خبریں کالم کی خبریں

اب جواب دینے کاوقت ہے

16 Oct 2021 کو شائع کیا گیا

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے 2016کے سرجیکل اسٹرائیک کویادکرتے ہوئے جمعرات کو کہا کہ ہندوستان اب کسی بھی قسم کی دہشت گردی کا مناسب جواب دیتا ہے۔ نئی دہلی کے قریب نیشنل فرانزک سائنسز یونیورسٹی (این ایف ایس یو) کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ سرجیکل سٹرائیک نے دنیا بھر میں پیغام دیا کہ کوئی بھی ہندوستانی سرحدوں میں مداخلت نہیں کر سکتا۔مرکز میں سابقہ متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ اس سے پہلے دہلی کچھ نہیں کیا،یہاں تک کہ دہشت گرد سرحدوں کی خلاف ورزی کرتے اور ملک میں بدامنی پھیلاتے رہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہاکہ، بی جے پی کے برسراقتدار آنے کے بعد بھارت نے2016 میں سرجیکل اسٹرائیک کی صورت میں جموں و کشمیر کے اوڑی میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد مناسب جواب دیا۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پاکستان کے بظاہر حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ پہلے بات چیت ہوتی تھی لیکن 2016 سے بھارت نے اسی زبان میں جواب دینا شروع کیا۔امت شاہ کاکہناتھاکہ وزیراعظم مودی اور سابق وزیر دفاع منوہر پاریکر کے تحت سرجیکل اسٹرائیک ایک اہم قدم تھا،کیونکہ ہم نے پیغام دیا کہ کوئی بھی ہندوستان کی سرحدوں کو پریشان نہیں کر سکتا۔مرکزی وزیرداخلہ کاسخت لہجے میں کہناتھاکہ آپس میں بات چیت کا ایک وقت تھا ، لیکن اب جواب دینے کا وقت آگیا ہے ۔اس دوران وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پاکستان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کو غیر ریاستی اداکاروں اور غیر ذمہ دار ریاستوں نے خطے میں اپنے سیاسی مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیا ہے۔مسلح افواج میں خواتین کے کردار کے بارے میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سیمینار سے خطاب میں ، راجناتھ سنگھ نے کہا کہ سیکورٹی کا تصور’نمونہ تبدیلی‘ سے گزر رہا ہے اور گروپ کے رکن ممالک کو اجتماعی طور پردہشت گردی جیسے چیلنجوں سے نمٹنا ہوگا۔انہوںنے کہاکہ سیکورٹی کا تصور ایک مثالی تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ جنگ کا بدلتا ہوا کردار ہماری سرحدوں سے ہمارے معاشرے اور لوگوں میں خطرات لا رہا ہے۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ دہشت گردی اس حقیقت کا سب سے واضح اور شیطانی مظہر ہے۔وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ورچوئل ایونٹ میں کہا کہ دہشت گردی کو غیر ریاستی اداکاروں اور غیر ذمہ دار ریاستوں نے اپنے سیاسی مقاصد کو آگے بڑھانے کے کیلئے پسند کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ خواتین جنگ میں برابر کی شراکت دار رہی ہیں اور رہیں گی۔اپنے خطاب میں چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت نے کہا کہ جنگ کا کردار بنیادی طور پر روایتی جنگ سے ہائبرڈ اور گرے زون جنگ میں تبدیل ہوا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سائبر اسپیس اور بیرونی خلا جنگ کے نئے انقلابی ڈومین ہیں۔چیف آف ڈیفنس سٹاف نے کہا کہ لڑاکا پائلٹوں ، پیراٹروپرز ، آبدوزوں اور اس جیسے جنگی کرداروں کی طلب میں خواتین نے اپنی صلاحیت کو ثابت کیا ہے۔
مزیدپڑھیں

مودی بائیڈن ملاقات
ہندوستان اور امریکہ کابحرالکاہل خطہ کیلئے مل کر کام کرنے کا دہرایا عزم

