نقطہ نظر کالم کی خبریں

جشنِ سالِ نو افسوس کہ یہ امت خرافات میں کھو گئی

09 Jan 2021 کو شائع کیا گیا

سلسلہ روزو شب نقش گر حادثات
سلسلہ روزو شب اصل حیات و ممات
سلسلہ روزو شب تارِ حریر دو رنگ
جس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفات

بر صغیرکاشاید ہی کوئی بڑا اخبار ہو جس نے مضامین کا ایک پوارا سلسلہ سال نو کی آمد پر اپنے اخبارات کی زینت نہ بنا یاہواور یہ سلسلہ ٹھیک پچیس دسمبر سے شروع ہوکر ابھی تک جاری ہے۔ الیکٹرانک میڈیا نے جتنے پروگرام کئے اور اپنے دیکھنے والوں کی مزیدپڑھیں

ڈی ڈی سی انتخابات ،، نتائج غیر متوقع تو نہیں ؟

02 Jan 2021 کو شائع کیا گیا

ہماری تاریخ کا اس نوعیت کا پہلا انتخاب اپنے آخری مرحلے سے گذر چکا ہے اور نتائج کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے جو اگر غیر متوقع نہیں لیکن کئی لحاظ سے حیران کن ضرور ہیں ، بھاجپا نے ۷۶ سیٹوں پر قبضہ جمالیا ہے ، ان میں صرف تین سیٹیں وادی سے ہیں اور باقی سبھی جموں ڈویژن سے لی ہیںجہاں دس ضلعوں میں بی جے پی نے پانچ ضلعوں میں سویپ کی ہے اور یہ سب ہندو اکثر یتی والے اضلاع اودھم پور ،کٹھوعہ، مزیدپڑھیں

خیالات کا وجود

26 Dec 2020 کو شائع کیا گیا

عابد حسین راتھر
rather1294@gmail.com
7006569430

انسانی دماغ ایک ایسا عضو ہے جو لگاتار سوچتا رہتا ہے اور جس میں ہر وقت خیالات آتے رہتے ہیں اور یہ خیالات بہت تیزی سے بدلتے رہتے ہیں۔ کچھ خیالات ایسے ہوتے ہیں جو آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو دماغ میں اپنی مستقل جگہ بنا لیتے ہیں اور انہی خیالات کی بنا پر انسان حالات کی جانچ پڑتال کر تا ہے اور جائزہ لیکے اپنے فیصلے لیتا ہے جس سے ہم ادراک مزیدپڑھیں

’’الائنس‘‘ اور ’’اپنی پارٹی‘‘ انتخابات کے آئینے میں

19 Dec 2020 کو شائع کیا گیا

ڈی ڈی سی اور بلدیاتی انتخابات اپنے آخری مر حلے میں ہیں ، کشمیری عوام نے ووٹ دئے ہیں کم یا زیادہ ۔ اس سے کوئی واضح فرق اب نہیں پڑتا کیونکہ بہر حال’’ پولنگ بوتھوں پر لگی ہوئی لمبی قطاریں ساری دنیا کے چینلوں پر بڑھا چڑھاکر دکھائی جارہی ہیں جس کے ساتھ یہ ٹکڑا ضرور ہوتا ہے کہ ’’بھارت ایک بڑا جمہوری ملک ہے اور کشمیریوں کو اس جمہوریت پر پورا بھروسا ہے ، ‘‘ لیکن ایک جائزے کے مزیدپڑھیں

مولانا نور الدین ترالی کے فرزند، مرحوم حافظ پیر احمد اللہ کا پوتا مولانا نور احمد کا انتقال

15 Dec 2020 کو شائع کیا گیا

ادارہ’ سرینگر ٹوڈے‘ مرحوم نوراحمدترالی ؒ کے خاندان کے ساتھ اُن کی رحلت پر تعزیت پیش کرتا ہے۔جملہ ممبران دست بدعا ہے کہ اللہ رب العالمین مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے اور لواحقین کو صبرو جمیل سے نوازیں۔

۱۹۴۲ء میں پیدا ہوئے بچے کا نام نور احمد جوکہ دو ناموں کا مرکب ہے، نور اور احمد، نور باپ کے نام سے اور احمد دادا سے مزیدپڑھیں

