مضامین کالم کی خبریں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

16 Oct 2021 کو شائع کیا گیا

رشید پروینؔ سوپور
(قسط: ۶۶)
شیر پنجاب مہاراجہ رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد اس کا بڑا بیٹا مہاراجہ کھڑک سنگھ تخت نشین ہوا ، اگر چہ رنجیت سنگھ کے اور بھی کئی بیٹے تھے لیکن سب سے بڑا یہی بیٹا تھا جو رانی راج کور کے بطن سے پیدا ہوا تھا اور تخت نشینی کے موقعے پر اس کی عمر ۳۵ سال تھی ، ، دو ماہ ماتمی رسومات میں گذارنے کے بعد ۱۸ بھادوں ۱۸۹۶ بکرمی کو جلوس کی رسم منعقد ہوئی جس میں تمام شہزادوں اور فوج کے افسراں نے شرکت کی اور رات کو لاہور میں زبردست چراغاں ہوا ،،کھڑک مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

04 Sep 2021 کو شائع کیا گیا

رشید پروینؔ سوپور
(قسط: ۶۲)

بھائی کی کابل روانگی پر جبار خان حکمراں ہوا ، نام جبار ،، لیکن نرم مزاج اور انصاف پسند ، رحم دل اور منصف مزاج ۔لیکن قسمت نے اس سے ظلم و جبر کا دور ختم کرنے کی بالکل بھی فرصت نہیں دی اور جو فصل اس کے پیشرو افغانوں نے بوئی تھی اب پک چکی تھی ۔ اب اس سے کا ٹنا ہی باقی تھا ، بیر بل پنڈت جو رنجیت سنگھ کے دربار میں پناہ لے چکا تھا کو جب عظیم خان کے واپس کابل جانے کا حال معلوم ہوا تو فوراً ہی رنجیت سنگھ کو مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

28 Aug 2021 کو شائع کیا گیا

(قسط: ۶۱)

کفایت خان نے ایک سال تک کشمیر میں اپنی حکمرانی کا دورختم کیا اور اس کے بعد ۱۷۹۵؁ ء میں امیر خان کا بیٹا ارسلان خان صوبیدار کشمیر مقرر ہوا ،، جس نے اپنی طرف سے محمد خان جواں شیر کو نائب مقرر کیا ، کفایت خان شیر گڈھی خالی کر کے اپنے باغ محلہ خانیار منتقل ہوا ، محمد خان نے کفایت کو دربار بلوایا اور شیر گڈھی میں محصور کیا ، اور چند روز بعد اس سے کابل بھجوادیا ،، لیکن محمد خان ابھی دم بھی نہیں لینے مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

21 Aug 2021 کو شائع کیا گیا

رشید پروینؔ سوپور
(قسط: ۶۰)

سیف الدولہ۔مددخان اسحاق زئی صوبہ دار کشمیر ۱۰ ماہ ،۱۷۵۸؁ء) بہت جلد مدد خان نے محسوس کیا کہ کشمیری لوگ موت سے کم لیکن افغان صوبیداروں سے زیادہ ڈرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ کسی بھی افغان کو دیکھ کرخوف سے سہم کر رہ جاتے اور افغانوں کو انتہائی قابل نفرت سمجھتے ہیں ۔اس بات کے اسباب بھی اس سے جلد ہی معلوم ہو ئے ، اس لئے مدد خان نے اس تصویر کو بدلنے کی کوشش کی اور عوام کے ساتھ بہت ہی نرم رویہ سے پیش آنے کی کوشش کی مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

14 Aug 2021 کو شائع کیا گیا

رشید پروینؔ سوپور
(قسط: ۵۹)

احمد شاہ ابدالی کی وفات کے بعد اس کا بڑا بیٹا تیمور شاہ مسند نشین ہوا ، یوں تو ابدالی کے چار بیٹے تھے لیکن حکمرانی اسی تیمور کے حصے میں آئی ،یہ تاریخ کشمیر سے باہر کی بات ہے ا سلئے اس کی تفصیلات سے گریز ہی بہتر ہے ، تیمور کا دورِ حکمرانی ۱۲ سال ایک ماہ رہا اور اسی بادشا نے اپنا دارالامارت قندھار سے کابل منتقل کیا ، ۔ یہ تیمور شاہ گرمیاں کابل اور سر دیاں پشاور میں گذارتا تھا ، اس کے زمانے میں مملکت کشمیر زبردست اور مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

