اداریہ

16مئی کو پتہ چل ہی جائیگا

اب جبکہ ریاست کے چار نشستوں پر ووٹ ڈالنے باقی ہیں، اس سلسلے میںآجکل ریاست میں پارلیمانی چناؤ ریلیوں کا خوب نظارہ کیا جا رہا ہے اور آئے روز مختلف اضلاع کے متعدد علاقوں میں چناؤ ریلیوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے، مختلف پارٹیوں کی طرف سے ان چناؤ ریلیوں کا اہتمام اس غرض سے کیا جا تا ہے تاکہ عوام اُن کے حق میں اپنے حق رائے دیہی کا استعمال کر کے ان کے امیدواروں کو کامیاب بنائیں، اس لحاظ سے یہ پارٹیاں ہر وہ حربہ آزما رہی ہے جس سے حریف پارٹیوں کو شکست مل کر ان کے امیدوار کسی نہ کسی طرح پارلیمانی نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے۔ امیدوار وں کی کامیابی حاصل کرنے کے لئے پارٹیوں کے اعلیٰ رہنما حالانکہ کارگذار صدر تک وہ بولیاں بولتی ہے جن سے ایک باضمیر انسان کا ہوش اُڑ جاتا ہے، اس طرح کے بیان ریاست کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے طرف سے بھی آتے ہیں، کارگذار نیشنل کانفرنس صدر وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کولگام ، کیموہ اور دیوسر علاقوں میں پارٹی امیدوار ڈاکٹر محبوب بیگ کو کامیاب بنانے کے لئے کئی ریلیوں کا انعقاد کیا۔ اس موقعے پر وزیراعلیٰ نے کہا24 اپریل آپ کے مستقبل کا دن ہے لہٰذا سوچ سمجھ کر ووٹ دینے کا فیصلہ کرنا ہوگا، وزیراعلیٰ نے پی ڈی پی صدر اور اسی پارٹی کے اننت ناگ نشست کی امیدوار محبوبہ مفتی پر سیدھے وار کرتے ہوئے کہا کہ محبوبہ مفتی 2004 سے 2009 تک پارلیمنٹ میں جنوبی کشمیر کی نمائندگی کرتی رہی مگر اس دوران اس کی کارکردگی زیرو کے برابر رہی، اس لئے ہمارے امیدواروں کو کامیاب بنا کر عوام اپنا مستقبل سنواریں ان کا کہنا تھا مفتی محمد سعید اور ان کی بیٹی محبوبہ مفتی بی جے پی کے ایجنڈے پر کار بند ہے، انہوں نے کہا یہ اس نریندر مودی کو ملک کا وزیراعظم بنانا چاہتے ہیں جس نے 2002 میں گجرات میں خون کی ہولی کھیلی۔ اس موقعے پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ محبوبہ مفتی نے 2004 کے الیکشن میں ایک خاتون سے برقعہ اتروایا لہٰذا جو خاتون برقعہ کی عزت نہ کر سکی وہ بزرگوں کی کیا عزت کرے گی۔ اس کے برعکس نیشنل کانفرنس راہل گاندھی کو وزیراعظم بنانے کے حق میں ہے، وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ جس طرح میں نے ریاست میں نئے انتظامی یونٹوں کا قیام عمل میں لایا ٹھیک اسی طرح بے روزگاری کا مسئلہ بھی حل کروں گا۔
وزیراعلیٰ کا یہ کہنا کہ محبوبہ مفتی بحیثیت پارلیمنٹ ممبر جنوبی کشمیر کیلئے کچھ نہیں کر سکی اور ان کی کارکردگی زیرو کے برابر ہے۔ پوچھا جا سکتا ہے کہ نیشنل کانفرنس کے اسی نشست کے امیدوار ڈاکٹر محبوب بیگ نے جنوبی کشمیر کے عوام کو کون سے گل کھلائے۔ اور اننت ناگ پارلیمانی حلقہ ان کے یعنی نیشنل کانفرنس کے امیدوار ڈاکٹر محبوب بیگ کے کون سے گیت گاتے ہیں، لہٰذا ان کو کامیاب بنا کر عوام کون سامستقبل سنوارے گا، ہاں اتنا ضرور ہے کہ نیشنل کانفرنس اور ڈاکٹر محبوب بیگ کا مستقبل ضرور سنور جائے گا اگر کامیاب ہوئے تو۔
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے پی ڈی پی کے سرپرست مفتی سعید اور ان کی بیٹی محبوبہ مفتی پر یہ بھی الزام لگایا کہ یہ بی جے پی کے ایجنڈے پر کاربند ہے انہوں نے کہا یہ اس نریندر مودی کو ملک کا وزیراعظم بنانا چاہتے ہیں جس نے 2002 میں گجرات میں خون کی ہولی کھلی۔
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ سے یہ بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ کیا اگر مرکز میں کانگریس نہیں آئی اور بی جے پی اگر سرکار بنانے میں کامیاب ہوئی تو آپ کے مخلوط امیدوار اگر یہاں سے کامیاب ہوئے تو کیا آپ اقتدار حاصل کرنے کے لئے بی جے پی کا ساتھ نہیں دیں گے، ضرور دیں گے ۔ رہی بات نریندر مودی کے گجرات میں خون کی ہولی کھیلنے کا، 2010 میں کشمیر میں نوجوانوں کی کیا خون کی ہولی نہیں کھیلی گئی؟ کیا2013 میں جموں صوبے کے کشتواڑ میں خون کی ہولی نہیں کھیلی گئی۔
وزیراعلیٰ نے محبوبہ مفتی پر2004 کے الیکشن میں ایک خاتون کو برقعہ اتروانے کا بھی الزام عائد کیا اور کہا جو خاتون برقعہ کی عزت نہیں کرتی وہ بزرگوں کی کیا عزت کرے گی۔
وزیراعلیٰ کا سوال تو ٹھیک ہی ہے لیکن کشمیری عوام اس بات سے باخبر ہے کہ شوپیان میں آسیہ اور نیلوفر کے عصمت تار تار کر کے ان دو معصوم لڑکیوں کے ساتھ کیا کچھ کیا گیا۔ وہ برقعہ اتروانے سے زیادہ خطرناک نہیں ہو سکتا۔
وزیراعلیٰ نے کہا میں نے ریاست میں انتظامی یونٹوں کا قیام عمل میں لایا ٹھیک اسی طرح بے روزگاری کا مسئلہ بھی حل کروں گا۔
ہمارے وزیراعلیٰ نئے انتظامی یونٹوں کو وجود میں کیا لائے سب جانتے ہیں ویسے ایک قسم کا ووٹ بنک کھولنے کی ضرور کوشش کی۔ جس کا نیشنل کانفرنس ماہر ہے، رہی بات روزگار کا مسئلہ حل کرنے کا یہ وعدے تو عمر عبداللہ نے اسمبلی الیکشن سے قبل بھی کئے۔ اور جب عمر عبداللہ اعلیٰ منصف یعنی وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالا تو بلا کسی جھجک یہ بھی کہا کہ میرے پاس جادو کی چھڑی نہیں کہ ہر کسی کو روزگار دوں۔
اس لحاظ سے عوامی حلقوں کا مانناہے کہ سیاسی پارٹیاں پسماندہ عوام کے سامنے غلط بیانی کر رہی ہے جس کا وہ سخت نوٹس لے رہے ہیں۔ اس لئے کون پارٹی کس جگہ پر ہوگی 16 مئی کو پتہ چلے گا ، جب پارلیمانی چناؤ نتائج سامنے آئیں گے۔