مضامین کالم کی خبریں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

11 Apr 2021 کو شائع کیا گیا

(قسط: ۴۱)
تاریخ کے جس موڈ پر ہم ہیں یہاں میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تھوڈی سی تفصیل کے ساتھ ان واقعات کا تذکرہ کیا جائے جن کی وجہ سے شاہمیر ی مزیدپڑھیں

کیا سرحدوں پر قیام امن کا خواب پھر ٹوٹنے لگا ہے ؟

05 Apr 2021 کو شائع کیا گیا

تجمل احمد
25فروری کو بھا رت اور پا کستان کی حکو متوں کی جانب سے جاری کئے گئے الگ الگ بیانات میں پو ری دنیا کو بالعموم اور جنوب ایشیا ئی ممالک کے عوام کو با لخصوص اس وقت حیرت زدہ کر دیا جب انہوں نے اس با ت کا علان کیا کہ دونوں ممالک نے سال2003ء میں کئے گئے جنگ بندی معاہدے پر سختی اور سنجید گی کے ساتھ عمل پیرا ہو نے سے اتفاق کر لیا ہے ۔اس اچانک پیش رفت نے جہاں بھا رت اور پا کستان میں اکثر و بیشتر مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

05 Apr 2021 کو شائع کیا گیا

(قسط: ۴۰)
مرزا حیدر اور دایم بیگ کاشغری سپاہ سالاروں اور افواج کے ساتھ کشمیری افواج نے چھاپہ مار جنگ شروع کی اور بہت سارے شبخون مارنے کے بعد کاشغری سپاہ کو تردد ہوا اور صلح کی کوششیں شروع ہوئیں ، مرزاحیدر چونکہ کشمیر کی تاریخ میں ایک اہم رول ادا کر چکے ہیں اس لئے اس کا تھوڑا سا بیک گراونڈ دینا بھی مناسب ہی رہے گا ،( مرزا حیدردوغلت ۱۵۰۰ ء میں صوبہ شاش کے صدر مقام تاشقند میں پیدا ہوا ،جہاں اس کا باپ حکمران تھا ، مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

28 Mar 2021 کو شائع کیا گیا

(قسط: ۳۹)
شاہ میر خاندان کے عروج کا دور سلطان زین العابدین کا دور رہا ہے اور اس پچاس سالہ دور میں ان کا آفتاب اپنی پوری تمازت کے ساتھ چمکتا رہا ، اس کے بعد سے ہی اس کے ناقابل اور رذیل بیٹوں نے تخت اور اقتدار کی خاطر کتوں کی طرح ایک دوسرے کو پھاڑ کھانے کے انداز اپنائے اور جن دو بادشاہوں پر ہم آگئے ہیں وہ محمد شاہ اور فتح شاہ ہیں ، ان کی کہانی اس کے سوا کچھ نہیں کہ پورے سنتالیس سال یہ دونوں ایک دوسرے کو پچھاڑنے اور تخت پر بیٹھنے کی مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

20 Mar 2021 کو شائع کیا گیا

(قسط: ۳۸)
حسن شاہ نے اپنی موت سے پہلے یہ وصیت کی تھی کہ ’’یوسف خان ولد بہرام خان یا فتح خان ابن آدم خان کو میرے بعد تخت پر بٹھایا جائے لیکن میرے نابالغ بیٹے محمد شاہ کو ولی عہد نامزد کیا جائے ‘‘سید حسن نے یہ وصیت بہ ظاہر قبول کی تھی دونوں میں سے کسی ایک کو تخت پر نہیں بٹھایا بلکہ اس کے برعکس محمد شاہ کو ۱۵۴۴ء؁ میں تخت نشین کیا جب اس کی عمر صرف سات برس تھی اور خود اس کاسر پرست بن گیا ، ظاہر ہے کہ یہ اس لئے بھی کیا ہو مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

13 Mar 2021 کو شائع کیا گیا

(قسط: ۳۷)
میرا خیال تھا کہ یہ قسط سلطان زین العابدین کے دور کے ان مشائخین ، صوفی بزرگوں ، ریشیوں منیوں ،وحانی پیر طریقت و شریعت اور سادات کے نام کردوںجو یہاں آکر کشمیر کی مٹی ہی میں آسودہ حال ہوئے اور جنہوں نے بڑی محنت و مشقت اٹھاکر اسلام کے پودے کو خون جگر سے سینچ کر ایک تناور درخت کا روپ دیا بلکہ یوں کہا جائے تو بہتر ہے کہ باغ سلیماں میں اسلام کی کیاریاں اور گلستاں کھلادئے ، لیکن پھر خیال آیا کہ انہیں اگلی قسط میں جگہ دوں ، مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

06 Mar 2021 کو شائع کیا گیا

(قسط: ۳۶)
چشموں کا مختصر تذکرہ کرنے کے باوجود کئی اہم ایسے چشمے پچھلی قسط میں رہ گئے تھے اور میں نے یہ مناسب نہیں سمجھا کہ انہیں مکمل ہذف کردوں کیونکہ ان چشموں کے ساتھ ہزاروں برس کی تاریخ ، اور وہ توہمات یا کہانیاں منسوب ہیں جو ہماری تاریخ میں آج بھی موجود ہیں اس لئے ، ان کا تذکرہ بھی لازمی اور ناگزیر ہوجاتا ہے ،،چشمہ زیون ،،، وہو پرگنہ کے ز یون نامی گاؤں میں ہے ہندو لوگ اس چشمے کو بھی بہت ہی متبرک مانتے ہیں (آئین اکبری )ابوالفضل کے مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

27 Feb 2021 کو شائع کیا گیا

(قسط: ۳۵)
تاریخ کشمیر کے ان اوراق میں اگر چہ بہت ساری یا تمام اہم چیزوں کا ذکرآتا ہی رہتا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ کچھ خاص چیزوں کا تذکرہ الگ اور اسی عنوان سے ناگزیر بھی بنتا ہے ، اس لئے کہ پڑھنے والے ’’ہماری اس کہانی ‘‘ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ان خاص اہمیت کے مقامات ، دریا جھیلوں اور باغات یا صحت افزا مقامات سے آشنا بھی ہوں اور ایک دم سے قسط نمبر سے ہی اپنی مطلوب معلومات حاصل کر سکیں ، مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

20 Feb 2021 کو شائع کیا گیا

سلطان زین العابدین (بڈشاہ ) کا مختصر تعارف دینے کے بعد میں نے سوچا تھا کہ آپ کو کشمیر کے پلوںاور دریاؤں سے متعلق معلومات فراہم کروں لیکن بہت سارے فون ایسے آگئے جو مجھ سے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ میری معلومات کا سورس کیا ہے ، اگر چہ میں نے پہلے ہی یہ بات کہہ دی ہے کہ میں کوئی ہسٹورین یا تاریخ داں نہیں بلکہ مجھے تاریخ کا ایک طالب علم ہی سمجھا جائے اور یہی حقیقت بھی ہے ، اس لئے میں دم لینے کے لئے اس قسط میں صرف یہ بتانے کی کوشش کروں گا کہ ، ہم جو مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

14 Feb 2021 کو شائع کیا گیا

سلطان زین العابدین ، بڈشاہ اپنے بیٹوں سے اسقدر مایوس اور بد دل ہوا کہ کسی کو بھی اپنا جانشین مقرر نہیں کیا ، ، سلطان کے اپنے اندازے کے مطابق اوہم کنجوس اور بد کار تھا ، حاجی شرابی اور بہرام منافق ، تینوں ایک دوسرے کے ساتھ پر خاش رکھتے تھے اور تینوں کی دماغی حالت اس لحاظ سے صحت مند تسلیم نہیں کی جاسکتی۔ اسی دوران بہرام نے اپنے مفاد میں اوہم اور حاجی کو ایک دوسرے کے خلاف اکسایا اور اس وجہ سے دونوں ایکدوسرے کو قتل کرنے کے درپہ ہوئے ، اور اس کے بعد حاجی کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرکے اوہم کو تباہ کرنے مزیدپڑھیں