مضامین

87 کی طرز پر دھاندلیوں کا امکان

87 کی طرز پر دھاندلیوں کا امکان

پی ڈی پی سرپرست اورسابق وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی جانب سے پی ڈی پی پرلوک سبھا انتخابات کے دورا ن بھاجپا کے ساتھ خفیہ ساز باز کے الزا م پر ردعمل ظاہر کرنا میرے شایانِ شان نہیں۔انہوں نے 87 کی انتخابی دھاندلیاں دوہرانے کااندیشہ ظاہرکرتے ہوئے خبردارکیاکہ نیشنل کانفرنس پتھر بازی اورخوف پھیلانے کا حربہ وسطی اورشمالی کشمیر میں دوہرانے کامنصوبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے ’الیکشن کمیشن آف انڈیا کے رویہ کو غیرتسلی بخش ‘قراردیتے ہوئے بارہمولہ پارلیمانی حلقے میں آخری وقت پرمتعددپولنگ بوتھوں کے مقامات کوتبدیل کیاگیاہے۔ انہوں نے الزام لگایاکہ نیشنل کانفرنس یقینی شکست سے بچنے کیلئے پھر جمہوریت کا پھر قتل کر سکتی ہے۔ اپنی سرکاری رہائش گاہ واقع گپکار روڑ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی کے سرپرست مفتی محمد سعید نے کہا کہ’’میرا ریکارڈ صاف ہے ، جو لوگ پی ڈی پی اور بی جے پی کے مابین مفاہمت ہونے کی باتیں پھیلا رہے ہیں ، وہ اپنے گریباں میں جھانک کر دیکھیں۔ پروفیسر سوز کو این ڈی اے سرکار کے خلاف ووٹ ڈالنے پر کس نے پارٹی سے نکال باہر کر دیا ، کیا عمر عبداللہ گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کے وقت این ڈی اے سرکار میں وزیر نہیں تھے ‘‘۔انہوں نے کہا کہ’’ موقعہ پرستی ان کے خون میں ہے میرے نہیں،یہ میرے شایانِ شان نہیں کہ میں کچھ کہوں ،میں کیوں وضاحت دوں ،مجھے یہ برا لگتا ہے‘. دلّی میں کسی بھی پارٹی یا اتحاد کی سرکار آئے ، ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔مفتی محمد سعید نے کہا کہ دلّی میں جو کوئی بھی سرکار بنے ہم اپنے بات منوانے کی جدوجہد جاری رکھیں گے کیونکہ ہم کشمیر اور کشمیریوں کو تباہی وبربادی ، ظلم و زیادتیوں اور نا انصافیوں سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نجات دلانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دلّی میں بننے والی نئی سرکار کی ترجیحات میں کشمیر اور پاکستان کے ساتھ تعلقات ہونے چاہیں ۔ انہوں نے اس اندیشے کا اظہار کیا کہ وسطی اور شمالی کشمیر میں منصوبہ بند انتخابی دھاندلیاں ہو سکتی ہیں۔انہوں نے اپنے اس اندیشے کے حق میں دلیل دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی کشمیر میں پارلیمانی انتخابات کے دوران جس منصوبہ بند طریقے سے پی ڈی پی کے حمایتی علاقوں میں سنگ باری کر کے دہشت پھیلائی گئی ، اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نیشنل کانفرنس خوف و ہراس پھیلا کر ووٹروں کو پولنگ بوتھوں سے دور رکھنا چاہتی ہے۔ مفتی محمد سعید اس خدشے کا اظہار کیا کہ سرینگر پارلیمانی حلقہ میں بھی نیشنل کانفرنس کی طرف سے منصوبہ بند انتخابی دھاندلیاں کرائی جاسکتی ہیں۔ مفتی محمد سعید نے مزاحمتی جماعتوں اور لیڈران کا نام لئے بغیر کہا کہ الیکشن بائیکاٹ کی کال دینا بھی ایک شہری کا حق ہے لیکن اس کال کی آڑ میں تشدد کے ذریعے تناؤ پھیلانا صحیح نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بائیکاٹ مہم چلانے والے لوگوں کو پولنگ بوتھوں سے دور رکھنے کیلئے خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر رہے ہیں تو حکومت اس کو روکنے کیلئے کیا کچھ کر رہی ہے۔انہوں نے کہا جب ایسے حالات میں حکومت کی طرف سے چپ سادھ لی جائے تو مختلف طرح کے شبہات پیدا ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پتھر بازی کر اکے ان علاقوں میں خوف و ہراس پھیلایا گیا جہاں پی ڈی پی کو کافی عوامی حمایت اور مقبولیت حاصل ہے۔مفتی محمد سعید نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ 1987میں نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے انتخابی دھاندلیاں کیں ، جسکے نتیجے میں گذشتہ 25برسوں سے ریاست جموں و کشمیر تباہی و بربادی اور آگ و آہن کا سامنا کرتی آرہی ہے۔انہوں نے کہا کہ 87کی دھاندلیوں نے محمد یوسف شاہ کو صلاح الدین بنا دیا اور ہم خبردار کر دینا چاہتے ہیں کہ اب ایسی دھاندلیاں نہیں ہونی چاہئے ، جن کے نتیجے میں تباہی و بربادی کا سلسلہ یونہی چلتا رہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی کیلئے یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ نیشنل کانفرنس اپنی یقینی شکست سے بچنے کیلئے جمہوریت کا پھر قتل کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بارہمولہ اور سرینگر پارلیمانی حلقوں میں انتخابی دھاندلیوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ مفتی محمد سعید نے الزام لگایا کہ بارہمولہ پارلیمانی حلقے میں آخری موقعہ پر متعدد پولنگ بوتھوں کو تبدیل کر دیا گیا۔ اس موقعہ پر نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے پی ڈی پی سر پرست نے پارٹی ترجمان سید نعیم اختر ، سینئر لیڈر عبدالرحمان ویری اور سید الطاف بخاری کی موجودگی میں کہا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کا رویہ اب تک تسلی بخش نہیں رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بات افسوسناک ہے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اب تک پی ڈی پی کی شکایات پر کوئی کارروائی نہیں کی۔مفتی محمد سعید نے کہا کہ کمیشن کا یہ رویہ غلط تاثر پیدا کر رہا ہے اور لوگ یہ شبہ کر رہے ہیں کہ جموں کشمیر میں انتخابی عمل پر کمیشن کی کوئی نظر گزر نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نیشنل کانفرنس کے دیگر لیڈران نے کھلم کھلا مثالی انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیاں کیں اور اس حوالے سے ہم نے الیکشن کمیشن کے پاس شکایات بھی درج کیں ،لیکن کمیشن نے اب تک کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی