اِسلا میات

۔۔۔اور رب کی نعمت کا خوب خوب چرچا کرو

۔۔۔اور رب کی نعمت کا خوب خوب چرچا کرو

عبدالمعید ازہری
خدا کابنایاہوا نظام پوری کائنات اور جملہ مخلوقات کے لئے جامع اور کافی ہے۔قانون الٰہی قیامت تک بلکہ اس کے بعد بھی جب تک رب کی مشیئت ہو ، جاری و ساری رہے گا۔تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے بلکہ ان پر لازم ہے کہ رب کے بنائے ہوئے نظام اور قانون کو مانیں اور اس پر عمل کریں۔اس سے مخالفت نجات کا راستہ نہیں۔اللہ تعالی ساری کائنات اور جملہ مخلوقات کا خالق ہے ۔ اللہ ہی قادر مطلق اور علم حق و یقین کا مالک ہے ۔جو عمل ضروری تھا یعنی جن کے ترک پر نقصان تھا اسے لازم و ضروری قرار دے دیا۔جن اعمال سے نقص تھا ان سے منع کر دیا۔اس فرض وحرام کے درمیان اکثر اعمال حلال و مباح کے ہیں جنہیں رب نے انسان کے صواب دید پر چھوڑ دیا۔کوئی بھی مسلمان ان اعمال کی فرضیت اور حرمت پر سوال نہیں کر سکتا جو رب کریم کی جانب سے قرار شدہ ہیں۔ باقی مسائل میں حالات و ضروریات کے پیش نظر عمل ہوتا رہا ہے اور ہو رہا ہے ۔رسول اللہ ﷺ نے خود اس ضابطہ پر عمل کیا اور صحابہ کرام نے ان کی اتباع کی اور ہمیں بھی ایسا ہی کرنے کا حکم دیا گیا۔اب ان اعمال کے بارے میں سوال بدستور باقی ہے جن کے بارے میں کچھ حکم نہیں کہ جائز ہے یاجائز نہیں ہے ؟شروع ہی سے علماء و فقہاء کا عمل رہا ہے کہ جس کو اللہ نے حرام نہیں کہا اسے کسی نے حرام نہیں کیا اور جسے اللہ نے واجب و ضروری نہیں کیا اسے واجب و ضروری نہیں کیا۔ ایسے اعمال لوگوں پر ترک تھے چاہے تو کریں چاہے تو نہ کریں جسے ہم فقہ کی اصطلاح میں جائز مباح اور حلال کہتے ہیں۔کسی بھی انسان کو اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ قانون الٰہی میں دخل اندازی کرے کیوں کہ ایسی صورت میں یاتو وہ یہ سمجھ رہا ہے کہ قانون الٰہی ناکافی اور نامکمل ہے یا پھر کچھ احکام پر حکم لگا نا رہ گیا تھا اور خدائی کا یہ دعوی کسی مسلمان کا نہیں ہو سکتا۔رسول اللہ ﷺ کی شان یہ ہے کہ وہ جس کا م کو انجام دیں وہ سنت ہے اور اس پر عمل باعث ثواب ہے البتہ اس کو منع نہ کیا ہو جیسے تعدد ازواج وغیرہ ۔ ایسے ہی صحابہ کا عمل ہے کیوں کہ ان کے بارے میں رسول اللہﷺ کا قول ہے کہ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں جس کی بھی اقتدا کر لوگے ہدایت پر رہوگے ۔شریعت میں یہ گنجائش تو ہے کہ ان اصحاب کا عمل باعث نجات و ثواب ہو لیکن ترک عمل میں ایسا نہیں یعنی جو عمل رسول اللہﷺنے یا انکے صحابہ نے نہ کیا ہو وہ عمل حرام یا ناجائز ہو جائے ایسا نہیں۔اذان رب کے نزدیک ایک پسندیدہ عمل ہے اس کے بارے میں علماء کے اقوال ہیں کہ آپ ﷺ نے اذان نہیں دی ۔ جب کہ دس برس سے زائد کا عرصہ ایسا رہا جب نماز کی فرضیت کا حکم آ چکا تھا اذان کے اوقات آئے پر آپ نے نہ دی لیکن آپ کے ترک کی وجہ سے حرام نہیں ہوا ۔صحابہ نے خوب اذانیں دیں۔ ایسے ہی قرآن کے نزول کا سلسلہ آپ کے ظاہری حیات پر ہی منتہی ہو گیا تھا آپ نے اسے یکجا نہ کیا پھر بھی اس کا یکجا کرنا حرام نہ ہو ا کیوں کہ بعد میں یہ عمل کیا گیا۔ نماز جمعہ میں رسول سے لیکر حضرت عمر تک کسی نے دو اذانیں نہ کیں لیکن حضرت عثمان نے ایساکیا اور وہ عمل حرام نہ ہوا۔