25 Sep 2021 کو شائع کیا گیا

وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر جیو بائیڈن کے مابین ملاقات کے دوران دونوں ملکوں کے رہنمائوں نے اس بات کا عزم دہرایا کہ ہندوستان اور امریکہ کسی بھی بڑے چیلنج کے ساتھ مل کر مقابلہ کریں گے ۔ وزیر اعظم نے ہنر ، ٹیکنالوجی ، کاروبار اور ٹرسٹی شپ کو ہندوستان امریکہ تعلقات میں کلیدی عناصر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور امریکہ موسمیاتی تبدیلی، کوروناوائرس اور عالمی ’’شدت پسندی‘‘ کے بڑھتے چلینجوں کا مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں اور ایک ساتھ ملک کرکام کریں گے ۔
وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر جیو بائیڈن نے ہندوستان اور امریکہ کو دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک ہونے کے ناطے ایک دوسرے کے سب سے قریبی شراکت دار قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ کووڈ اور موسمیاتی تبدیلی سمیت تمام عالمی چیلنجز کا مقابلہ کریں۔ وہائٹ ہاؤس میں امریکی صدر کے اوول آفس میں مسٹر بائیڈن نے مسٹر مودی کا پرتپاک استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں کے افتتاحی بیان کے بعد وفد کی سطح کی ملاقات ہوئی، جو تقریباً ًڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی۔ ہندوستانی وفد میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر ، قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) اجیت ڈوبھال، سکریٹری خارجہ ہرش وردھن شرنگلا ، امریکہ میں ہندوستان کے سفیر ترنجیت سنگھ سندھو اور وزارت خارجہ میں جوائنٹ سکریٹری (یو ایس اے ) وانی راؤ شامل تھے۔اوول آفس میں ہندوستانی وزیر اعظم کا استقبال کرتے ہوئے امریکی صدر مسٹر بائیڈن نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات ، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے ناطے، قریب اور مضبوط ہونے والے ہیں۔ اس وقت ان تعلقات میں ایک نیا باب بھی شروع ہوگا۔مسٹر بائیڈن نے کہاکہ مجھے بہت پہلے سے یقین ہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات بہت سے عالمی چیلنجز کو حل کرنے میں ممد و معاون ہو سکتے ہیں۔2006میں نائب صدر بننے کے بعد میں نے کہا تھا کہ 2020تک ہندوستان اور امریکہ دنیا کے قریب ترین ممالک میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ مل کر کووڈ کی وبا کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ امریکی صدر نے ملک میں رہنے والے تقریباً 40لاکھ ہند نژاد امریکیوں کی امریکہ کی ترقی اور مضبوطی میں شراکت کا ذکر کیا اور کہا کہ اگلے ہفتے مہاتما گاندھی کی سالگرہ ہے اور ان کی عدم تشدد، رواداری اور باہمی احترام کی تعلیمات آج کی دنیا کو پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔مسٹر مودی نے اپنے بیان میں مسٹر بائیڈن کے ہند-امریکہ تعلقات کے وژن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر بائیڈن کا وژن متاثر کن رہا ہے، جسے وہ آج امریکہ کے صدر کی حیثیت سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر