خبریں

2022کے وسط تک اسمبلی انتخابات کاامکان نہیں
حدبندی کمیشن کے معیادکار میں ایک سال کی توسیع

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کاانعقاد طویل عرصہ کیلئے کھٹائی میں پڑگیاہے،کیونکہ مرکزی حکومت نے اسمبلی حلقوں کاسرنوتعین کرنے کیلئے ایک سال قبل تشکیل کردہ حدبندی کمیشن کے معیاد کار میں ایک سال کی توسیع کردی ہے ۔خیال رہے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہانے گزشتہ دنوںیہ واضح کردیاتھاکہ حدبندی کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعدمرکزی الیکشن کمیشن جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کرانے کے بارے میں حتمی فیصلہ لے گا۔ مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر، آسام، منی پور، ناگالینڈ اور اروناچل پردیش کے انتخابی حلقوں کی دوبارہ حدبندی کےلئے گذشتہ سال مارچ میں قائم کردہ Delimitation- Commissionیعنی حدبندی کمیشن کو اپنا کام مکمل کرنے کےلئے توسیع مل گئی ہے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کی میعاد میں ایک سال کی توسیع کی گئی ہے اور اب یہ پینل صرف جموں و کشمیر کی حد بندی پر غور کرے گا۔اس پینل کو چار شمال مشرقی ریاستوں کے لوک سبھا اور اسمبلی حلقوں کی حدبندی اور جموں و کشمیر میں اسمبلی نشستوں کی تعداد بڑھانے کا کام سونپا گیا ہے۔مرکز کی جانب سے جاری کی گئی نوٹیفکیشن میں لکھا گیا ہے کہ Delimitation- Commissionایکٹ2002 کی دفعہ 3 کے ذریعے دئیے گئے اختیارات کا استعمال کر کے مرکزی حکومت آسام، اروناچل پردیش، منی پور اور ناگالینڈ کو کمیشن سے ہذف (نکال) کر رہی ہے۔جس کا مطلب اب یہ کمیشن صرف جموں و کشمیر کی حدبندی پر توجہ مرکوز کرے گا۔
گزشتہ سال لوک سبھا اسپیکر نے15 رکن پارلیمان کو حد بندی کمیشن کا بطور ممبر نامزد کیا تھا۔ممبران میں مرکزی وزراءکرن رجیجو اور ڈاکٹرجتیندر سنگھ شامل ہیں، جو انتخابی حلقوں کو دوبارہ بنانے یعنی اسمبلی حلقوں کی سرنوحدبندی میں مدد کریں گے۔رکن پارلیمان اور ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیاں، جس کےلئے کمیشن تشکیل دیا گیا ہے، پینل کو اس کے کام میں مدد کے لئے بطور ساتھی ممبر بنائے جاتے ہیں۔جموں و کشمیر میں فی الحال کوئی قانون ساز اسمبلی موجود نہیں ہے۔مرکزی حکومت نے 6 مارچ2020 کو سپریم کورٹ کے سابق جج رنجنا پرکاش دیسائی کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا تھا۔الیکشن کمشنر سشیل چندر اور جموں و کشمیر کے ریاستی الیکشن کمشنر اور دیگر چار ریاستوں کے الیکشن کمشنر اس کے سابقہ ممبر تھے۔اب ا لیکشن کمشنر سشیل چندر کے علاوہ، صرف جموں و کشمیر کے ریاستی الیکشن کمشنر ہی اس کے ممبر ہیں۔جموں و کشمیر میں پارلیمانی اور اسمبلی انتخابی حلقوں کو ازسر نو شکل دینے کے قائم حدبندی کمیشن کو ایک سال کی توسیع مل گئی ہے تو اس اقدام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مرکزی علاقہ میں اسمبلی انتخابات جلد ہی نہیں منعقد ہوں گے۔سیاسی مبصرین کامانناہے کہ حدبندی کمیشن کے معیادکارمیں ایک سال کی توسیع کاصاف مطلب یہ ہے کہ جموں وکشمیر میں اگلے سال کم سے کم مارچ کے مہینے تک اسمبلی انتخابات نہیں ہونگے ۔
