مضامین کالم کی خبریں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

16 Jan 2021 کو شائع کیا گیا

(قسط:۲۹)
علی شاہ اپنے باپ سکندر کے خاک پا کے برابر بھی ثابت نہیں ہوا اس لئے ہندو ،مسلم سب اس سے بیزار تھے،ہندو اس لئے کہ سیف الدین ملک اس کا بااختیار وزیر تھا جس نے ہندو برادری کو کافی تکلیفیں پہنچائیں اور مسلم یوں بیزار ہوئے کہ ملک کا نظم و نسق بگڑ گیا ، شاہی خان ۱۴۷۴ ؁ میںتخت نشین ہوا اور زین العابدین کے لقب سے مشہور ہوا اور آج تک اسی نام سے جاناجاتا ہے جب کہ اپنے عوام نے زین، کو بعد میں اپنا بڑا بادشاہ یعنی بڈشاہ کے نام سے اپنے دلوں میں جگہ دی مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

09 Jan 2021 کو شائع کیا گیا

(قسط:۲۸)
سلطان سکندر (بت شکن ) نے اپنے آخری لمحات زندگی میں اپنے تینوں بیٹوں میر خان۔ شاہی خان۔اور محمد خان کو اپنے پاس بلاکر اتحاد و اتفاق کی تلقین کرنے کے بعد،میر خان نے اپنے بڑے بیٹے کو ولی عہد مقرر کیا تھا ،اس وصیت کے مطابق میر خان علی شاہ کا لقب اختیار کرکے ۱۴۱۷؁ء کو تخت نشین ہوا، یہ تاریخ ،، تاریخ حسن سے ماخوذ ہے اور دوسری تاریخوں میں ۱۴۱۳؁ء ہے ۔ میرے خیال میں یہ فرق شروع سے شاید ھ کو عیسوی میں بدلنے میں فرق ہوا ہے ،، مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

02 Jan 2021 کو شائع کیا گیا

(قسط:۲۷)
سلطان قطب الدین کے دو بیٹے تھے ، مرزا شکار ،،اور مرزا ہیبت ،باپ کی وفات کے بعد مرزا شکار تخت نشین ہوا اور سکندر کے نام سے حکمرانی ۱۳۹۴؁ء میں شروع کی ،تاریخ میں سکندر بت شکن کے نام سے جانا جاتا ہے ،یہ اپنی ماں نورہ کی مدد سے تخت نشین ہوا اور تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ اس کی ماں بہت قابل ، با ہمت اور سیاسی داؤ پیچ سمجھنے میں زبردست ماہر تھی ، اس کا ذہن بھی بیدا ر تھا اور نگاہیں بھی فوراً تاڈ لیتی تھیں ،، گویا اللہ کی طرف مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

26 Dec 2020 کو شائع کیا گیا

قسط:۲۶)
شیخ نورالدین نورانی کے جنم کے بارے میں بہت ساری کہانیاں تاریخوں میںہیں لیکن میں مختصر سا ہی تذکرہ کروں گا ،شیخ سالار الدین نے کھی جوگی پورہ میں بوووباش کے بعد اپنے سسر کا ہی پیشہ چوکیداری اپنایا ، ایک روایت یہ ہے کہ ایک رات جب سالارالدین پہرے پر تھا اور رات نصف سے زیادہ ڈھل چکی تھی تو اچانک ایک پنڈت گھر ا نہ کے نزدیک پہنچ گئے ، یہ پنڈت جوبڑی مدت سے اولاد نرینہ کا متلاشی تھا ،اپنی بیوی ’’فکرہ بٹنی ‘‘ سے کہہ رہا مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

19 Dec 2020 کو شائع کیا گیا

(قسط:۲۵)
یہ اس سلسلے کی پچیسویں قسط یعنی سلور جوبلی قسط ہے ، میرے ذہن میں کچھ روز پہلے یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ اس قسط کو کچھ خاص ہی ہونا چاہئے اور اتفاق دیکھئے کہ تاریخ کے اس موڑ پر کھڑا تھا جہاں میں نے امیر کبیرمیر سید علی ہمدانی ؒکا تذکرہ کیا اور اس عہد کے بہت بڑے عارف ، صوفی ،ولی اور اللہ کی وہ بر گزیدہ شخصیت بھی ہماری نظروں کے سامنے آتی ہے جس پر اب تک بہت ساری کتب مارکیٹ میں آچکی ہیں ، جنہیں ہم ریشی سلسلے کی ابتدا بھی سمجھتے مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