بائیڈن کی قیادت میں، جو بیج آج 21ویں صدی کی تیسری دہائی کے پہلے سال میں ہمارے دوطرفہ تعلقات میں لگائے جا رہے ہیں ، یہ تعلقات وسعت پائیں گے اور یہ دنیا کے جمہوری ممالک کیلئے بھی تبدیلی کا ثبوت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دونوں جمہوری اقدارو روایات، جن کے ساتھ ہم دونوںملک جی رہے ہیں ، آنے والے وقتوں میں ان کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔ وزیر اعظم نے ہنر ، ٹیکنالوجی ، کاروبار اور ٹرسٹی شپ کو ہندوستان امریکہ تعلقات میں کلیدی عناصر قرار دیا۔ امریکہ کے ترقیاتی سفر میں ہندنژاد 40 لاکھ انڈین کمیونٹی کی شراکت کی نشاندہی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے پیچھے عوام کے درمیان ہنر کی پرورش اہم سبب ہے۔ امریکہ کی ترقی میں اس کی اہمیت رہی ہے۔ امریکہ کے ترقیاتی سفر میں انڈین ٹیلنٹ کا پارٹنر بننے میں مسٹر بائیڈن کا کردار اہم ہے۔مسٹر مودی نے کہا کہ اس دہائی میں ٹیکنالوجی پوری دنیا میں ڈرائیونگ فورس ہونے والی ہے۔ ہندوستان اور امریکہ بھی ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانیت کی خدمت کر سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں تجارت بھی اہم ہے۔ امریکہ اور ہندوستان میں ایسی چیزیں ہیں، جو ایک دوسرے کے کام آنے والی ہیں، لہٰذا دوطرفہ تعلقات میں تجارت بھی ایک بہت اہم مسئلہ ہوگا۔ مسٹر بائیڈن کے مہاتما گاندھی کے تذکرے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گاندھی جی نے ٹرسٹ شپ کے نقطہ نظر سے زمین کو دیکھا۔ان کا خیال تھا کہ ہمیں اس زمین کو اگلی نسل کو اس کے ورثہ کے طور پر سونپنی ہوگی۔ یہ دنیا کے ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ چاہے کوویڈ ہو یا موسمیاتی تبدیلی یا کووڈ ، مسٹر بائیڈن کے اقدامات آنے والے دنوں میں دنیا پر بڑا اثر ڈالیں گے۔ ہندوستان اور امریکہ ایک دوسرے کے لیے اور دونو ں مل کر دنیا کے لیے کیسے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس پر غور و خوض کرنا ہوگا۔قبل ازیں ایک ٹویٹ میں مسٹر بائیڈن نے کہا کہ وہ آج صبح وائٹ ہاؤس میں وزیراعظم نریندر مودی کی دوطرفہ ملاقات کی میزبانی کریں گے۔ وہ دونوں ممالک کے مابین گہرے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے ، آزاد اور کھلے ہند بحرالکاہل خطہ قائم کرنے کے لیے کووڈ وبا اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنے کے خواہشمند ہیں۔دونوں رہنماؤں کے درمیان بیان میں کچھ ہلکے لمحات بھی نظر آئے۔ مسٹر بائیڈن نے کہا کہ 1972 میں انہیں ممبئی سے کسی نے ایک خط میں بتایا تھا کہ ہندوستان میں بائیڈن سب نیم کے ساتھ رہتے تھے۔ انھیں بتایا گیا کہ ہندوستان میں بائیڈن سب نیم کے ساتھ پانچ لوگ ہیں۔ اس پر وزیر اعظم مودی نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں ہندوستان سے دستاویز لائے ہیں اور وہ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ ان کے لیے کس طرح سے کام آ سکتے ہیں۔ یہ سن کر مسٹر بائیڈن ہنس پڑے اورمسٹر مودی کے چہرے پر بھی مسکراہٹ کھل گئی۔ مزیدپڑھیں

