مضامین

یوکرین:روس امریکہ رسہ کشی

یوکرین:روس امریکہ رسہ کشی

یوکرین روس اور امریکہ کی رسّہ کشی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ جب سے سوویت یونین تحلیل ہوئی ہے اس کی سابق ریاستوں میں جارجیا اور یوکرین بالخصوص ناٹو طاقتوں کی مداخلت کے باعث وفاقِ روس سے متصادم رہی ہیں۔ چنانچہ چند سال قبل جارجیا اور روس میں فوجی تصادم بھی ہوچکا ہے۔ وہاں بھی یوکرین کی طرح داخلی اور خارجی اسباب کے باعث صورت حال پیچیدہ ہوگئی تھی۔ جارجیا کو لگام دینے کے لیے روس نے اُس کی سابق علاقائی جمہوریاؤں ابخیزیہ اور اوسیشیا کو اْن کے اعلانِ آزادی کے بعد تسلیم کرلیا، اور جب جارجیا نے ان کی ’’بغاوت‘‘ فرو کرنے کے لیے ان پر بمباری کی تو روسی افواج نے جارجیا کو نشانہ بنایا اور ناٹو کا ٹولہ واویلا مچاتا رہ گیا مگر جارجیا کو شکست سے نہ بچا سکا۔
لیکن ناٹو کا مقصد روس کو بدنام کرنا اور اس کی ہمسایہ ریاستوں کو اس کے خلاف بغاوت پر اکساکر انہیں پہلے یورپی یونین، بعدازاں ناٹو کی غلامی میں لانا ہے۔ ورنہ اگر امریکہ اور یورپی یونین کسی اصول کی بنا پر روس کے معاملے میں مداخلت کرتے تو سب سے پہلے انہیں شیشان کی مدد کرنی چاہیے تھی جس سے کیے گئے معاہدے کو توڑ کر صدر پیوٹن نے 12 لاکھ آبادی والی غیور شیشانی ریاست کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور شیشانی قوم کی نسل کشی کا سلسلہ شروع کیا جو آج تک جاری ہے۔ مغرب نے دبی زبان سے شیشان کی آبادی پر روسی افواج کے مظالم کا گلہ تو کیا لیکن بالآخر شیشانی حریت پسندوں کو دہشت گرد قرار دے دیا، جب کہ تبت میں علیحدگی پسند مذہبی رہنما دلائی لامہ کو پزیرائی بخشی۔
لہٰذا ہم اس تناظر میں دیکھتے ہیں تو یوکرین میں بھی طاقت کا ننگا کھیل جاری ہے۔ اس کے عوامل خالصتاً تزویراتی ہیں۔ جس طرح روس اپنے دروازے پر روس دشمن جارجیا کو برداشت نہیں کرسکتا اسی طرح وہ یوکرین کو یورپی یونین میں جانے اور ناٹو کا اڈہ بننے کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتا۔ میں نے اپنے سابقہ کالم میں تزویراتی حیثیت بیان کردی تھی کہ اس ریاست کا تعلق براہِ راست روس کی علاقائی سالمیت سے ہے۔ یوکرین کے عوام کو روس سے علیحدہ کرنے پر اکسانے والی طاقتوں کو سوچنا چاہیے تھا کہ جب روس نے یوکرین سے 1997ء کے معاہدے میں بحیرہ اسود میں واقع اپنے بحری بیڑے کے لیے پہلے بیس سال، بعد ازاں اس کی مدت میں توسیع کرکے 2042ء تک کا پٹہ لکھوا لیا ہے، ساتھ ہی اس معاہدے میں مزید توسیع کی گنجائش بھی رکھی ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ یوکرین اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر کالعدم قرار دے کر روس کی بحریہ کو اس کے اڈوں سے بے دخل کردے؟ یوکرین تو اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اور اس کے ہمنوا یورپ اور امریکہ بھی بحیرہ اسود پر چڑھائی کرکے روس کی بحریہ سے اس کے اڈے خالی نہیں کرا سکتے۔ کیا روس کیوبا کی سرزمین میں واقع گوانتاناموبے میں موجود امریکی بحریہ سے اس کے اڈے خالی کرا سکتا ہے؟ باوجود اس کے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے منظور کی گئی قرارداد میں اسے یہ اڈہ خالی کرکے کیوبا کے حوالے کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ گوانتاناموبے کیوبا کی سرزمین میں واقع ہے جس پر قانوناً اس کی حاکمیت ہے۔ اسی طرح کیا روس بحیرہ ہند میں ڈیگوگارشیا میں قائم امریکی زمینی، بحری، فضائی اڈہ خالی کرا سکتا ہے؟ جب کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اپنی قرارداد میں اسے ڈیگوگارشیا سے انخلا اور اس کی ماریشس کو بحالی کرنے کی ہدایت کر چکی ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ بین الاقوامی قانون اور عالمی تنظیم طاقت کے آگے بے بس ہو جاتے ہیں، کیونکہ طاقت کا جواب طاقت ہی ہے، لیکن اگر فریقین کی طاقت برابر ہوتو تعطل ناگزیر ہو جاتا ہے۔