مبصرین کہتے ہیں کہ اب مذکورہ کمیشن کی معیاد چونکہ مارچ2022تک بڑھادی گئی ہے تویہ کمیشن اپنی رپورٹ اپریل2022میں پیش کرسکتاہے اوراسکے بعدہی جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کرانے کاکوئی فیصلہ لیکر شیڈول جاری کیاجائے گا۔سیاسی مبصرین کایہ بھی مانناہے کہ اگر حدبندی کمیشن اپنی رپورٹ اپریل2022میں پیش کرے گا تواس رپورٹ پرممکنہ عذرات لینے اورپھراسکومرکزی سرکارکی جانب سے منظوریملنے کے بعدہی قومی الیکشن کمیشن جموں وکشمیرمیں اسمبلی انتخابات کرانے کاکوئی فیصلہ لے سکتاہے ،یعنی کل ملاکر جموں وکشمیر میں آئندہ کم سے کم 15مہینوں تک اسمبلی انتخابات کرائے جانے کے امکانات معدوم ہوئے ہیں۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک گزٹ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج رانجنا پرکاش دیسائی کی سربراہی میں اکتوبر2019 کو وجود میں آنے والے حدبندی کمیشن کو اپنے کام کو مکمل کرنے کے لئے مزید ایک سال مل جائے گا۔ یہ پینل یاحدبندی کمیشن جموں و کشمیر اور چار شمال مشرقی ریاستوں آسام ، منی پور ، اروناچل پردیش اور ناگالینڈ کے انتخابی حلقوں کی دوبارہ حدبندی کے لئے تشکیل دیا گیا تھا۔ تاہم ، ایک سال کی توسیع صرف جموں و کشمیر کے لئے ہے۔
خیال رہے اگست2019 میں پارلیمنٹ نے جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ منظور کرنے سے پہلے ، جموں و کشمیر اسمبلی کی موثر طاقت87 تھی ، جس میں لداخ کی4 نشستیں شامل تھیں ، جو اب ایک علیحدہ مرکزی زیرانتظام علاقہ یایونین ٹریٹری ہے۔ جموں وکشمیر اسمبلی کی طاقت اب107 ہے جس میں 24نشستیں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کیلئے مخصوص رکھی گئی ہیں۔غورطلب ہے کہ جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کے سیکشن 60 کے مطابق ،سابق ریاست جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں اسمبلی حلقوں یا نشستوں کی تعداد 107 سے بڑھا کر114 کردی جائے گی۔جس میں جموں وکشمیر میں اسمبلی حلقوں کی تعداد83سے بڑھ کر90ہوجائیگی جبکہ پاکستانی زیرانتظام کشمیر کیلئے24نشستیں برقراررہیں گی ۔مرکزی علاقہ جموں و کشمیرمیںاسمبلی انتخابات حد بندی کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہی ہوں گے۔
ادھرحدبندی کمیشن کی کارروائی ، جس میں سابق ریاست جموں و کشمیر کے سابق ممبران کی حیثیت سے5 ممبران پارلیمنٹ ہیں، کا نیشنل کانفرنس نے بائیکاٹ کیا ہے جس کے پینل میں3 نمائندے ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے ممبران یعنی تین رکن پارلیمان نے خود کو حد بندی کمیشن سے الگ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پارٹی نے جموں وکشمیر تنظیم نو ایکٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے اور معاملہ زیر التواءہے۔کمیشن کی چیئرپرسن کو لکھے گئے خط میں ، جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی اور تجربہ کار سیاستدان فاروق عبد اللہ سمیت این سی کے 3 ممبران پارلیمنٹ نے کہا تھاکہ ہمارے خیال میں ، جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ ، 2019واضح طور پر غیر آئینی ہے اور اس پر عمل درآمد کیا گیا ہے۔ ہندوستانی آئین کے مینڈیٹ اور روح کی پامالی اور خلاف ورزی اور اس لئے اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔این سی ارکان پارلیمنٹ بشمول ڈاکٹرفاروق ،حسنین مسعودی اور محمد اکبر لون کاخط میں کہناتھاکہ ہم نے جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ2019 کے اختیارات کے استعمال کے آئینی جواز کو چیلنج کیا ہے ، جس کے تحت زیربحث اجلاس منعقد ہونے کی تجویز ہے۔