بنیادپرستی و شدت پسندی علاقائی و عالمی امن وسلامتی کیلئے خطرہ

18 Sep 2021 کو شائع کیا گیا

گذشتہ روز وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ شدت پسندی اوربنیادپرستی عالمی امن کیلئے خطرہ ہے۔انہوںنے کہاکہ اس خطرے سے نمٹنے کیلئے سبھی ممالک کو مشترکہ طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تاجکستان کی راجدھانی دوشنبے میں جاری شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) ممالک کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر … مزیدپڑھیں

کشمیرمیں سیکورٹی صورتحال پوری طرح زیرکنٹرول

04 Sep 2021 کو شائع کیا گیا

گذشتہ روز جموں وکشمیرپولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے کہاکہ افغانستان میں پیداشدہ صورتحال کے حوالے سے کشمیرمیں فکرمندہونے کی کوئی ضرورت نہیں ۔انہوںنے سیدعلی گیلانی کی موت کے بعدکشمیرکی صورتحال کوٹھیک ٹھاک قرار دیتے ہوئے کہاکہ میں امن وامان قائم رکھنے پرعوام کومبارکباد پیش کرتاہوں۔ڈی جی پی دلباغ سنگھ کاکہناتھاکہ جائزہ میٹنگ میں بندشوں اورمواصلاتی بریک ڈاؤن میں نرمی کافیصلہ لیاجائے گا۔ اپنے دورہ بارہمولہ کے دوران یہاں پولیس ودیگرسیکورٹی حکام سے تازہ سیکورٹی صورتحال کاجائزہ لینے کے بعدیہاں نامہ نگاروں کے سوالات کاجواب دیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس دلباغ سنگھ نے کہاکہ سیدعلی گیلانی کی موت واقع کے بعدکشمیرکی صورتحال زیرکنٹرول ہے ۔اُن کاکہناتھاکہ کشمیروادی میں عوام اورسیکورٹی ایجنسیو ںکے باہمی تال سے صورتحال قابومیں ہے ۔دلباغ سنگھ نے کہاکہ امن وامان کی صورتحال قائم رکھنے میں عوام نے حکام کیساتھ مکمل تعاون کیاہے ،جس کے لئے میں کشمیری عوام کومبارکبادپیش کرتاہوں۔جمو ں وکشمیرپولیس کے سربراہ نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ کشمیروادی میں بدھ کورات دیرگئے سے عائدبندشوں اورمواصلاتی بریک ڈاؤن میں نرمی لانے کافیصلہ سیکورٹی جائزہ میٹنگ میں لیاجائے گا۔انہوںنے کہاکہ جائزہ میٹنگ میں سیکورٹی صورتحال کااحاطہ کرنے کے بعدبندشوں اورمواصلاتی خدمات میں نرمی کافیصلہ لیاجائے گا۔ڈی جی پی نے کہاکہ کشمیروادی میں صورتحال پوری طرح سے قابومیں ہے اوربقول موصوف گزشتہ دوروز میں کہیں سے بھی کسی ایک ناخوشگوار واقعے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ وادی میں جمعرات اورجمعہ کے روز صورتحال پُرامن رہی اورکہیں کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا۔دلباغ سنگھ کاکہناتھاکہ عوام نے حکام اورسیکورٹی فورسزکومکمل تعاون دیا،اورہرجگہ امن قائم رکھنے پرمیں عوام کومبارکبادپیش کرتاہوں۔ افغانستان کی بدلتی صورتحال کاکشمیرکے حالات پر کوئی اثرپڑے گا،کاجواب دیتے ہوئے ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے کہاکہ اس حوالے سے فکرمندہونے کی کوئی ضرورت نہیں ۔کشمیرمیں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے ۔ سوال کے جواب میں کہ کچھ کشمیری نوجوانوں کے طالبان میں شامل ہونے کی رپورٹس ہیں ۔ڈائریکٹر جنرل پولیس نے دوٹوک الفاظ میں کہاکہ یہ سراسر غلط ہے اورایسی رپورٹس جعلی ہیں ۔انہوںنے کہاکہ سوشل میڈیا پرایساگمراہ کن پروپگنڈہ پاکستان اورپاکستان نوازایجنٹ کرتے رہتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ کشمیری نوجوان ،واولی بال اوررگبی کھیلنے میں مصروف ہیں۔
مزیدپڑھیں