مبصرین اور تجزیہ کاروں کی سب سے بڑی منافقت یہ ہے کہ سوویت یونین کے خاتمے کو وہ سرد جنگ کے خاتمے سے تعبیر کرتے ہیں، جب کہ ایسا نہیں ہے، کیونکہ یہ ضرور ہے کہ سوویت یونین کے خاتمے کے ایک عشرے تک روس اور امریکہ کے مابین تعلقات روبہ معمول نظر آئے لیکن امریکہ نے روس کی مفاہمتی پالیسی سے یہ اندازہ لگایا کہ اس کی صلح جوئی اس کی کمزوری ہے، تو اس نے پر پرزے جھاڑنے شروع کردیے۔ سوویت یونین کے انہدام کے باعث اس کی سرحدی مشرقی یورپی ریاستیں جو ناٹو کے مدمقابل وارسا معاہدے کی رکن ہوا کرتی تھیں، اشتراکیت کے خاتمے کے بعد ایک ایک کرکے جاگیردارانہ/ سرمایہ دارانہ نظام اپناتی گئیں تو ناٹو کے خلاف روس کی قائم کردہ دفاعی فصیل خودبخود زمین بوس ہوگئی، جب کہ ناٹو نے وارسا معاہدے کی سابق کمیونسٹ رکن ریاستوں کی بھرتی شروع کردی، اس طرح سرد جنگ کے مقابلے میں 16 رکنی ناٹو 28 رکنی فوجی معاہدہ بن گیا۔ میخائل گورباچوف اور شراب کے نشے میں ہر دم دھت رہنے والا صدر بورس یلسن روس کے غیر محفوظ مغربی محاذ پر صف آرائی کرنے کے بجائے اپنی قوم پرست پارلیمان ڈیوما سے محاذ آرائی میں مصروف تھے اور پارلیمان کی عمارت اور اس کے ارکان کو توپ سے اڑا دیا۔ اتنا بڑا المیہ ہوگیا اور مغربی میڈیا نے اسے اصلاح پسند بورس یلسن اور قدامت پسند کمیونسٹ عناصر کا تصادم قرار دے کر جمہوریت کی فتح پر محمول کیا۔
سوویت یونین کی شکست و ریخت کے بعد روس کھوکھلا ہوگیا اور اس کی معیشت بحران کا شکار ہوگئی تو مغربی میڈیا نے ڈھنڈورا پیٹنا شروع کردیا کہ اب دنیا میں دو قطبی نظام ختم ہوگیا ہے اور اس کی جگہ یک قطبی نظام نے لے لی ہے جس کا سرخیل امریکہ ہے۔ استعماری ٹولے کا یہ پروپیگنڈا اتنا پھیلایا گیا کہ کسی کالم نگار نے یہاں تک کہہ دیا کہ اوپر اللہ اور نیچے امریکہ۔ غلامانہ ذہنیت کی اس سے بدتر مثال کا تصور محال ہے۔
روس کی عالمی سیاست میں بے عملی سے یہ تاثر عام ہوگیا کہ اب امریکہ دنیا کی عظیم ترین طاقت ہے کیونکہ امریکہ نے یکے بعد دیگرے افغانستان اور عراق پر فوج کشی کرکے ان ممالک پر قبضہ کرلیا جب کہ روس خاموش تماشائی بنا دیکھتا رہا۔ لیکن یہ تاثر غلط ہے کہ اگر روس نے امریکہ یا اسرائیل کی جارحیت کو لگام نہیں دی تو وہ اب عظیم تر طاقت نہیں رہا۔ کیونکہ دو قطبی نظام میں بھی امریکہ نے 1950ء میں کوریا پر چڑھائی کردی اور روس کچھ نہ کرسکا۔ روس نے 1956ء میں ہنگری اور 1968ء میں چیکوسلواکیہ پر فوج کشی کردی تو امریکہ کچھ نہ کرسکا۔ آخر امریکہ نے 1964ء میں ویت نام پر بھرپور حملہ کردیا تو سوویت یونین نے براہِ راست مداخلت تو نہیں کی البتہ ویت نام کو سام میزائل اور سامانِ حرب دیتا رہا اور باقی جنگ وہاں کے حریت پسندوں نے لڑی اور جیتی۔ 1979ء میں روس نے افغانستان میں فوجی مداخلت کی تو امریکہ وہاں اپنی فوج بھیجنے کے بجائے پاکستان کے ذریعے مجاہدین کو رقوم اور اسلحہ فراہم کرتا رہا تاکہ روس کے خلاف مزاحمت جاری رہے۔ اس طرح سرد جنگ کے خاتمے کے بعد جب امریکہ نے افغانستان پر دھاوا بول کر اس پر قبضہ کرلیا اور روس خاموش رہا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صرف سرد جنگ کے ’’خاتمے‘‘ کے بعد روس غیر فعال ہوگیا، کیونکہ اس جنگ کے عہدِ شباب میں بھی اگر امریکہ کسی چھوٹے ملک پر حملہ کردیتا تو روس براہِ راست مداخلت نہیں کرتا تھا۔ اسی طرح جب روس کسی ملک پر چڑھ دوڑتا تو امریکہ چپ سادھے رہتا۔