15 Dec 2020 کو شائع کیا گیا

قسط:۲۴)
سلطان قطب الدین ،، ۱۳۷۸؁ء سے ۱۳۹۴؁ء تک ،، میں تاریخیں مورخ محمد الدین فوقؔ کی تاریخ سے کوٹ کرتا رہا ہوں ، کیونکہ انہوں نے ھ سنہ کو احتیاط سے عیسوی میں بدل دیا ہے، حسن کی تاریخ میں دئے گئےہجری سنہ بڑی حد تک درست رہے ہوں گے لیکن انہیں بدلنے میں ہوسکتا ہو کہ کہیں انیس بیس کا فرق رہ گیا ہو یہی وجہ ہے کہ تاریخوں میں ڈیٹ میں تھوڑا سا اختلاف نظر آتا ہے۔ بادشاہوں کے آنے جانے کی تاریخوں میں یقینی طور پر فرق مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

28 Nov 2020 کو شائع کیا گیا

(قسط:۲۲)
ابھی کئی اور چیزوں کا تذکرہ باقی ہے لیکن ہم پھر ایک بار اپنی کہانی کی طرف آجاتے ہیں ، شاہ میر (سلطان شمس الدین) کے لقب سے ۱۳۴۳؁ء سے ۱۳۴۷؁ء تک کشمیر کے تخت پر براجمان رہا ، اور آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ یہ صاحب بڑی کسمپرسی کی حالت میں یہاں آئے تھے اور ان کے بارے میں ان کے دادا وقلندر قوام شاہ نے ان کے پیدا ہوتے ہی یہ پیشگوئی کی تھی کہ یہ ملک کشمیر کا بادشاہ ہوگا ،، اور شاہ میر اس پیشگوئی کے مطابق یہاں کے بادشاہ بن گئے مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

21 Nov 2020 کو شائع کیا گیا

(قسط:۲۱)

مجھے خود بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ ہمارے تاریخی اور مشہور باغات کا اتنا لمبا سلسلہ ہے ، میں اسی نتیجہ پر پہنچا کہ قدرت نے اپنی کرشمہ سازیوں سے بے انتہا حسن اور حسین نظاروں ، کوہساروں ، مرغزاروں ، ازلی اور ابدی ،لازوال چشموں اور ان میں رواں آب حیات کو جو خوبصورتی اور دلکشی عطا کی ہے ، اس کی کوئی اور مثال کہیں اور نہیں ،باغات کی تفصیل کے ساتھ حکمراں کا تذکرہ مفید ہی رہے گا مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

16 Nov 2020 کو شائع کیا گیا

(قسط:۲۰)
درگاہ حضرت بل ۔تاریخی اہمیت اور موئے مقدس کی مناسبت سے میں نے مناسب سمجھا کہ اس شہرہ آفاق آستانہ عالیہ کی تاریخ ذرا تفصیل سے بیان کی جائے تاکہ پڑھنے والے۔جنہوں نے صرف نام سنا ہے بھی اس کی عظمتوں اور کشمیری عوام کے دل میں اس زیارت گاہ کے لئے بے انتہا محبت ، اور عشق کی کیفیات سے ا ٓ شنا ہوجائیں ،میرے کشمیر کے لوک گیتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جن میں اس آستانے کی عظمتوں اور اس سے مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

02 Nov 2020 کو شائع کیا گیا

(قسط:۱۸ )
میں نے ابتدا میں کہیں لکھا تھا اور فیصلہ بھی کیا تھا کہ کشمیر کے مشہور مقامات ، باغات ، دریا اور چشموں کے بارے میں اپنے اپنے عہد اور بادشاہوں جن کا تعلق ان کے ساتھ رہا ہے ، تذکرہ کیا جائے گا ، لیکن ۔ کشمیر کے پرگنوں پر مشتمل مختصر سی قسط کی جس طرح سے پذیرائی ہوئی ہے اور جس طرح سے پڑھنے والے کشمیر سے واقف ہوئے ہیں ، اس نے مجھے قائل کیا کہ اخبار بینوں کے لئے، جو ان قسطوں سے محظوظ ہورہے ہیں یہ بہتر ہے کہ جس طرح سے پرگنوں کو ایک مزیدپڑھیں