عالمی سطح پر تیزی کیساتھ
جغرافیائی سیاسی صورتحال بدل رہی ہے

21 Aug 2021 کو شائع کیا گیا

گذشتہ دنوںوزیردفاع راجناتھ سنگھ نے خبردارکیاکہ ہندوستان کی قومی سلامتی کے چیلنج پیچیدہ ہورہے ہیں کیونکہ عالمی سطح پر تیزی کیساتھ جغرافیائی سیاسی صورتحال بدل رہی ہے ۔ اس بدلتی صورتحال اوردرپیش چیلنجوں کامقابلہ کرنے کیلئے ملک میں ایک مضبوط ،قابل اورمکمل طورپر خودانحصار دفاعی صنعت کوفروغ دینے کی ضرورت ہے۔ وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے افغانستان میں طالبان کی اقتدارمیں واپسی اور2دہائیوں کے بعدامریکی فوج کے انخلاءکے بعدپیداشدہ صورتحال کے تناظر میں کہا کہ عالمی سطح پر بدلتی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے پیش نظر ہندوستان کی قومی سلامتی کے چیلنجز بڑھتے جا رہے ہیں اور یہ چیلنج پیچیدہ ہو رہے ہیں ۔ملک میں ایک مضبوط ، قابل اور مکمل طور پر ’خود انحصار‘دفاعی صنعت کی تاکید کی۔ راجناتھ سنگھ نے جمعرات کونئی دہلی میں ڈیفنس انڈیا اسٹارٹ اپ چیلنج5.0 لانچ کرنے کے بعدکہاکہ آج پوری دنیا میں سیکورٹی کا منظر نامہ بہت تیزی سے بدل رہا ہے۔ اس کی وجہ سے ، ہماری قومی سلامتی کےلئے چیلنجز بڑھ رہے ہیں اور پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال میں مسلسل تبدیلیاں آرہی ہیں۔وزیردفاع راجناتھ سنگھ کہا کہ تیزی سے بدلتے ہوئے سیکورٹی چیلنجز پر غور کرتے ہوئے ، بھارت کو مسلح افواج کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے مضبوط ، قابل اور خود انحصاردفاعی صنعت رکھنے پر توجہ دینی چاہیے۔وزیر دفاع نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ ہم نہ صرف مضبوط ، جدید اور اچھی طرح سے لیس افواج بنائیں بلکہ اپنی دفاعی صنعت کو بھی ترقی دیں جو کہ اتنی ہی مضبوط ، قابل اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ مکمل طور پر خود انحصار ہے۔وزیر دفاع نے نجی شعبے پر زور دیا کہ وہ دفاعی مینوفیکچرنگ سیکٹر کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔انہوں نے حکومت کی طرف سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرتے ہوئے کہاکہ میں نجی شعبے سے کہتا ہوں کہ وہ آگے آئیں اور ایک مضبوط اور خود انحصار دفاعی شعبے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔وزیردفاع راجناتھ سنگھ کاکہناتھا کہ ہمارے ملک میں نہ تو ٹیلنٹ یعنی فطری استعداد کی کمی ہے اور نہ ہی ٹیلنٹ کی طلب میں کمی ہے۔ لیکن ایک مشترکہ پلیٹ فارم کی عدم موجودگی میں دونوں مماثل نہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ’آئی ڈی ایکس‘پلیٹ فارم اس خلا کو پر کرنے میں بڑی حدتک کامیاب رہا ہے۔راجناتھ سنگھ نے کہاکہ پچھلے دو سالوں میں ، حکومت نے ہندوستان کو دفاعی مینوفیکچرنگ کا مرکز بنانے کے لیے اصلاحی اقدامات اور اقدامات کی ایک سیریز سے پردہ اٹھایا ہے۔یادرہے پچھلے اگست میں ، راجناتھ سنگھ نے اعلان کیا تھا کہ بھارت2024 تک101 ہتھیاروں اور فوجی پلیٹ فارمز جیسے ٹرانسپورٹ ایئر کرافٹ ، لائٹ کمبیٹ ہیلی کاپٹر ، روایتی آبدوزوں ، کروز میزائلوں اور سونار سسٹم کی درآمد کو روک دے گا۔
مزیدپڑھیں

75ویں یوم آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سیکورٹی کڑے انتظامات