تو یہ دلیل کہ سرد جنگ اس لیے ختم ہوگئی کہ اب امریکہ ہی سب سے بڑی طاقت ہے جس کا کوئی مدمقابل نہیں، زمینی حقائق کے خلاف ہے۔ کیونکہ گو اقتصادی اور مالی اعتبار سے امریکہ ہمیشہ سوویت یونین سے آگے رہا ہے لیکن فوجی اعتبار سے دونوں مساوی تھے، جس کا اندازہ دونوں کے مابین (1) 2 نومبر 1972ء کے میزائل شکن معاہدے، (2) میزائلوں اور انہیں داغنے والی چرخیوں کی تعداد میں توازن پر مبنی SALT، START، INF معاہدوں کے ذریعے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ ان معاہدوں کا مقصد یہ تھا کہ دونوں عظیم تر طاقتوں میں سے کسی کو دوسرے پر سبقت نہیں حاصل ہونی چاہیے کہ مبادا زیادہ اسلحہ کی حامل ریاست دوسرے پر حملہ ٓور ہوجائے۔ چنانچہ جب جارج بش نے 26 نومبر 1972ء میں قائم کی گئی میزائل شکن ڈھال میں یکطرفہ طور پر توسیع کرنا شروع کردی تو یہ نازک توازنِ طاقت امریکہ کے حق میں بدلتا ہوا محسوس ہوا۔ پس اْس دن سے دونوں کے مابین چپقلش اور سرد جنگ کی بداعتمادی در آئی اور پیوٹن نے پولینڈ اور چیکوسلواکیہ کو دھمکی دی کہ اگر انہوں نے امریکی منصوبے پر عمل کرتے ہوئے اپنی سرزمین پر ریڈار اور میزائل شکن ڈھال کی تنصیب کی تو روس اسے اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے حفظ ماتقدم کے طور پر انہیں نشانہ بنا سکتا ہے۔ ہرچند کہ صدر اوباما نے لیپا پوتی کرنی شروع کردی کہ دراصل یورپ میں میزائل شکن ڈھال اور ریڈار کی تنصیب کا مقصد یورپ کو ایران کے ممکنہ حملے سے محفوظ رکھنا ہے۔ لیکن پیوٹن کوئی دودھ پیتا بچہ تو نہیں کہ اوباما کی طفل تسلی سے مطمئن ہوجائے۔
جب ایک بار فضا میں بداعتمادی در آئے جس کی عمل غمازی کرتا ہے تو نفسیاتی جنگ تو اسی دن سے شروع ہو جاتی ہے۔ اسی طرح سرد جنگ شروع ہوئی تھی اور دنیا کے مختلف خطوں میں تصادم شروع ہوگیا تھا۔ آج بھی شام میں امریکہ اور روس اسی طرح متصادم ہیں جیسے ویت نام یا افغانستان میں (1980۔88) تھے۔ کیا سرد جنگ کے دور میں امریکہ اور سوویت یونین نے سلامتی کونسل میں ایک دوسرے کی قراردادوں پر ویٹو نہیں لگایا؟ کیا آج روس بشارالاسد کی ویسی ہی حمایت نہیں کررہا جیسے وہ امریکی حملے کے دوران شمالی ویت نام کی کمیونسٹ حکومت اور جنوبی ویت نام کی باغی عبوری جمہوریہ کی دامے درمے قدمے سخنے مدد کر رہا تھا؟ کیا آج امریکہ اور اس کی حلیف ریاستیں شام میں باغیوں کو رقوم اور اسلحہ نہیں فراہم کررہی ہیں جیسے وہ افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف مجاہدین کو کمک پہنچاتی تھیں؟
