مضامین

۔۔۔اور ہلاکت مشکوک بتائی

۔۔۔اور ہلاکت مشکوک بتائی

8 جولائی کو برہان وانی کی ہلاکت کے بعد جب وادی میں سنگین حالات پیدا ہو گئے تو سابق نائب وزیراعلیٰ اور اور ممبر پارلیمنٹ مظفر حسین بیگ نے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کو مشکوک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انکی معلومات کے مطابق یہ ہلاکت سپریم کورٹ رولنگ کے منافی ہے۔ انہوں نے برہان مخالف آپریشن کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطحی کمیشن تشکیل دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر وزیرا علیٰ کو آپریشن سے قبل اعتماد میں لیاگیا ہوتا تو موصوفہ ممکنہ طور محصور یا موجود جنگجوؤں کو ہلاک نہ کرنے کی ہدایت دیتیں۔بیگ نے کہاکہ انکے پاس جو معلومات ہیں اور جو رپورٹیں آرہی ہیں، ان سے یہی نتیجہ اخذہوتا ہے کہ کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت مشکوک ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کی رولنگ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کسی بھی شخص بشمول جنگجو کو گرفتاری کے بعد ہلاک نہیں کیا جاسکتا۔ بیگ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ، جسٹس ورما کی سربراہی والی 5ججوں پر مشتمل ایک خصوصی آئینی بینچ نے اپنے ایک فیصلے میں یہ واضح کیا ہے کہ افسپا کے اطلاق کے باوجود جنگجوؤں کیخلاف کارروائی عمل میں لاتے وقت کیامعیاری طریقہ عمل اپنا یا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ برہان وانی کی ہلاکت سے متعلق ملنے والی اطلاعات سے لگتا ہے کہ اسکی ہلاکت سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ کے فیصلے کے بالکل منافی ہے۔ بیگ نے ایک فوجی جنرل کا حوالہ دیتے ہوئے بتایاکہ حزب المجاہدین کے تین جنگجوؤں کے خلاف آپریشن صرف ساڑھے 3منٹ میں مکمل کیا گیاجس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں سرنڈر کی پیشکش تک نہیں کی گئی۔سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ کے فیصلے کے بارے میں بیگ نے بتایا کہ جب بھی فوج یا پولیس کسی جگہ جنگجوؤں کیخلاف کوئی کارروائی عمل میں لاتی ہے تو اسکے لئے ایک مجسٹریٹ کو ساتھ رکھنا لازمی ہوتا ہے لیکن برہان وانی اور اسکے ساتھیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لاتے وقت سپریم کورٹ کی اس ہدایت پر کوئی عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مجسٹریٹ کی موجودگی میں جنگجوؤں کو سرنڈ رکرنے کی پیشکش انکی سمجھ والی زبان میں بتانی لازمی ہوتی ہے اور اگر جنگجو خود سپردگی سے انکار کریں تو انکے خلاف آنسو گیس کا استعمال کرنا ہوتا ہے تاکہ جنگجوؤں کو چھپی ہوئی جگہ سے باہر نکالا جاسکے۔ بیگ کے مطابق اگر یہ حکمت عملی بھی کارگر ثابت نہ ہو تو جنگجوؤں کو وارننگ دی جاتی ہے اور پھر بھی اگر جنگجو سرنڈر نہ کریں یا کہ چھپی ہوئی جگہ سے باہر نہ آئیں تو انکے خلاف ہتھیاروں کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تاہم بیگ نے کہا کہ جو آپریشن صرف ساڑھے 3منٹ میں پورا کیاجائے ، اس آپریشن میں معیاری طریقہ عمل کہاں اپنایا گیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ برہان وانی کیخلاف کئے گئے آپریشن کے دوران عدالت عظمیٰ کے رہنما خطوط پر عمل درآمد نہیں کیا گیا جو کہ سنگین جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ بیگ نے محبوبہ مفتی سے اپیل کی کہ وہ برہان وانی اور اسکے ساتھیوں کی ہلاکت کی تحقیقات کے لئے ایک اعلیٰ سطحی کمیشن تشکیل دیں اور اس بات کا پتہ لگایا جائے کہ فورسز اور فوج نے کیوں عدالت عظمیٰ کے رہنما خطوط کو نظر انداز کیا۔ بیگ کا کہنا تھا کہ وہ تمام طرز کے تشدد کے خلاف ہیں چاہیں وہ فورسز کی طرف سے ہو یا کہ سنگباری کرنے والے نوجوانوں کی طرف سے۔ انہوں نے تاہم کہا کہ جب سرکاری فورسز کی طرف سے زیادتیاں اور تشدد بڑھ جاتا ہے تو اسکے رد عمل میں ہی ملی ٹنسی یا دہشت گردی پھیلتی ہے۔ بیگ نے خبردار کیا کہ حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے نتیجے میں ملی ٹنسی کم نہیں ہوگی بلکہ اس میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ برہان وانی کیخلاف آپریشن عمل میں لانے سے قبل وزیراعلیٰ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بیگ نے کہا کہ انکی معلومات کے مطابق برہان وانی کیخلاف ملی ٹنسی سے جڑی سرگرمی یا فورسز پر حملے سے متعلق کوئی ایف آئی آر درج نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ جنگجو مخالف آپریشن اس عمل کو کہا جاسکتا ہے کہ جہاں جنگجوؤں کی طرف سے بھی سیکورٹی فورسز پر فائرنگ کی جائے۔ بیگ نے کہا کہ اس بات کا پتہ لگایا جانا چاہیے کہ سرکاری فورسز کے ہاتھوں اتنی شہری ہلاکتیں کیسے ہوئی اور اتنی تعداد میں لوگ زخمی کیوں ہوئے اور درجنوں نوجوانوں کی آنکھیں اور بینائی پیلٹ گن کے بے تحاشہ استعمال سے کیسے ناکارہ بن گئی۔انہوں نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ پولیس یا فورسز کے ہاتھوں زخمی ہوئے سبھی افراد کو بہتر سے بہتر علاج و معالجہ فراہم کیا جائے۔