اب ہر انسان اپنی موجودہ زندگی کے اعمال کا جائزہ لے خواہ وہ خالص دینی ہو یا سیاسی و سماجی اور محاسبہ کرے کہ ایسے کتنے اعمال وہ کرتا ہے اور اس انداز سے کرتا ہے جیسے رسول اللہ ﷺ اور ان کے صحابہ نے کیا تھا ۔اس محاسبہ کے بعد اندازہ ہوگا کہ کسی کا ترک عمل اگر سبب حرام ہوتا تو زندگی کتنی مشکل ہوتی۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں ارشاد فرمایا :’’واما بنعمۃ ربک فحدث‘‘اور اپنے رب کی نعمت کا خوب خوب چرچا کرو(ترجمہ)اب انسان کیا پوری مخلوق کا تمام تر وجود نعمت ہے تو کس نعمت کا ذکر و تذکرہ کرے ۔قرآن ہی میں اللہ تعالی نے فرمایا : ’’لقد من اللہ علی المؤمنین اذ بعث فیہم رسولا‘‘اور ضرور بے شک اللہ تعالیٰ نے مومنین پر احسان فرمایا کہ ان میں رسولﷺ کی بعثت فرمائی(بھیجا) (ترجمہ)۔ ایک جگہ اور رب فرماتا ہے : ’’ورفعنا لک ذکرک ‘‘اور ہم نے تمہارے لئے تمہارے ذکر کو بلند کر دیا۔جس کی بعثت کا ذکر رب کر رہا ہو اور اسے احسان اور منت قرار دے رہا ہو سارے مؤمنین کیلئے پھر اس کے ذکر کو خود بھی بلند کیاہو تو یہ ہمارے لئے تو باعث فخر ہے کہ اس کا چرچا کریں، خوشیاں منائیں ۔ اور ذکر وتذکرہ ،چرچا ایک دو میں نہیں بلکہ عوام میں ہوتا ہے ۔ تو پوری اجتماعیت کے ساتھ ذکر کرو۔ چونکہ کوئی خاص طریقہ مذکور ومطلوب نہیں تو جو بھی طریقہ کسی اسلامی اصول کے خلاف نہ ہو درست ہے ۔ کھڑے ہو کر بیٹھ کر ، مسجد میں ، محلہ میں ایک میں ، ہزارمیں درود و سلام اور ذکر و اوراد کے ساتھ ان کا چرچا کرو۔پوری دنیا کو بتاؤ کہ ہم خوش ہیں کیونکہ ہم مؤمن ہیں آج وہ دن ہے جس دن ہم پر انعام ہو ا کہ ہم ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے محسن آج ہی کے دن مبعوث ہوئے ۔
ہر دور میں اپنے اپنے طریقہ سے اس نعمت کا تذکرہ ہوا ہے خود سرکا ر نے بھی اپنے تذکرہ کیا ہے ۔
امت مسلمہ کے ساتھ یہ ایک المیہ ہے کہ لازم پر عمل اور حرام کے ترک کی دعوت کی بجائے کچھ لوگوں نے حلال و مباح کو واجب و حرام کی قید میں ڈال کر خدائی کا دعوہ کرنے کا شوق پال رکھا ہے۔اس سے ہماری قوم پسماندگی در پسماندگی کی جانب رواں دواں ہو کر مزید مسائل سے دو چارہو رہی ہے۔انسانیت کے ناطے بھی کسی کے جذبات کو مجروح کرنے کی اجازت کوئی مذہب نہیں دیتا ۔ اغیار کو دعوت کا طریقہ قرآ ن نے بتایا : ’’ادعو الی سبیل ربک بالحکمۃ ولاموعظۃ الحسنۃ و جادلھم باللتی ھی احسن‘‘اور اللہ کی جانب لوگوں کو حکمت سے دعوت دو اور خوبصورت وعظ و نصیحت کے ساتھ اور ان سے بحث کرو نہایت ہی مہذب انداز میں (ترجمہ)۔ قرآن کی یہ آیت ہمیں دعوت تبلیغ اصلاح و تنبیہ کا طریقہ بتا رہی ہے ۔ پہلے تو حکمت کا استعمال کرو، پھر اچھے انداز میں وعظ نصیحت کے ذریعہ اصلاحی باتیں کرو اور اگر پھر ضرورت پڑے گفتگو کرنے کی تو نہایت ہی احسن طریقہ استعمال کرو۔کسی بھی مسائل پر گفتگو کرنے والے قرآن کے اس انداز کو ضرور ملاحظہ کریں اور اگر سمجھ نہ آئے تو اس کا عملی نمونہ نبی ﷺ کی ذات میں دیکھ لیں کیوں کہ ان کے انداز گفتگو کے بارے میں قرآن کہتا ہے : ’’و انک لعلی خلق عظیم ‘‘اور بے شک آپ خلق عظیم کے ساتھ آئے(ترجمہ)۔ ہر ایسی اصلاح سے گریز کریں جس سے بجائے نفع کے ،مزید نقصان ہو جب تک اس کی اشد ضرورت نہ ہو