نقطہ نظر

5ستمبر:اساتذہ کا قومی دن اور شعبہ ٔ تعلیم کی حالت ِزار

5ستمبر کو بھا رت میں یوم اساتذہ منا یا جارہا ہے ۔اس دن کا مقصد ملک کے بہترین اساتذہ کو ان کی گراں قدر خد ما ت اور قوم کی تعمیر میں ان کے دین کو یا د کر تے ہو ئے ان کی حوصلہ افزائی کر نا ہو تا ہے ۔اس با ت میں کسی شک و شبہ کی گنجا ئش نہیں کہ اساتذہ کسی بھی قوم کی تعمیر و تر قی میں ایک کلیدی کر دار ادا کر تے ہیں اور جس ملک یا قوم کو بہتر اساتذہ میسر ہو تے ہیں اس کی تر قی کی راہ میں کھڑی کوئی بھی رکا وٹ زیا دہ دیر تک ٹِک نہیں پا تی اور وہ قوم دنیا کی زمام سنبھا لنے کے لئے افق پر چاھ جا تی ہے ۔اس بات میں کسی شک و شبہ کی گنجا ئش نہیں ہے کہ بھا رت کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر نے بھی کچھ ایسے اساتذہ اب تک پیدا کئے ہیں جو اپنے شعبے کے شاہسوار ہونے کے ساتھ ساتھ ہما ری اجتما عی تر قی میں کلیدی کر دار ادا کر چکے ہیں مگر یہ با ت بھی غو ر طلب ہے کہ ہما رے سماج کے اندر پا ئے جا نے والے اکثر مسائل کو ہما رے اساتذہ ایڈ ریس کرنے میں تا حال نا کام ہو ئے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم تعمیری و تر قی میں بھی پیچھے اور اخلاقی اعتبا ر سے بھی دنیا کی گئی گزری قوموں میں شما ر کئے جا نے لگے ہیں ۔شاعر کشمیر غلام احمد مہجو ر نے استا د کو با دِ صبا سے تعبیر کر تے ہوئے کہا تھا کہ ’’وائو پھلراوان گُلن ،ووستاد پھو لراواں دلن‘‘ یعنی صبح کی ٹھنڈی ہوائوں سے پھو ل کھلتے ہیں اور استاد اپنے شاگر دوں کے دلوں کو کھلا نے کا کا م کر تا ہے ۔مگر شعبہ ٔ تعلیم میں پچھلی دو تین دہائیوں کی صورتحال پر اگر ایک طائرانہ نظر دوڑائی جا ئے تو یہ با ت عیاں ہو جا تی ہے کہ جموں وکشمیر میں تعلیم کا شعبہ غیر احتسابی ،بد نظمی،اقربا ء پر وری اور امن و قانون کی صورتحال کے نتیجہ میں کا فی زیادہ نشیب و فراز کا شکا ر ہو چکا ہے جس کی سب سے بڑ ی اور تازہ مثال یہ ہے کہ ہما رے سکول لگا تار تیسرے سال بھی بند پڑے ہیں اور بچے گھروں کے اندر نام نہاد آن لائین کلاسز کی صورت میں وقت ضائع کر رہے ہیں ۔
8ستمبر کو ’’عالمی یوم ِ خواندگی ‘‘ بھی منایا جاتا ہے اور اس طرح سے یوم اساتذہ اور یو م خواندگی کا کچھ ایام کے فرق سے منایا جا نا اہمیت و افادیت کا حامل ہے ۔استاد کے لئے تعلیم جیسے مقدس زیور سے خود کو آراستہ کر کے اپنی خدمات بحسن خوبی انجام دینے کے لئے چند نمایاں خصوصیات کا ہونا اور ان کی مشق کرنا ایسے ہی لازم ہے جیسے کسی فن کے سیکھنے کے لیے اس کی عملی مشق ضروری ہوتی ہے۔ ایک کامیاب معلم وہی بن سکتا ہے جو اس فن کی عملی مشق بحسن خوبی انجام دے۔ تعلیم و تدریس جیسے مقدس پیشہ کے لیے محنت و مشقت، شوق و زوق کا ہونا، فطری صلاحیت کا بھر پور استعمال کرنا اور منصب کا احترام کرنا ایک لازمی امر ہے اور ان اوصاف کا پاس و لحاظ کر نیکے بعد ہی ایک معلم کامل و اکمل معلم کہلانے کا مستحق ہے۔ اس طرح معلم کے تجربات میں مزید اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے تدریسی تجربہ میں نکھار آجاتا ہے نیز جب وہ تدریسی خدمات انجام دینے چلے تو طلباء بلا کسی خوف کے اس سے خوب مستفید ہو جائیں اور وہ خود بھی علمی و روحانی لذت محسوس کر سکے۔
تدریس جیسے مقدس مشن کو محنت، ایمانداری، سچائی، محبت، شفقت اور لگن سے انجام دینے پر ہی ایک اعلیٰ پایہ کا مشن بتایا گیا ہے۔ جس سے اعلیٰ طریقہ کار اور اعلیٰ اخلاق جیسے اوصاف سے انجام دیا جائے تو کھلتے ہوئے پھولوں کی طرح بچوں سے مہکتا ہوا ایک گلستان بنایا جاسکتا ہے۔ اور انہیں صحیح تعلیم دے کر بہتر سے بہترین انسان بنایا جاسکتا ہے جو سماج کیلیے باعث افتخار ثابت ہو سکتے ہیں۔ اساتذہ کرام کو ہمیشہ اعلٰی ظرفی، خوش خلقی، بہترین ذہنی صلاحیت کا حامل ہونا چاہیے۔ صحیح فیصلہ سازی جیسے اعلٰی قائدانہ صلاحیت سے طلباء کی نشوونما یقینی بنانا چاہیے۔ بہتر سے بہترین نتائج حاصل کرنے کے لیے مفید تدابیر، پیشہ ورانہ مہارت اور دیگر جدید ٹیکنکز کو اپنانا جانتے ہوں۔