ایک چھوٹی سی لیکن ہنگامہ خیز خبر

21 Nov 2020 کو شائع کیا گیا

مظفر حسین بیگ صاحب پی ڈی پی سے مستفعی،،،ایک چھوٹی سی لیکن ہنگامہ خیز خبر ہے ، مظفر صاحب کا اس پارٹی سے مستفعی ہونا سیاسی پنڈتوں کے لئے اچھنبے کی ہی بات ہوسکتی ہے ، ، ،ایک اور اہم بات انہوں نے یہ بھی کی کہ پی ڈی پی نے اس کے ساتھ مشورہ نہیں کیا ، جس سے پارٹی کو نقصان پہنچ چکا ہے اور یہ بھی کہ پی ڈی پی بنیادی اصولوں سے ہٹ کر (پاور ) کے لئے لوگوں کے مستقبل سے کھیل مزیدپڑھیں

لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب

02 Nov 2020 کو شائع کیا گیا

ھر ایک بار فرانسیسی سرکار نے اپنے تعاون اور اشتراک سے رسول مقبول ﷺ کی شان ِ اقدس میں گستاخی کا منصوبہ بنایا اور اس پر عمل پیرا ہوکر مسلم دنیا اور کروڑوں مسلمانوں کے جگر کو چیر کر رکھ دیا ، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسا پہلی بار ہورہا ہے َ اس کا جواب یہی ہے کہ عصری دور میں جب آپ تھوڑا سا ماضی میں جھانکیں گے اورتھوڑا سا حافظے پر زور دیں گے تو آپ کو یاد آئے گا کہ مزیدپڑھیں

محبوبہ جی اور گپکاربیٹھک ۔۔ اہداف کیا ہوں ؟

19 Oct 2020 کو شائع کیا گیا

آخر اب محبوبہ مفتی بھی ۱۴ ماہ کی مدت کے بعد رہا ہوئی ہیں،( مبارک کہہ نہیں سکتا میرا دل کانپ جاتا ہے ) یہ تو آپ کو یاد ہی ہوگا کہ عمر اور فاروق باپ بیٹے پہلے ہی رہا ہوچکے تھے اور انہوں نے اپنے سیاسی میدان کو نئے سرے سے ہموار کرنے کی راہیں اس اعلامئے سے کی تھیں جس سے اب عرف عام میں ’’گپکار اعلامیہ ‘‘سے موسوم کیا جاتا ہے اور اس منڈلی میں وہ سب لوگ ، وہ سبھی پارٹیاں موجود تھیں مزیدپڑھیں

کشمیر ،نئے سیاسی راستوں کی تلاش ناگزیر

14 Sep 2020 کو شائع کیا گیا

’اپنی پارٹی ‘‘کے صد الطاف بخاری نے کہا ہے کہ کشمیر نے جو کھویا ہے ، اس سے کوئی اعلامیہ واپس نہیں لاسکتا صرف سپریم کورٹ یا خود مرکزی سرکار ہی اس سے واپس بخش سکتی ہے ، ہمارا ایجنڈا یہی ہے کہ اس کی واپسی ہو ، ہماری ترجیحات میں بیروز گاری اور نوجوانوں کا مستقبل ہے اور یہ کہ ہم جموں و کشمیر کے عوام کو بھی قریب لانا چاہتے ہیں جن کے درمیان واضح دوریاں پیدا ہوچکی مزیدپڑھیں

ڈاکٹر فاروق نے بھی آخر زباں کھول دی

29 Aug 2020 کو شائع کیا گیا

اس سے پہلے کہ اصل موضوع پر آجاؤں ایک چھوٹی سی ، مختصر سی، کشمیری شودوں (چرسیوں) کی کہانی ذہن کے پردوں پر رقص کرنے لگی ہے سو چا کہ آپ کو بھی اس کہانی سے لطف اندوز کردوں ،، لیکن مشکل یہ ہے کہ اس فوک کہانی جو کہ کشمیری زباں میں بار بار دہرائی جاتی ہے ، کا اُردو یا کسی اور زباں میں وہ مزا نہیں، بہر حال ،، مجبوری ہے۔ کوشش ہی کرسکتا ہوں ، اس لئے عرض ہے کہ آپ کہانی مزیدپڑھیں