14 Aug 2021 کو شائع کیا گیا

75ویں یوم آزادی کے موقعہ پرآ ج یعنی 15،اگست کوملک بھرمیں تقریبات کااہتمام کیاجارہاہے جبکہ سخت ترین حفاظتی بندوبست اورغیرمعمولی سیکورٹی انتظامات کے بیچ جموں وکشمیرمیں سب سے بڑی سرکاری تقریب شیرکشمیرکرکٹ اسٹیڈیم سری نگرمیں منعقد ہوگی ،اوریہا ں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا،ترنگا لہرانے کیساتھ مہمان خصوصی کی حیثیت سے پولیس وفورسزدستوں،این سی سی کیڈٹس اوراسکولی بچوں وبچیوں کے مارچ پاسٹ پرسلامی بھی لیں گے ۔کرکٹ اسٹیڈیم واقع سونہ وار کے گردونواح میں چاروں اطراف سے زمین تافضاءسخت نگرانی رکھی گئی ہے جبکہ پولیس وفورسزکی جانب سے ڈرونزکے ذریعے اس پورے علاقے کی نگرانی کی جارہی ہے ۔ اُدھرسخت ترین سیکورٹی انتظامات کے بیچ دوسری سب سے بڑی تقریب جموں کے مولانا آزاداسٹیڈیم میں منعقد ہورہی ہے ،جہا ں ایل جی کے مشیر آرآر بھٹناگر مہمان خصوصی ہونے پر ترنگا لہرائیں گے اورمارچ پاسٹ پرسلامی بھی لیں گے ۔ بتایا جاتا ہے کہ پہلی مرتبہ ضلعی ہیڈکوارٹروں پرہونے والی یوم آزادی تقریبات میں ڈی ڈی سی چیئرپرسن مہمان خصوصی ہونگے ،وہی ترنگا بھی لہرائیں گے اور مارچ پاسٹ پر سلامی بھی لیں گے ۔آج یعنی 15،اگست2021کومنائے جانے والی ملک کے75ویں یوم آزادی کے سلسلے میں جموں وکشمیرمیں سب سے بڑی تقریب کے مقام شیرکشمیر کرکٹ اسٹیڈیم کوسنیچر کے روز ہی پولیس وفورسزکے دستوں نے چاروں اطراف سے سخت سیکورٹی حصارمیں لے لیا ۔کرکٹ اسٹیڈیم کے اندر،باہراورگردونواح میں ڈرونز کے ذریعے نگرانی کی جارہی ہے جبکہ پورے شہرسری نگرمیں خفیہ سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے تمام لوگوں کی نقل وحمل اورحرکات وسکنات پرکڑی نظررکھی جارہی ہے ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق شیرکشمیر کرکٹ اسٹیڈیم سونہ وار سری نگرمیں پچھترویں یوم آزادی کی تقریب اتوارکی صبح منعقد ہوگی ،جس میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا بطورمہمان خصوصی کے شرکت کریں گے ۔موصوف لیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے قومی پرچم ترنگا لہرانے کیساتھ ہی یوم آزادی کی تقریب کاآغاز ہوجائیگا ،جسکے بعدجموںوکشمیر پولیس ، بی ایس ایف ،سی آرپی ایف ،ایس ایس بی ،آئی ٹی بی پی اوراین سی سی کیڈیٹس کے چاک وچوبنددستوں کامارچ پاسٹ شروع ہوگا ،اوراس مارچ پاسٹ پر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہاسلامی لیں گے ۔ترنگا لہرانے اورمارچ پاسٹ کے بعدجموں وکشمیرپولیس،فورسزاوردیگرگروپوں کی جانب سے کرتب بازی کامظاہرہ کیاجائیگا جسکے بعدیہاں مختلف گروپوں بشمول اسکولی بچوں وبچیوںکی جانب سے رنگارنگ کلچرل پروگرام پیش کئے جائیں گے ۔تقریب کے آخر میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا،یہاں موجود لوگوں سے خطاب کریں گے ،جسکو دوردرشن سری نگرسے براہ راست ٹیلی کاسٹ اورآل انڈیاریڈیو سری نگرکشمیرسے براہ راست نشرکیا جائیگا۔کرکٹ اسٹیڈیم سری نگرمیں منعقد ہونے والی یوم آزادی تقریب کے دوران منعقد ہونے والے سبھی پروگراموںکی کمنٹری کی جائیگی،اوراس مقصدکیلئے ماہروجانکاربراڈکاسٹروں اورناظموں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں ۔
مزیدپڑھیں

جموں و کشمیر کی معیشت پر مثبت اثر پڑے گا

07 Aug 2021 کو شائع کیا گیا

بہترین معیار کی سہولیات فراہم کرنے کے ایک اور اقدام کے تحت لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعہ کے روزپانتھ چوک سری نگر میں امرناتھ شرائن بورڈ کے آفس معہ یاتری نواس کا سنگ بنیاد رکھا۔جدیدسہولیات سے آراستہ اس دفترمعہ یاتری نواس کے تعمیراتی کام کو18ماہ میں مکمل کیا جائیگاجبکہ یاتری نواس میں بیک وقت … مزیدپڑھیں

