سرکار کی طرف سے ساٹھ سال پہلے الاٹ کی گئی عمارت کو خالی کردیں ۔ بتا یا جاتا ہے کہ یواین ملٹری آبزرور دفتر میں کام کررہے ملازمین اس پر سخت مایوس ہیں ۔ انہوں نے متبادل دفتر تلاش کرنا شروع کیا ہے ۔ لیکن تاحال انہیں کوئی مناسب جگہ نہیں مل رہی ہے ۔ اس وجہ سے وہ پریشان ہیں۔
دہلی میں مقیم ملٹری آبزرور گروپ اصل میں ہند و پاک کے درمیان قائم جنگ بندی لائن کا مشاہدہ کرنے کے لئے رکھا گیا ہے۔ اس گروہ کا بنیادی کام دونوں ملکوں کے درمیان متنازع سرحد پر پائی جانے والی کشیدگی کم کرنا اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کو روکنا ہے۔ ہند و پاک کی تقسیم کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر پر تنازع کھڑا ہوگیا ۔ اس پر دونوں ملکوں کے درمیان اب تک کئی جنگیں ہوئیں اور مسئلہ طے ہونے کے بجائے انتہائی پیچیدہ صورت اختیار کرگیا۔ اس دوران کشمیر کے بیچوں بیچ ایک جنگ بندی لائن قائم کی گئی اور دونوں ملکوں نے اس کا احترام کرنے اور مسئلہ کو بات چیت سے حل کرنے کا فیصلہ کیا ۔ جب تک مسئلہ حل ہوگا اس وقت تک کسی قسم کی جنگ بندی کی خلاف ورزی کو روکنے اور جنگ بندی لائن پر نظر رکھنے کے لئے یو این نے سرحد کے آرپار اپنے مشاہدین تعینات کرنے کا فیصلہ کیا۔ مشاہدین کے گروہ جنگ بندی لائن کے دونوں طرف موجود ہونے کے علاوہ دہلی اور کراچی میں بھی قیام کئے ہوئے ہیں۔ ان مشاہدین کی موجودگی سے اگرچہ دونوں ملکوں کے درمیان تنازع حل نہیں کیا جاسکا اور نہ جنگ بندی پر مکمل عمل کیا جاسکا ۔ تاہم ان مشاہدین کی موجودگی مسئلہ

کشمیر کے حل طلب ہونے کی علامت مانی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ این مشاہدین کو جب دفتر چھوڑنے کے لئے کہا گیا تو علاحدگی پسند حلقوں میں کافی کھلبلی پیدا ہوگئی۔ خود یو این مشاہدین گروپ کے سربراہ کا ماننا ہے کہ دفتر بند ہونے سے مسئلہ کشمیر پر سنگین اثرات پڑسکتے ہیں ۔ علاحدگی پسند حلقوں نے دہلی حکومت کے اس فیصلے کی کڑی نکتہ چینی کی ہے ۔ حریت (گ) نے اس کو ایک شرانگیز حرکت قرار دیا ہے ۔ حریت کے ایک ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ہندوستان حکومت نے ہی مسئلہ کشمیر یو این تک پہنچادیا اوروعدہ کیا کہ مسئلہ رائے شماری سے حل ہوگا ۔ بعد میں حکومت اپنے وعدے سے مکر گئی اور اپنے ہی وعدے پر عمل درآمد سے انکار کررہی ہے۔ ترجمان نے تازہ فیصلے کو ہندوستان کی دیدہ دلیری اور ہٹ دھرمی سے تعبیر کیا ہے ۔ حریت (ع) نے اپنے بیان میں اس کو ایک لاحاصل قدم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس وجہ سے مسئلہ کشمیر کے متنازع حیثیت کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ اسی طرح جے کے ایل ایف کے سربراہ یاسین ملک نے بھی دہلی سرکار کے اس فیصلے کی نکتہ چینی کی ہے ۔ سرکار نے کسی طرح کی نکتہ چینی کو خاطر میں لائے بغیر اپنا فیصلہ حتمی قرار دیا ہے ۔ اس وقت یو این گروپ کا دفتر دہلی میں پرانا قلعہ روڑ کے ایک شاندار بنگلے میں واقع ہے ۔ حکومت نے بنگلہ اپنے استعمال میں لانے کا اشارہ دیا ہے اور ملٹری گروپ کو یہاں سے نکلنے کے لئے کہا ہے ۔ اس طرح سے 1949 سے قائم یہ دفتر یہاں سے نکل کر کسی متبادل جگہ قیام کرنے کی تیاریوں میں لگا ہے ۔