کریمیا میں روسی آبادی کے مقامی حکومت پر قبضے اور روس سے الحاق کے اعلان پر ناٹو نے بحیرہ اسود میں میزائل شکن امریکی جہاز کو بحیرہ اسود جانے کا حکم دے دیا، نیز روس سے متصل بحر بالٹک کی ریاستوں لٹویا، لیتھوینیا، اور اسٹونیا میں یوکرین کی سرحدوں کی نگرانی کرنے والے جاسوسی طیاروں کو بھیج دیا۔ یہ کتنا اشتعال انگیز قدم ہے۔ ایسی کشیدگی کی فضا میں اگر کوئی طیارہ غلطی سے روس کی سرحد میں بھٹک جاتا ہے تو اْس کا (روس) ردعمل کیا ہوگا؟ کیا یہ سرد جنگ نہیں ہے؟ یہ خیال کہ 1945ء تا 1991ء جاری سرد جنگ نظریاتی تھی جب کہ اب نظریات کا دور ختم ہوگیا اس لیے موجودہ تصادم کو سرد جنگ سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا، بڑا سطحی ہے۔ کیونکہ سرد جنگ کا موجب نظریہ نہیں تزویراتی عوامل تھے اور فریقین نے اپنے اپنے تزویراتی مفاد کے جواز کے لیے نظریے کو بطور آلہ استعمال کیا اور آج بھی کیا امریکہ یوکرین میں جمہوری نظریے کو اپنی مداخلت کا جواز نہیں بنا رہا ہے؟ اور کیا اسلامی بنیاد پرستی اور مذہبی انتہا پسندی کا واویلا کرکے وہ اعتدال پسند جمہوریت کا ڈھنڈورا نہیں پیٹ رہا؟ اور اس کی بنا پر وہ روس، چین، ایران، عوامی جمہوریہ کوریا ، وینزویلا اور پاکستان کی حکومتوں کو بلیک میل نہیں کررہا؟
دریں اثناء روس نے خیف میں باغیوں کے مرکزی حکومت پر ناجائز قبضے کے جواب میں کریمیا میں اس کی یوکرین سے علیحدگی پر 16 مارچ کو رائے شماری کرائی تو اْسے اس سے باز رکھنے کے لیے ناٹو کا سارا ٹولہ شور و غوغا کرنے لگا کہ یہ غیرقانونی اقدام ہے، لیکن صدر پیوٹن نے خیف کی باغی حکومت کو ناجائز جب کہ کریمیا کے مستقبل کے بارے میں کی جانے والی رائے شماری کو قانونی قرار دے دیا، واضح رہے کہ اس رائے شماری میں 96فیصد سے زائد لوگوں نے روس سے الحاق کے حق میں رائے دی،لہٰذا اس رائے شماری کے مطابق کریمیا روس کا حصہ ہوگا۔جب کہ روس کے مندوب نے امریکہ کی جانب سے پیش کردہ مسودہ قرارداد کے خلاف حقِ تنسیخ استعمال کرکے اسے ناکارہ بنا دیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مذکورہ رائے شماری کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ قرارداد کے حق میں 13 ووٹ ڈالے گئے جب کہ عوامی جمہوریہ چین نے اس میں حصہ نہیں لیا ۔ اس پر کونسل میں امریکی مندوب خاتون Samantha Power نے کہا کہ ویٹو لگا کر روس تنہا ہو گیا ہے۔لیکن شاید انہیں یاد نہیں کہ اسی طرح امریکہ بھی فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے حق میں ویٹو لگا کر تنہا ہو جاتا تھا لیکن کیا اس نے کبھی اس کی پروا کی؟ امریکہ کو گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی بڑی خفت اٹھانی پڑی جب ہمہ گیر اکثریت نے فلسطین کو اقوام متحدہ کا غیر رکنی مبصر تسلیم کرلیا۔ حد تو یہ ہے کہ امریکہ کی حلیف ناٹو کی یورپی ریاستوں نے بھی فلسطین کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ یہ امریکہ کی بے بسی تھی کہ اسے جنرل اسمبلی میں ویٹو کا اختیار نہیں تھا۔
یورپ اور امریکہ بلاسبب روس سے الجھ رہے ہیں اور وہ بھی ایسے محاذ پر جو امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی سے بہت دور ہے اور روس سے اتنا قریب۔ روس نے دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمنی کو کریمیا اور یوکرین سے پسپا کر دیا تھا۔ اگر کریمیا کی آبادی روس میں ضم ہونا چاہتی ہے تو کیا اسے حقِ خودارادیت کے تحت روس میں انضمام کا حق نہیں ہے؟ یا اگر وہ اپنی آزاد حیثیت باقی رکھنا چاہتی ہے تو اسے اس کا اختیار نہیں ہے؟ لیکن اگر روس کریمیا میں علیحدگی یا انضمام کے مسئلے پر رائے شماری کراتا ہے تو یہی اختیار اسے شیشان کے خودمختار علاقے کے عوام کو بھی دینا ہو گا جس پر وہ فوجی قبضہ کیے بیٹھا ہے۔
پروفیسر شمیم اختر