سیاسی جماعتیںاسمبلی الیکشن کیلئے تیار رہیں

31 Jul 2021 کو شائع کیا گیا

کانگریس کے سینئر لیڈر او رسابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے پارٹی ورکروں کو اسمبلی الیکشن کیلئے متحرک ہونے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ حدبندی کی مشق مکمل ہونے کے ساتھ ہی جموں وکشمیر میں اسمبلی الیکشن کا بگل بجے گا اس لئے کانگریس کے ورکروں کو آج سے ہی اس کیلئے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ سرکردہ کانگریس لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد جو جموں وکشمیر کے 3روزہ دورے پر جموں پہنچ گئے ہیںنے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ فوری طور یونین ٹریٹری میں اسمبلی الیکشن کے انعقاد سے متعلق آثار نمایاں نہیں ہیں لیکن حد بندی کیلئے سبھی تیاریاں حتمی مراحل میں ہیں۔اس لئے جونہی یہ عمل مکمل ہوگا تو اسمبلی الیکشن کا بگل بھی بج جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کانگریس سمیت سبھی سیاسی پارٹیوں کو الیکشن کیلئے تیار رہنا چاہئے کیونکہ حد بندی کے بعد الیکشن کمیشن آف انڈیا کسی بھی وقت اسمبلی الیکشن کا اعلان کرسکتاہے۔غلام نبی آزاد نے پیگاسس کے معاملے پر مرکزی سرکا ر کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک قابل بحث معاملہ ہے اور پارلیمانی ممبران بھی ایوان کے اندر اس پر بحث کرانے کی مانگ کررہے ہیں۔اسلئے مرکزی سرکا رکو چاہئے کہ وہ معاملے پر بحث کی اجازت دے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔غلام نبی آزاد نے کہا کہ اپنے 3روزہ دورے کے دوران وہ سبھی پارٹیوں کے لوگوں سے ملیں گے اس لئے جو کوئی بھی ملنا چاہتا ہو اس کے ساتھ ملا جائے گا بلکہ مسائل اور مشکلات کے بارے میں بھی سنا جائے گا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ سرکار متعلقہ ریاستوں کے سیلاب متاثرین کی بھر پور امدا د کرے گی اور ان کے ضروریات کو بھی پورا کرے گی۔انہوں نے کشتواڑ میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے دوران ہوئے انسانی اور مالی نقصان پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ سرکار اس معاملے کو اولین ترجیح دیکر متاثرہ لوگوں تک مدد لے کر پہنچے گی۔
مزیدپڑھیں

جموں وکشمیر میں صنعتی یونٹ ،تعلیمی ادارہ یااسپتال کھولنے کے لئے سرکار زمین دےگی/ لیفٹیننٹ گورنر

24 Jul 2021 کو شائع کیا گیا

جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے” کشمیرمیںجمعہ پتھربازی کوقصہ پارینہ“قراردیتے ہوئے کہاہے کہ دفعہ370کی منسوخی کے بعدجموں وکشمیرمیں مثبت تبدیلیاں آئی ہیں ۔منوج سنہا نے آرٹیکل370 کے خاتمے کے بعد کشمیری نوجوانوں کے عسکریت پسندی کی طرف راغب ہونے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ یہ تشخیص غلط ہے۔ ایک وقت … مزیدپڑھیں