کوروناوائرس جیسے موذی و جاں لیو ا وباء کے چلتے تعلیمی میدان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے – جہاں نہ صرف اساتذہ کرام کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے بلکہ بچوں کے تعلیمی نشو و نما میں بھی کافی منفی اثرات دیکھنے کو ملے ہیں – لیکن یہاں اساتذہ کرام قابل تعریف ہیں جنہوں نے آن لائن جیسے در پیش چیلینج کو بحسن خوبی انجام دینے کی سعی کی۔ یہ الگ بات ہے کہ اس سے ہم اپنے اہداف میں کتنے کامیاب ہوئے ہیں وہ ہم سب کے سامنے عیاں ہے –
جیسے کہ کوروناوائرس سے پیدا شدہ صورتحال کے تناظر میں آن لائن تدریسی عمل کی انجام دہی سے کیا طلباء فون فلیو (Phone Flu) کے شکار نہیں ہوئے ہیں ؟ وبائی صورتحال کے تناظر میں تعلیمی اداروں کا مسلسل بند رہنے سے کیا ہم اپنے بچوں کا مستقبل روشن بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر کر سکتے ہے؟ کیا ہم اس طرح تعلیم کو اعلٰی پیشہ مان سکتے ہیں؟ کیا ہم تعلیمی اداروں کو تربیت گاہ بنانے میں ناکام ہوئے ہیں؟ کیا ہم عصر حاضر کے مقابلہ جاتی زمانہ میں تدریسی عمل میں طاقت کا استعمال کر کے ہدف حاصل کرسکتے ہیں؟یہی وہ چند سوالات ہیں جو اس وقت ہمارے ذہن میں پیدا ہوئے ہیں ۔
ہر ایک استاد قوم کا معمار ہوتا ہے۔ وہ قوم کو بنانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کر کے مستقبل کو تابناک بنا سکتا ہے۔ اْس سے اِس بھروسے کو کبھی کھونے نہیں دینا چاہیے اور قوم کو جو اس سے توقعات وابستہ ہیں انہیں برقرار رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
مدرس قوم کی بنیاد کا معمار ہوتا ہے
مدرس علم کا اخلاق کا مینار ہوتا ہے
ہمیں یہ بات ذہن میں ضرور رکھنی چاہیے کہ اگر خدانخواستہ ہماری لاپرواہیوں اور کوتاہوں سے ہمارے تعلیمی اداروں کا معیارِ تعلیم پست ہوا اور ہمارے بچے تعلیم سے منحرف ہوئے تو ہمیں ان کے بہترین مستقبل کا خواب دیکھنا چھوڑ دینا ہوگا۔ ہمیں ایسے اساتذہ کرام کو قابل احترام سمجھنا چاہیے جو قابل تعریف اور قابل ستائش خدمات انجام دے رہے ہیں اور انہیں وقتاً فوقتاً حکومتی سطح پر ایمانداری و منصفانہ انداز میں نشاندہی کر کے انعامات سے نوازا جانا چاہئے تاکہ ان کے حوصلے ہمیشہ بلند رہیں۔
ہمیں اپنے تعلیمی اداروں کے نظام کو ان کے رتبہ، ان کے قوانین اور طلباء و اساتذہ کے مزاج کو مدنظر رکھتے ہوئے اعلٰی سے اعلیٰ بنانا چاہیے، تاکہ ہمارا تعلیمی نظام جدید عصری تقاضوں اور حالات و واقعات سے نپٹنے میں کارآمد ثابت ہو۔ اور طلباء کو مستقبل میں درپیش آنے والے مسائل کا بآسانی حل ڈھونڈنے میں مدد فراہم کرتی ہو۔ بد اخلاقی کو قابو کرنے کے ساتھ ساتھ ماحول کے توازن کو برقرار رکھنے میں کارگر ثابت ہو۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح نت نئے ایجادات، تجربات اور تحقیقات کے کاموں میں مشغول عمل رہ کر ملک کی سالمیت، بھائی چارگی، ترقی، خوشحالی، بہبودی اور امن کی راہ کو ہموار بنانے پر گامزن ہو۔ اس طرح سے ہم تعلیمی پسماندگی سے نکل کر نئے اہداف و مقاصد، نئی راہ، نئے خوابوں کو سجا کر روشن مستقبل کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ اقوام عالم کے تمام انسانوں کو انسانیت کے مقدس پیغام سے آراستہ کرانا چاہئے۔ دنیا میں جنگی ہتھیاروں کی کْھلی نمائش کرنے کے بجائے پوری دنیا کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا چاہئے۔ جو ایک باضمیر زی حس انسان کی طرف سے سب سے بڑا عطیہ ہو سکتا ہے۔زندگی کو شمع کی مانند بنانا اپنا ہدف و مقصد ہونا چاہئے۔ اپنے ساتھ ساتھ دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کامیاب و کامران دیکھنا اپنا مشن ہونا چاہئے یہی تو معلم اور نظام تعلیم کی روح ہے۔