سرورق مضمون

67 کشمیری طلاب کا مستقبل دائو پر۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کامیابی پر جشن منانے کی سزا۔ 146146کشمیریوں کیلئے دل اور کالج کھلے 145145 پاکستان

ڈیسک رپورٹ
میرٹھ کی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبا کو ہند وپاک کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان ہوا میچ سخت مہنگا پڑا ہے ۔ ان طلبا کو اس الزام پر یونیورسٹی سے خارج کردیا گیا ہے کہ انہوں نے میچ میں پاکستان کی کامیابی پر جشن منایا ۔ طلبا کے اس طرح کے اخراج پر کشمیر میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔ حریت پسندحلقوں کے علاوہ مین اسٹریم جماعتوں نے بھی طلبا کے ساتھ کئے گئے اس رویہ پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ حریت سربراہ سید علی گیلانی نے اس واقعے کے خلاف تمام کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلبا کواحتجاج کرنے کی اپیل کی ۔ گیلانی کی اس اپیل پر طلبا نے اس روز کئی مقامات پر احتجاج کیا ۔ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے طلبا پر لگائے گئے بغاوت کے الزام کو ناقابل قبول قرار دیا ۔ ان طلبا کے سرپرستوں نے طلبا پر لگائے گئے الزام کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ میچ سے پہلے بھی وہاں کشمیری طلبا کے ساتھ زیادتیاں کی جاتی تھیں ۔ انہوں نے کہا ہے کہ انتظامیہ کا طریقہ تعصب اور جانداری کا طریقہ ہے جو ہمارے بچوں کا مستقبل ضایع کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ اگرچہ میرٹھ پولیس نے طلبا پر بغاوت کا الزام واپس لیا ہے تاہم دوسرے الزامات برابر موجود ہیں اور انہیں کالج سے باہر رہنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اس وجہ سے ان طلبا کے سرپرستوں اور دوسرے ہمدردوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے ۔
میرٹھ میں یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب 2 مارچ کو ہند وپاک کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان بنگلہ دیش میں مقابلہ ہوا تھا ۔ اس میچ میں پاکستان نے ٹیم انڈیا کو ایک دلچسپ مقابلے میں شکست دی تھی ۔ اس کے بعد وہیں ہوسٹل میں مقیم طلبا نے سخت ہڑ بونگ مچادی ۔ مقامی طلبا الزام لگارہے ہیں کہ کشمیری طلبا نے پاکستانی ٹیم کی جیت پر خوشی کا اظہار کیا ۔ کئی ایک کا کہنا ہے کہ کشمیری طلبانے تالیاں بجائیں اور بانگڑہ بھی کیا ۔ اس پر غصے میں آکر مقامی طلبا نے انہیں پیٹنا شروع کیا اور انہیں سخت ہراساں کیا ۔ کشمیری طلبا اس الزام کی سختی سے تردید کررہے ہیں اورالزام کو بے بنیاد قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ یہ رویہ بہت عرصہ سے رکھا جارہاہے ۔ کئی طلبا کا کہنا ہے کہ انہیں بلاوجہ جنگجو اور پاکستانی قرار دے کر سخت ڈرایا دھمکایا جارہاہے ۔ میچ کے اختتام پر ہوسٹل کی تاریں اڑالی گئیں اور پانی فراہم کرنے والی پائیپیں اکھاڑ دی گئیں ۔ان طلبا کا یہ بھی کہنا ہے کہ انتظامیہ اور پولیس نے جانبداری سے کام لیتے ہوئے مقامی طلبا کے کہنے پر ان پر کئی طرح کے الزمات لگائے جس وجہ سے وہ وہاں سے نکلنے پر مجبور ہوگئے ۔ ادھر پی ڈی پی کا کہنا ہے کہ اس کے سربراہ مفتی محمد سعید نے وزیراعظم سے ایک ملاقات کے دوران اس پر سخت ردعمل ظاہر کیا اور طلبا کے کیریر کو ختم ہونے سے بچانے کی اپیل کی ۔ پیوپلز کانفرنس کے نوجوان رہنما سجاد غنی لون نے طلبا کے اخراج کو ہندوستانی سیکولرازم پر بدنما داغ قرار دیا ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ میرٹھ پولیس نے پہلے طلبا کے خلاف بغاوت کا فوجداری مقدمہ دائر کی تھی ۔ اس دفعہ کے تحت الزام ثابت ہونے پر ملزم کو کم از کم تین سال کی سزا ہوسکتی ہے ۔ اس پر عمر قید بھی سنایا جاسکتا ہے ۔ اب معلوم ہوا ہے کہ بغاوت کا الزام تو چھوڑ دیا گیا ہے البتہ باقی الزامات بدستورموجود ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ادارے چاہئے وہ تعلیمی ادارہ ہی کیوں نہ ہو ، کسی ٹیم کی حمایت کرنے پر طلبا کو ملزم نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے ۔ یہ کسی شخص کی ذاتی مرضی ہے کہ وہ کس ٹیم یا کھلاڑی کی حمایت کرے ۔ اس کے باوجود پولیس اور یونیورسٹی انتظامیہ اپنے فیصلے پر ڈٹی ہوئی ہے اور طلبا کو اخراج کو اپنا حق قرار دے رہی ہے ۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے طلبا کو یونیورسٹی کا ماحول درہم برہم کرنے پر طلبا کو وہاں سے خارج کردیا ہے ۔ اس سے اندازہ ہے کہ یونیورسٹی دوسرے طلبا کو ناراض نہیں کرنا چاہتی ہے ۔ ادھر پاکستان نے حیران کن طریقے پر یہ بیان دیا ہے کہ ان کے دل اور تعلیمی ادارے کشمیری طلبا کے لئے کھلے ہیں ۔ حکومت کے ایک ترجمان نے طلبا کے جبری اخراج پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کشمیری طلبا کو پاکستان آکر اپنی تعلیم جاری رکھنے کی دعوت دی ۔ پاکستان کی موجودہ حکومت کی طرف سے کشمیریوں کے حق میں یہ اپنی نوعیت کا اہم بیان قرار دیا جارہا ہے ۔ وہاں کی حکومت مخالف جماعتوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت ہندوستان کی حامی جماعت ہے ۔ لیکن کشمیری طلبا کے اخراج پر اس حکومت نے جو بیان دیا اس پر تمام لوگ حیران ہورہے ہیں ۔ اگرچہ مسئلہ باہمی مشورہ سے جلد حل ہونے یا دب جانے کا اظہار کیا جارہا ہے تاہم پاکستانی سرکار نے جو موقف ظاہر کیا ہے اس سے لگتا ہے کہ حکومت کو علاحدگی پسندوں کے ساتھ کافی ہمدردی ہے ۔اس وجہ سے دہلی سرکار بھی حیران اور پریشان ہے ۔