اداریہ

4Gانٹرنیٹ کی بحالی

جموں کشمیر میں بالآخر18 ماہ کے طویل عرصے کے بعد4Gانٹرنیٹ خدمات بحال کر دی گئی ہیں۔ 5؍اگست 2019 میں جموں کشمیر کو دفعہ 370اور35A کے تحت حاصل خصوصی پوزیشن کے خاتمے کے بعد جموں کشمیر میں 4G انٹرنیٹ خدمات بند کر دی گئی ۔ تب سے اب تک تقریباً 550 دنوں تک جموں کشمیر کواس سہولیت سے محروم رکھا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق جموں کشمیر کو انٹرنیٹ کی عدم دستیابی سے تقریباً چھ بلین ڈالر کا نقصان ہوا کیونکہ تیز رفتار انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کاروبار اور بچوں کی پڑھائی لکھائی پر کافی بُرا اثر پڑا ہے۔
دیرینہ ہڑتالوں اور کرفیو سے یہاں پہلے سے سکڑ رہے پرائیویٹ سیکٹر اور تجارتی نظام بالکل مفلوج رہا اور تجارتی اعتبار سے پہلے سے سخت معاشی بدحالی کی شکار ریاست جموں وکشمیر، جو اب ایک یونین ٹریٹری ہے کو کافی نقصان اٹھانا پڑا۔ گزشتہ 18 ماہ کے دوران تجارت ، تعلیم اور تمام دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بار بار 4Gانٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے معیشت اور دیگر شعبوں کو ہو رہے شدید نقصان کی دہائی دی۔ البتہ مرکزی سرکار نے ہر بار دہشت گردی اور شورش کو بہانہ بنا کر 4Gانٹرنیٹ پر پابندی جاری رکھی، حالانکہ گاندربل اور ادھمپور میں اسے بحال بھی کیا گیا تھا۔ 4G انٹرنیٹ کی معطلی سے یہاں سیاحتی شعبے پر بھی کافی بُرا اثر پڑا۔
مارچ 2020میں کورونا وباء اور اس کے بعد لگے لاک ڈائون سے صورتحال مزید ابتر ہوئی اور4G انٹرنیٹ کی عدم دستیابی سے جہاں ہرکوئی گھر میں بیٹھ کر کام کرتا رہا، جموں کشمیرکے لوگ خاص کر طلباء تعلیم اور آن لائن تعلیمی مواد سے کوسوں دور رہے۔ بار بار کی گزارشات کے بعد بھی 4G انٹرنیٹ بند رہا۔ اس عدم دستیابی سے طلباء کو کافی ذہنی کوفت ہوئی۔ جموں کشمیر کے سکول اگست 2019سے بند پڑے ہیں۔ ایسے میں جب 2020 میں دُنیا بھر میں آن لائن تعلیم کا نظام رائج رہا جموں کشمیر میں تعلیمی نظام بدستور مفلوج رہا۔
ایسے میں سرکار کی طرف سے 4G انٹرنیٹ خدمات کی بحالی ایک خوش آئند قدم ہے مگر اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہماری معیشت اور دیگر شعبوں کو ہوئے نقصان کی بھر پائی ہو سکی۔ ملک کے دیگر حصوں میں جب خراب صورتحال کے بیچ بھی انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی خدمات جاری رہتی ہیں، پھر جموں کشمیر میں ہی ہر بار دُہرا معیار کیوں اپنایا جا رہا ہے۔
جموں کشمیر کے مستقبل کو 4G انٹرنیٹ یا دوسری چھوٹی چیزوں کی عدم دستیابی پر کب تک یرغمال بنایا جاتا رہے گا۔ جموں کشمیر کو در پیش مسئلوں کا ازالہ مرکزی سرکار کی اولین ترجیح ہونی چاہئے کیونکہ دفعہ ۳۷۰ کے خاتمے کے بعد مرکزی سرکار جموں کشمیر کو تعمیر و ترقی کے نئے دور کی طرف گامزن کرنے کے وعدے کرتی رہی ہے۔ سرکار کو اپنے وعدوں پر پورا اترنا ہی چاہئے ۔
تم اُنکے وعدے کا ذکر اُن سے ہی کیوں کرو غالب
یہ کیا کہ تم کہو اور وہ کہیں کہ یاد نہیں