اداریہ

یہ سیاسی دھوکہ نہیں تو اور کیا…؟

ریاست میں پارلیمانی انتخابات میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی کامیابی کیا ہوئی کہ دونوں پارٹیوں نے اسمبلی انتخابات 2014 میں بھی میدان مارنے کے لئے کافی تگ و دو کی۔ پارلیمانی انتخابات میں کشمیر کی سبھی نشستوں یعنی تینوںسیٹوں پر پی ڈی پی کی جیت درج ہوئی اور جموں اور لداخ کی سبھی تینوں نشستوں پر بی جے پی کو کامیابی ملی۔ اسطرح سے دونوں پارٹیوں پی ڈی پی اور بی جے پی نے ریاست کی سبھی پارلیمانی نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جس کے بعد دونوں پارٹیوں میں اسمبلی انتخابات 2014 کیلئے کافی حرارت پیدا ہونے لگی اور دونوں پارٹیوں کے لیڈران عوام کو سبزباغ دکھانے میں کوئی کثر باقی نہیں چھوڑ چکے تھے۔ حریف پارٹیوں کے لیڈران ایک دوسرے پر الزامات لگا کر ایک دوسرے کو ملزم و مجرم ٹھہراتے تھے۔ وادی میں خاص کر پی ڈی پی کے لیڈران نے ایک زور دار مہم چلائی جس میں صدفیصد کوشش کی گئی کہ ریاست میں کسی بھی طرح سے بی جے پی کو حکومت سے دور رکھا جائے ۔ پارٹی لیڈروں نے اس دوران بی جے پی کے خلاف زبردست پروپیگنڈا شروع کیا، یہاں تک کہ پارٹی صدر اور موجودہ وزیراعلیٰ محبوبہ نے بھی دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ بی جے پی کو ووٹ دینا مسلمان دشمنوں کو ووٹ دینے کے برابر ہے، انتا ہی نہیں محبوبہ مفتی نے اس وقت یہ بھی کہا کہ نریندر مودی کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور بی جے پی کو ووٹ دینا مسلمانوں کے قاتلوں کو ووٹ دینا ہے۔
بہر حال وہ زمانہ بھی نہ رہا ریاست میں اسمبلی انتخابات ہوئے اور پی ڈی پی نے ریاست کی سب سے بڑی پارٹی کے طور جیت حاصل کی اور بی جے پی بھی ریاست کی کامیاب ہونی والی دوسری بڑی پارٹی کے طور پہلی بار اُبھر آئی، اس طرح سے دونوں پارٹیوں نے ملاپ کر کے اپنے اپنے ووٹروں کو دھوکہ دیا ، دونوں پارٹیوں نے مفتی محمد سعید کو لیڈر منتخب کر کے وزیراعلیٰ کے عہدے پر براجمان کیا، تاہم مفتی محمد سعید کی رحلت کیا ہوئی کہ اس دوران حکومت ٹوٹ گئی اور ریاست میں گورنر راج کا نفاذ عمل میں لانا پڑا، اس دوران محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے ساتھ تقریباً تین ماہ تک کوئی سمجھوتہ نہ کیا، بالآخر جب محبوبہ مفتی کو اپنے پارٹی کے کئی لیڈروں کی طرف سے خدشات کا اظہار ہوا تو محبوبہ مفتی فوراً دہلی روانہ ہوئی اور وزیراعظم نریندر مودی سے آشرواد مانگا۔ وزیراعظم کا آشیرواد مل جانے کے بعد محبوبہ نے ریاست میں نئی سرکار بنانے میں بہت جلدی کی۔
اب جبکہ25 مئی کو پی ڈی پی بی جے پی نئی سرکار کا پہلا اسمبلی اجلاس شروع ہوا، جس میں اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کو ہدف تنقید بنا کر کھری کھری سنایا، تاہم اگلے ہی روز وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے حزب اختلاف کے لیڈر عمر عبداللہ پر پلٹ وار کرتے کرتے ایک بار پھر اپنے ووٹروں کو دھوکہ دے کر پنڈتوں کی باعزت گھر واپسی کا موزون وقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کبوتروں کو بلیوں کے سامنے کھلا نہیں چھوڑا یاجائے گا۔ یعنی محبوبہ مفتی نے اپنے ووٹروں کو بلی اور پنڈتوں کو کبوتر کے القاب سے نوازا اتنا ہی نہیں اگلے روز جب کبوتر بلی والا بیان پر ایک قسم کا تنازعہ بننے لگا اور اس پرمزاحمت کی گئی تومحبوبہ مفتی کو صفائی کے طور ایک الگ بیان دینا پڑا جس میں انہوں نے کہا کہ کبوتر بلی کی مثال کا غلط مطلب نکالا گیا، میرا اشارہ مسلمانوں کی طرف سے نہیں بلکہ وندہامہ کے قاتلوں کی طرف سے تھا۔ محبوبہ مفتی کا ٹیون بدل کر یہ بتانا کہ میں نے کشمیریوں سے نہیں وندہامہ کے قاتلوں کے خطرہ کے بارے میں کبوتر اور بلی کی مثال دی یہاں بھی ایک سوال کھڑا ہوتا ہے کہ اگر محبوبہ مفتی جانتی ہے کہ وندہامہ کے ساتھ ساتھ اس طرح کے دوسرے واقعوں کے قاتل کون تھے تو وہ ان قاتلوں کو ننگا کرنے کی جرأت کیوں نہیں کرتی؟ اب جبکہ وہ ریاست کی وزیراعلیٰ بھی ہیں۔
یہاں پر یہی اخذ کیا جاتا ہے یہاں کی یہ ریت رہی ہے کہ یہاں جو حزب اختلاف میں آتا ہے وہ میٹھی میٹھی سنا کر سچائی کا علمبردار بن جاتا ہے حالانکہ جب یہ اقتدار میں ہوتے ہیں تو ان پر بھی ایسے ہی الزامات لگ جاتے ہیں جو وہ اپوزیشن میں رہ کر دوسروں پر لگاتے ہیں یہ سیاسی دھوکہ نہیں تو اور کیا ہے