اداریہ

یہ لاک ڈائون ہے ’لاک ڈائون کا ٹرائیل نہیں ‘

جموں وکشمیر میں کو رونا وائرس کے پھیلا ئو کے اعتبا ر سے اپریل کا مہینہ ایک خوابِ بد کی طرح ہما رے اجتما عی یا انفرادی حافظے میں تا دیر موجود رہے گا کیو نکہ اس ما ہ میں کورونا وائرس کے پھیلا ئو کے اندر ایک تشویشنا ک اُچھا ل درج کی گئی اور اب صورتحا ل یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ آگے کا کچھ پاتہ نہیں ہے ۔30اپریل کو کورونا وائرس کے پینتیس سو سے زائد معاملا ت سامنے آئے جو اب تک کا ریکا رڈ اضافہ ہے اور اس دوران اموات کی تعداد بھی ہر آن بڑ ھتی ہی جا رہی ہے ۔جموں وکشمیر کی لیفٹیننٹ گو رنر انتظامیہ نے خطرے کو بھا نپتے ہو ئے اِس مر کزی زیرانتظام علا قہ کے گیا رہ اضلا ع میں چُراسی گھنٹوں پر محیط کورونا کر فیو کا نفاذ عمل میں لا نے کا فیصلہ کیا جو فی الحال نا فذ العمل ہے تاہم زمینی سطح پر جس صورتحال کا مشاہدہ ہو رہا ہے اس سے لگ رہا ہے کہ حکو مت لاک ڈائون کو سختی سے نا فذ کرنے میں سنجید ہ نہیں ہے اور ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے یہ ’لاک ڈائون نہیں بلکہ لا ک ڈائون کا ٹرائیل ‘ ہو رہا ہے۔وادی کے شہر و گام میں ہر گلی اور ہر کو چے پر پو لیس اور نیم فو جی دستوں کی ٹکڑیا ں تعینا ت ہیں مگر عام لوگ پیدل بھی اورسوار بھر موٹران بھی گھو مے جا رہے ہیں اور تعینا ت اہلکا ر علیک سلیک پر ہی اکتفا کر جا تے ہیں کسی کو روکتے ٹوکتے ہر گز نہیں ۔ایک ایسے وقت میں جب لاک ڈائون کی خلاف ورزی کر نے والوں یا بے جا اپنے گھروں سے موٹریں اور سکوٹر لے کر نکلنے والوں کیخلا ف کا روائی ہو نی چاہئے تھی اقبال پا رک کے متصل پو لیس اہلکا ر آنے جا نے والی گا ڑیوں اور سکو ٹروں کے کا غذات چیک کر کے چالان کا ٹ رہے ہیں اور یہ با ت ایک ذی حِس انسان کی سمجھ سے با لکل ہی بالا تر ہے کہ لا ک ڈائون کے دوران چالان ہاتھ میں لے کر جا نے والا جا ئے تو جا ئے کہاں ۔شہر کے متعدد علا قوں میں کورونا کر فیو کے پہلے اور دوسرے روز جومنا ظر چشم فلک نے دیکھے ان میں متعدد چوراہوں پر تعینات پولیس اور نیم فوجی دستوں کے جما ئیاں لینے کے مناظر بھی شامل ہیں اور اس دوران ہر آنے جا نے والا آسانی کے ساتھ آ جا رہا ہو تا ہے ۔لاک ڈائون کے نفا ذ کا مطلب و مقصد یہ بیان کیا گیا تھا کہ اس سے کو رونا وائرس کے پھیلا ئو کا دائر ہ ٹوٹ جا ئے گا اور اس مہلک وائرس سے اہلیا ن جموں وکشمیر کو نجا ت حاصل ہو گی مگر یہ با ت بلا خوف ِ تر دید کہی جا سکتی ہے کہ خود حکو مت اس لا ک ڈائون کو سختی کے ساتھ عملانے میں سنجید گی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے۔گزشتہ روز کے لا ک ڈائون کے دوران ہر گلی کی نکڑ پر کوئی نہ کو ئی سبزی فروش یا پھر میو ہ فروش دکھا ئی دے رہا تھا اور لو گ بھی بغیر کسی روک ٹوک کے خریداری کر نے میں محو و مصروف دکھا ئی دے رہے تھے۔ایسے میں لا ک ڈائون کا اصل مقصد فو ت ہوتا ہوا دکھا ئی دے رہا تھا جو کہ ایک تشویشنا ک امر ہے ۔یہ با ت بھی سچ ہے کہ وادی کے عوام جیسے اب مو ت کے ساتھ ما نو س ہو چکے ہیں اور ان کے دل اب اتنے تند و سخت ہو چکے ہیں کہ انہیں کسی چیز سے کو ئی ڈر نہیں لگتا مگر یہاں یہ با ت بھی قابل ذکر ہے کہ عام لوگوں کو صورتحال کی سنگینی کا ادراک کر کے اپنے آپ کو بھی اور اپنے آس پڑوس کے لوگوں کو بھی اس مہلک وبا ء سے بچانے کی سعی و کو شش کر نی چاہئے ۔حکو مت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ لاک ڈائون کو محض ایک مذاق نہ بنا ئیں بلکہ اس لا ک ڈائون کے مطلو بہ نتا ئج کے حصول کے لئے اپنی مشینری کو متحرک کر کے اس پر سختی کے ساتھ عمل درآمد یقینی بنا ئے تاکہ ہمیں اس طرح کی صورتحال کا سامنا نہ کر نا پڑ ے جو دہلی ،ممبئی ،اُتر پر دیش اور کر نا ٹک جیسے شہروں کے لوگوں کو کر نا پڑ رہا ہے ۔