07 Aug 2021 کو شائع کیا گیا

رشید پروینؔ سوپور
(قسط: ۵۸)

صوبیدار جو احمد شاہ ابدالی کے دور میں یہاں رہے ان کی تعداد سات تک پہنچتی ہے ، (۱) بلند خان بامزئی ۔۔ نورالدین خان بامزئی نے صوبہ کشمیر فتح کر کے یہاں امن و اماں قائم کیا ، لیکن بادشاہ نے اس سے جلد ہی واپس بلایا اور بلند خان بامزئی کو ۱۷۶۲؁ ء میں یہاں کی صوبیداری عطا کی ،یہ شخص بڑا ہی عالی ظرف اور خوش مزاج تھا ، امور ملکی پر قابل افراد تعینات کرکے اپنا زیادہ تر وقت عیش و عشرت میں ہی گذارنے لگا ، مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

31 Jul 2021 کو شائع کیا گیا

رشید پروینؔ سوپور
(قسط: ۵۷)
عبداللہ خان ایشک اقاصی ،احمد شاہ ابدالی کا نظام بن کے یہاں فاتحانہ سرینگر کے اندر داخل ہوا تو ، مغلیہ چراغ ہمیشہ کے لئے گل ہوا اور چراغ افغانہ جلنے لگا جس کی تپش ، تمازت اور حدت نے گلستان کشمیر کو ریگستانوں کی پہچان دی ، لیکن مختصر سا تذکرہ پہلے احمد شاہ کا ، جب نادر شاہ خراساں کی تسخیر کے بعد ہرات پہنچا تو یہاں اس کا پوتا احمد خان ابدالی اس کی ملازمت میں آگیا ، لیکن اپنی اقبال مندی اور اوصاف کی بنا پر بہت جلد ہی نادر شاہ کا چہتا بن گیا ، اور دھیرے دھیرے مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

24 Jul 2021 کو شائع کیا گیا

رشید پروینؔ سوپور
(قسط: ۵۶)

اقتدار اور طاقت وقوت ، تخت شاہی ،کے لئے مسلسل انتشار اور اضطراب کا تاریخ میں پایا جانا کوئی انہونی بات نہیں ، اس طرح کشمیر کی صوبیداری اور نائب صوبیداری پر بھی کشمکش اور چال بازیاں لازم و ملزوم بنتی ہیں ،، عنایت خان اپنے بیٹے کے ساتھ راہ فرار اختیار تو کرگیا لیکن گوجر علاقے میں بمبوقبیلہ کے لوگ اس کے ارد گرد جمع ہوگئے ، جو ایک بار پھر علاقہ کامراج میں داخل ہوئے اور یہاں لوٹ مار مچانے لگے ، سرینگر میں ابوالبرکات راج کر رہا تھا ، آخر دونوں میں صلح مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

17 Jul 2021 کو شائع کیا گیا

رشید پروینؔ سوپور
(قسط: ۵۵)
عنا یت اللہ خان کے بعد ۱۷۲۵؁ء میںعقیدت خان نے کشمیر کی صوبیداری سنبھالی اور اس نے پھر ایک بار ابو البرکات خان کو اپنا نائب مقرر کیا ،لیکن دوسال کے بعد ہی بادشاہ نے نائب اور صوبیدار دونوں کو معزول کیا ، اور آغر خان نے صوبیداری کا منصب پایا ، آغر خان نے چھوٹی سی مدت تک عدل و انصاف سے کام چلایا لیکن بہت جلد ہی یکسر بدل گیا اور رعایا پر ظلم و جبر کے پہاڈ توڈنے میں کوئی کسر نہیں کی ، ابولبر کات خان ابھی کشمیر میں موجود تھا اس نے مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

10 Jul 2021 کو شائع کیا گیا

قسط: ۵۴)
اگر چہ مجھے ہندوستان کی تاریخ آپ تک پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں پھر بھی ان بادشاہوں کا مختصر تذکرہ لازمی ہو جاتا ہے جنہوں نے ملک کشمیر میں اپنے صوبیدار بھیج دئے اور جنہوں نے کسی نہ طرح ہندوستان مزیدپڑھیں