پہلے حد بندی ہوگی اور پھر اسمبلی الیکشن

04 Jul 2021 کو شائع کیا گیا

لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے واضح کردیا ہے کہ جموں وکشمیر میں پہلے حد بندی اور اس کے بعد اسمبلی الیکشن ہوگا جبکہ ریاستی درجہ کی بحالی پارلیمنٹ ہائوس میں ملک کے وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے کئے گئے وعدے کے عین مطابق موزون وقت پر ہوگی۔ایل جی نے سبھی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ حد بندی کمیشن کو ملیں اور اپنی آراء سامنے رکھیں۔منوج سنہا نے ان افواہوں کو سختی کے ساتھ مسترد کردیا کہ حد بندی کا مقصد ہندو وزیر اعلیٰ اقتدار میں لانے اور جموں کا دبدبہ بڑھا نا ہے۔انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ پاکستان کے ساتھ سفارتی سطح کی بات چیت جاری ہے اور اس کے حق میں بات کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ سنہا نے ایک ٹیلی ویژن چینل کے ساتھ انٹرویو کے دوران اس بات کا اعتراف کیا کہ جموں وکشمیر میںپہلے حد بندی اور اس کے بعد اسمبلی الیکشن ہوگا جبکہ ریاستی درجے کی بحالی موزون وقت پر ہوگی جس کیلئے ملک کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ کے ایوان میں عوام کے ساتھ وعدہ کیا ہے جبکہ وزیرا عظم نریندر مودی نے بھی 15اگست 2019کی یوم آزادی تقریب پر لعل قلعہ کی فصیل سے عوام کو اس کی یقین دہانی کرائی ہے۔منوج سنہا نے حد بندی کمیشن کوشفاف اور آزادانہ طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا انتخابی کمیشن ایک خودمختار ادارہ ہے جس میں کسی بھی قسم کی کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہوتی ہے۔انہوںنے سبھی سیاسی پارٹیوں سے اپیل کی کہ وہ 6جولائی کو جموں وکشمیر کے دورے پر آرہی حدبندی کمیشن کی ٹیم کے ساتھ ملیں اور اپنی آراء پیش کریں۔ایل جی کے مطابق حد بندی کا عمل بالکل شفاف ہوگا اور عوام اس کا بچشم خود بھی مشاہد ہ کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ جموں وکشمیر میں 2026سے قبل حد بندی الگ سے کرنے کی ضرورت اس کویونین ٹریٹری بنانے کی وجہ سے پڑی کیونکہ اس میں اب آبادی کا اضافہ بھی ہوا ہے ۔ان افواہوں کو سختی کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے کہ حد بندی کا مقصد ہندو وزیر اعلیٰ کو بر سر اقتدار لانا اور کشمیر پر جموں کا دبدبہ قائم کرنا ہے،ایل جی منوج سنہا نے کہا کہ یہ بالکل ہی بے بنیاد اور من گھڑت قیا س آرائیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ہمیشہ اپنا کام آئینی اور قانونی دائرے میں کرتاہے اور جموں وکشمیر میں بھی یہی بالا دستی قائم رہے گی۔اسمبلی الیکشن کا ذکر کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ خود وزیراعظم کی ذاتی دلچسپی بھی ہے کہ جموں وکشمیر میں عوامی حکومت جلد سے جلد تشکیل پائے اور اس سلسلے میں حدبندی کی تکمیل کی دیر ہے۔منوج سنہا نے کہا کہ الیکشن صاف وشفاف اور آزادانہ ہونگے اور اس کیلئے حفاظت کے تمام ضروری اقدامات کئے جائینگے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ یونین ٹریٹری میں حالیہ دنوں کے دوران تشدد کے کچھ واقعات رونماہوئے جبکہ ڈرون حملوں نے بھی چیلنج پیدا کئے ہیں لیکن ا س کے باوجود حفاظتی دستوں کا ہی پلڑا بھاری ہے۔ایل جی نے کہا کہ حالیہ دنوں کے دوران مطلوب ترین کمانڈروں سمیت کئی ملی ٹینٹوں کو مار دیا گیا ہے جبکہ سرحدوں پر بھی صورتحال مکمل طور پر امن ہے۔ایل جی کے مطابق اسمبلی الیکشن بھی ڈی ڈی سی الیکشن کی طرح بے خوف اور آزادانہ ماحول میں انجام پائیں گے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 25برس میں پہلی بار ڈی ڈی سی کے الیکشن کئے گئے اور خون کا ایک قطرہ تک بھی نہیں بہا۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنے کیلئے حکمت عملی ترتیب دی جارہی ہے جبکہ ڈی آر ڈی او نے بھی اس حوالے سے ٹیکنالوجی پر کام کیا ہے۔ایل جی کے مطابق سیکورٹی گرڈ کا آپس میں بہترین تال میل ہے اور اب در اندازی مکمل طور ختم ہوئی ہے جبکہ ملی ٹینسی میں نئی بھرتی پر بھی بڑی حد تک روک لگ گئی ہے۔وزیر اعظم کے ساتھ 24جون کو ہوئی کل جماعتی میٹنگ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ایل جی نے کہا کہ یہ میٹنگ کامیاب رہی اور اس کے بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔
مزیدپڑھیں