خبریں

370 مرکز اور ریاست کے تعلقات کی ضامن

370 مرکز اور ریاست کے تعلقات کی ضامن

آئین ہند کی دفعہ370 کے بارے میں کئی لیڈروں کی طرف سے بغیر کسی علمیت کے رائے زنی کرنے پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے نریندر مودی کی طرف سے حال ہی میں جموں میں ایک ریلی کے دوران دفعہ370 پر دیئے گئے بیان کے رد عمل میں انہیں دفعہ370 کی اہمیت پر بحث کرنے کے لئے وقت اور جگہ تعین کرنے کا چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہم اس موضوع پر کسی سے بھی بات کرنے کے لئے تیار ہیں حتی کہ اگر احمد آباد گجرات کو بھی بحث کے لئے چُنا جائے۔ ہندوستان میں بڑے عہدوں پر فائز شخصیات دفعہ370 کی ہیئت، اہمیت اور افادیت سے لاعلم ہیں۔میں حیران ہوتا ہوں جب یہ لوگ جنہوں نے دفعہ370 پڑھا ہی نہیں اس کے بارے میں بولتے ہیں۔یہ لوگ ریاستی عوام کے سکونتی حقوق، منتقل اراضی اور اس جیسے کئی معاملوں کو دفعہ370 کے ساتھ جوڑتے ہیں جس کا ایسے معاملوں کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ایسے لوگوں کو یہ جاننا چاہئے کہ دفعہ370 ریاست اور مرکز کے مابین تعلقات کی ضامن ہے۔شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کے جنم دن کے موقعہ وزیراعلیٰ نے نریندر مودی کو گوجر اور شعیہ فرقہ کے لوگوں کا تذکرہ کرنے پر ہدفِ تنقید بنایا۔ انہوں نے مودی سے کہا کہ جموں وکشمیر میں گوجر طبقہ کی فلاح و بہبود کی طرف خصوصی توجہ دی جارہی ہے اور انہیں درجہ فہرست قبیلہ کا حق حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی کو راجستھان کے گوجروں کے بارے میں فکر مند ہونے کی
ضرورت ہے جنہیں ابھی تک یہ حق حاصل نہیں ہے اور ابھی بھی ترقی کے معاملے میں وہ بہت پیچھے ہیں۔انہوں نے مودی کویہ بھی مشورہ دیا کہ وہ پہلے یہ جان لیں کہ محرم کا مہینہ عزاداری کا مہینہ ہے یا جشن منانے کا اور تب ہی وہ جموں وکشمیر کے شعیہ فرقہ کے بارے میں بات کریں۔انہوں نے اس ضمن میں گجرات حکومت کی طرف سے محرم مہینے کے دوران تقاریب کے سلسلے میں اجراء شدہ کلینڈر کا حوالہ دیا۔ مودی کی طرف سے کشمیری پنڈتوں کو نظر انداز کرنے پر بھی اپنی حیرانگی کا اظہار کیا اور کہا کہ کشمیری پنڈت کشمیریت کا ایک ناقابلِ تنسیخ حصہ ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے ایسے لیڈروں کی نکتہ چینی کی جو ہوا کی سمت دیکھ کر ہی اپنی سیاست کی دوکان چلانے کے لئے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ حقیقت کا مقابلہ کرنے میں اُن میں وہ جرات و اعتماد نہیں ہے اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے اُن کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ نے شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کے حوالے سے کہا کہ عوامی کاز کے لئے انہوں نے سخت فیصلے لئے اور عوام سے ان فیصلوں کی توثیق بھی کرائی جو کہ صحت مند سیاست کی ایک جیتی جاگتی علامت ہے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ تمام وابستگیوں سے بالا تر ہوکر شیر کشمیر نے ریاست کے لوگوں کے مفاد کے لئے جو کچھ کیا وہ ایک کھلی کتاب ہے۔انہوں نے کہا کہ اندرا شیخ ایکارڈ اس سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ شیخ محمد عبداللہ ، جو کہ عوام کے ایک خصوصی دوست تھے، نے ریاست میں انقلابی تبدیلیاں لاکر جموں وکشمیر کے لوگوں کی تقدیر اور مستقبل کو سنوارا اور یہ کام ریاست کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ آج کل تاریخ میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں اس سلسلے میں برصغیر کے خاکے کو نئے سرے سے مرتب کیا جارہا ہے اور عالمی سطح پر جو تبدیلیاں سیاسی اُفق پر آرہی ہیں وہ ایک ٹاکارہ حقیقت ہے۔ پاکستان اور بھارت نے کشمیر پر تین جنگیں لڑیں مگر اُن سے خون خرابے اور تباہی و برباہی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ شیخ صاحب کے سامنے ریاست کے عوام کے تحفظ، عزت و آبرو اور سیاسی وقار حاصل کرنے کیلئے ایک واحد راستہ یہ تھا کہ بھارت کے ساتھ بات چیت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات چیت کی بدولت اندرا شیخ ایکارڈ سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ شیخ صاحب نے اس سمجھوتہ کے بعد فوری طور اپنے فیصلے کی توثیق کرانے کے لئے لوگوں کی جانب رخ کیا جس کی صدائے بازگشت1977 ء کے ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں سنائی دی۔ اس الیکشن کے دوران شیخ صاحب نے شاندار اکثریت حاصل کی اور عوام نے اس سلسلے میں جو تعان دیا وہ نہایت ہی قابلِ قدر تھا۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ شیخ صاحب کے لئے یہ فیصلہ کوئی آسان کام نہیں تھا مگر انہوں نے ریاستی عوام کے مفادات کو سر بلند رکھ کر جموں وکشمیر کے لوگوں کے سامنے یہ ایکارڈ رکھا۔ انہوں نے کہا کہ1977 ء کے انتخابات میں عوام کے تعاون سے جن لوگوں کو اعتماد حاصل ہو جو کہ ایک صحت مند سیاست کا ایک بہتر سگنل ہے۔شیخ صاحب نے عوام کو طاقت کا سرچشمہ قرا ردیا اور اُن کو فیصلہ کرنے کے حقیقی طریقہ کار کو تسلیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ جمہوریت میں یقین رکھتے تھے اور عوامی
تعاو ن سے انہوں نے ریاست میں سیاست کے ایک نئے نظام کو متعارف کیا۔انہوں نے کہا کہ شیخ عبداللہ نے ریاست اور یہاں کے لوگوں کی فلاح کے لئے جس خلوص کے ساتھ کام کیا وہ تاریخ کا ایک قابلِ قدر حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیخ صاحب کی زندگی جدوجہد کی ایک جیتی جاگتی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی تقدیر اور مستقبل سنوارنے کے لئے شیخ صاحب کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے شیخ صاحب کے اصولوں اور فلسفے کو اُجاگر کیا اور کہا کہ نیا کشمیر کے خواب کو عملی صورت دینے کے لئے شیخ صاحب نے جو نیو رکھی اُس پر ہم سب کو عمل کرنا ہوگا تاکہ ریاست کو خوشحالی و ترقی کے ایک نئے دور میں شامل کیا جاسکے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پروپیگنڈہ کرنے والے عناصر اور ایسے لوگ جو شیر کشمیر اور نیشنل کانفرنس کے دشمن تھے، انہوں نے شیخ صاحب جیسی قد آور شخصیت جو کہ قربانیوں کی ایک طویل داستان ہے، کی شبیہ کو مسخ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں مگر ایسے لوگوں کو سمجھنا چاہئے کہ شیخ صاحب کی قد آور بصیرت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اُن کے اصولوں کی نفی کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ شیخ صاحب اور اُن کے رفقاء نے جو قربانیاں دیں وہ بے نظیر ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اُن کی پارٹی نیشنل کانفرنس عوامی خدمات ، یکجہتی، ہم آہنگی اور ریاست کے تینوں خطوں کی یکساں ترقی کے لئے کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ متعدد وابستگیوں سے بالا تر ہوکر ریاست کے تمام لوگوں کی ترقی و خوشحالی کے لئے شیخ صاحب نے اپنی ساری زندگی وقف رکھی۔