خبریں

رام بن گول میں مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ

رام بن کے گول علاقہ میں ایک مقامی بی ایس ایف کیمپ میں تعینات اہلکاروں کی طرف سے مقامی مسجد میں داخل ہو کر مبینہ طور پر بے حرمتی اور امام کے ساتھ غیر مہذب برتاؤ کے خلاف جمعرات کے روز احتجاج کر رہے لوگوں پر فائرنگ سے کم از کم4افراد ہلاک ہو گئے جن میں مذکورہ امام مسجد بھی شامل ہے جب کہ زخمیوں کی تعداد42سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ زخمیوں کی تعداد اور ان کے زخموں کی نوعیت کے پیش نظر ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ اس واقعہ کے بعد نہ صرف ضلع رام بن بلکہ پورے خطہ چناب میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ، تمام بازار بند ہو گئے اور بٹوت ، چندر کوٹ ، رام بن اور بانہال میں لوگوں نے جموں۔ سرینگر شاہراہ پر دھرنا دے دیا جس کے باعث گاڑیوں کی آمد ورفت معطل ہو گئی۔ رام بن میں مشتعل ہجوم نے ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں زبر دست توڑ پھوڑ کی اور اس میں فائلوں اور فرنیچر میں آگ لگانے کے علاوہ 3سرکاری گاڑیاں بھی جلا دیں نیز ڈپٹی کمشنر کی سرکاری رہائش گاہ پر بھی پتھراؤ کیا۔ لوگوں نے زبردست مظاہرہ کر کے ان ہلاکتوں کے ذمہ دار اہلکاروں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف اجتماعی قتل کا مقدمہ درج کر نے کا مطالبہ کیا۔ ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بدھ کی شب 10بجے کے قریب رام بن۔ گول سڑک پرشڈی داڑم کی ایک مسجد میں فورسز اہلکار آئے جہاں اس وقت تروایح کی نماز چل رہی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق ان مسلح اہلکاروں کی تعداد 4تھی اور انہوں نے شراب پی رکھی تھی۔ ان میں سے 3وردی میں جب کہ ایک سادہ کپڑوں میں تھا۔ انہوں نے امام عبدالطیف ولد عبدالرشید ساکنہ داڑم، جوکہ مقامی مدرسہ کا مہتمم بھی تھا ، طرح طرح کے سوال پوچھنا شروع کر دئے تاہم امام نے ان کے جوتوں سمیت کے مسجد کے اندر داخل ہونے پر اعتراض کیا۔ اس پر ان اہلکاروں نے امام کو ہاتھوں اور بندوق کے بٹھوں سے زد و کوب کر نا شروع کر دیا اور وہاں پر رکھے قرآن مجید کو پھاڑ کر باہر پھینک دیا جس کے بعد وہ چلتے بنے۔ عین شاہدین کے مطابق یہ ماجرا ایک مقامی ٹپر ڈرائیور نے دیکھا جس نے لوگوں کو موبائل پر امام کی مارپیٹ کے بارے میں بتایا جس کے بعد بڑی تعداد میں مقامی لوگ وہاں جمع ہو نا شروع ہوگئے۔ کچھ دیر بعد ان لوگوں نے اس واقعہ کے خلاف احتجاج شروع کردیا جو پوری رات جاری رہا۔ صبح ساڑھے 6بجے وہاں پر لوگوں کاایک جم غفیر جمع گیا جس نے بی ایس ایف کیمپ کی طرف پیش قدمی شروع کر دی جہاں پہنچنے پر انہوں نے زبر دست نعرہ بازی کے بیچ کیمپ پر سنگ باری شروع کر دی جس میں ایک اہلکار زخمی ہو گیا۔ اس پر بی ایس ایف اہلکاروں نے مظاہرین پر گولیاں چلا دیں جس میں 6افراد شدید زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر ضلع ہسپتال رام بن پہنچایا گیا جہاں سے 2کو سرینگر منتقل کر دیا گیا۔ اس دوران ڈپٹی کمشنر رام بن شام ونود مینا اور ایس پی رام جاوید متو بھی وہاں پہنچ گئے اور مظاہرین کو یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کی اس واقعہ کی تحقیقات کرائی جائے گی تاہم انہوں نے بے حرمتی کے ذمہ دار اہلکاروں کی گرفتاری اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ ساڑھے 10بجے کے قریب جب مشتعل مظاہرین اور بی ایس ایف اہلکاروں کے درمیان ایک بار پھر محاذ آرئی شروع ہوئی تو اہلکاروں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس میں 4افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ 2درجن کے شدید زخمی ہو گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق بی ایس ایف اہلکاروں نے لوگوں پر براہ رست گولیاں چلانا شروع کر دیں اور اس موقعہ پر ڈپٹی کمشنر رام بن بھی کچھ دوری پر موجود تھے۔ 16زخمیوں کو ابھی تک بذریعہ سڑک اور ہیلی کاپٹر گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں پہنچا یا گیا ہے جن میں سے بیشتر کی حالت کافی تشویشناک ہے۔ فائرنگ میں مارے جانے والوں میں امام عبدالطیف ، جس کی گزشتہ رات بے حرمتی کے خلاف احتجاج کر نے پر مار پیٹ گئی تھی کے علا وہ منظورشان لیکچرر ولدعبدالر حمان ساکنان موئلہ گول ، جاوید احمد منہاس ولد عبدالستار ساکن حاجی موڑ بھیم داسہ گول ، فاروق احمد بیگ ولد غلام احمد ساکن سلبلا گول شامل ہیں۔ فائرنگ اور ہلاکتوں کے بعد پورے علاقہ میں غم و غصہ پھیل گیا اور لوگوں نے انتظامیہ ، حکومت اور فوج کے خلاف اور آزادی کے حق میں نعرہ بلند کر نا شروع کر دئے۔ منظور شان ، جو کہ نیشنل کانفرنس کی مقامی لیڈر شمشادہ شان کا بھائی تھا ، کی نعش جو نہی گول پہنچائی گئی جبکہ باقی کی3لاشیں لوگوں نے بی ایس ایف کیمپ سے اٹھانے سے انکار کر دیا تاہم بعد میں وزیر مملکت حج و اوقاف ، جو کہ مقامی ممبر اسمبلی بھی ہیں ، کی مداخلت پر شام 5بجے کے قریب لوگوں نے اٹھائیں۔ بعد دوپہر وزیر مملکت داخلہ سجاد احمد کچلو اورڈائریکٹرپولیس اشوک پرساد بھی بذریعہ ہیلی کاپٹرپہنچے اور اس واقعہ کی جانچ اور ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا یقین دلا یا۔