خبریں کالم کی خبریں

جموں وکشمیر میں صنعتی یونٹ ،تعلیمی ادارہ یااسپتال کھولنے کے لئے سرکار زمین دےگی/ لیفٹیننٹ گورنر

24 Jul 2021 کو شائع کیا گیا

جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے” کشمیرمیںجمعہ پتھربازی کوقصہ پارینہ“قراردیتے ہوئے کہاہے کہ دفعہ370کی منسوخی کے بعدجموں وکشمیرمیں مثبت تبدیلیاں آئی ہیں ۔منوج سنہا نے آرٹیکل370 کے خاتمے کے بعد کشمیری نوجوانوں کے عسکریت پسندی کی طرف راغب ہونے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ یہ تشخیص غلط ہے۔ ایک وقت … مزیدپڑھیں

پہلے حد بندی ہوگی اور پھر اسمبلی الیکشن

04 Jul 2021 کو شائع کیا گیا

لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے واضح کردیا ہے کہ جموں وکشمیر میں پہلے حد بندی اور اس کے بعد اسمبلی الیکشن ہوگا جبکہ ریاستی درجہ کی بحالی پارلیمنٹ ہائوس میں ملک کے وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے کئے گئے وعدے کے عین مطابق موزون وقت پر ہوگی۔ایل جی نے سبھی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ حد بندی کمیشن کو ملیں اور اپنی آراء سامنے رکھیں۔منوج سنہا نے ان افواہوں کو سختی کے ساتھ مسترد کردیا کہ حد بندی کا مقصد ہندو وزیر اعلیٰ اقتدار میں لانے اور جموں کا دبدبہ بڑھا نا ہے۔انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ پاکستان کے ساتھ سفارتی سطح کی بات چیت جاری ہے اور اس کے حق میں بات کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ سنہا نے ایک ٹیلی ویژن چینل کے ساتھ انٹرویو کے دوران اس بات کا اعتراف کیا کہ جموں وکشمیر میںپہلے حد بندی اور اس کے بعد اسمبلی الیکشن ہوگا جبکہ ریاستی درجے کی بحالی موزون وقت پر ہوگی جس کیلئے ملک کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ کے ایوان میں عوام کے ساتھ وعدہ کیا ہے جبکہ وزیرا عظم نریندر مودی نے بھی 15اگست 2019کی یوم آزادی تقریب پر لعل قلعہ کی فصیل سے عوام کو اس کی یقین دہانی کرائی ہے۔منوج سنہا نے حد بندی کمیشن کوشفاف اور آزادانہ طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا انتخابی کمیشن ایک خودمختار ادارہ ہے جس میں کسی بھی قسم کی کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہوتی ہے۔انہوںنے سبھی سیاسی پارٹیوں سے اپیل کی کہ وہ 6جولائی کو جموں وکشمیر کے دورے پر آرہی حدبندی کمیشن کی ٹیم کے ساتھ ملیں اور اپنی آراء پیش کریں۔ایل جی کے مطابق حد بندی کا عمل بالکل شفاف ہوگا اور عوام اس کا بچشم خود بھی مشاہد ہ کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ جموں وکشمیر میں 2026سے قبل حد بندی الگ سے کرنے کی ضرورت اس کویونین ٹریٹری بنانے کی وجہ سے پڑی کیونکہ اس میں اب آبادی کا اضافہ بھی ہوا ہے ۔ان افواہوں کو سختی کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے کہ حد بندی کا مقصد ہندو وزیر اعلیٰ کو بر سر اقتدار لانا اور کشمیر پر جموں کا دبدبہ قائم کرنا ہے،ایل جی منوج سنہا نے کہا کہ یہ بالکل ہی بے بنیاد اور من گھڑت قیا س آرائیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ہمیشہ اپنا کام آئینی اور قانونی دائرے میں کرتاہے اور جموں وکشمیر میں بھی یہی بالا دستی قائم رہے گی۔اسمبلی الیکشن کا ذکر کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ خود وزیراعظم کی ذاتی دلچسپی بھی ہے کہ جموں وکشمیر میں عوامی حکومت جلد سے جلد تشکیل پائے اور اس سلسلے میں حدبندی کی تکمیل کی دیر ہے۔منوج سنہا نے کہا کہ الیکشن صاف وشفاف اور آزادانہ ہونگے اور اس کیلئے حفاظت کے تمام ضروری اقدامات کئے جائینگے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ یونین ٹریٹری میں حالیہ دنوں کے دوران تشدد کے کچھ واقعات رونماہوئے جبکہ ڈرون حملوں نے بھی چیلنج پیدا کئے ہیں لیکن ا س کے باوجود حفاظتی دستوں کا ہی پلڑا بھاری ہے۔ایل جی نے کہا کہ حالیہ دنوں کے دوران مطلوب ترین کمانڈروں سمیت کئی ملی ٹینٹوں کو مار دیا گیا ہے جبکہ سرحدوں پر بھی صورتحال مکمل طور پر امن ہے۔ایل جی کے مطابق اسمبلی الیکشن بھی ڈی ڈی سی الیکشن کی طرح بے خوف اور آزادانہ ماحول میں انجام پائیں گے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 25برس میں پہلی بار ڈی ڈی سی کے الیکشن کئے گئے اور خون کا ایک قطرہ تک بھی نہیں بہا۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنے کیلئے حکمت عملی ترتیب دی جارہی ہے جبکہ ڈی آر ڈی او نے بھی اس حوالے سے ٹیکنالوجی پر کام کیا ہے۔ایل جی کے مطابق سیکورٹی گرڈ کا آپس میں بہترین تال میل ہے اور اب در اندازی مکمل طور ختم ہوئی ہے جبکہ ملی ٹینسی میں نئی بھرتی پر بھی بڑی حد تک روک لگ گئی ہے۔وزیر اعظم کے ساتھ 24جون کو ہوئی کل جماعتی میٹنگ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ایل جی نے کہا کہ یہ میٹنگ کامیاب رہی اور اس کے بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔
مزیدپڑھیں

جموں وکشمیر کی صورتحال میں نمایاں بہتری

26 Jun 2021 کو شائع کیا گیا

فوج نےکہا ہےکہ جموں وکشمیر کی صورتحال میں نمایاں بہتری دیکھنے کو ملی ہے۔فوج کی 15ویں کورکے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے کہاکہ تشددکے گراف میں 50فیصد کمی آئی ہے تاہم ابھی بھی کشمیرمیں تقریباً200جنگجو سرگرم ہیں ۔ کشمیر میں عوامی اور سول انتظامیہ کے فعال تعاون سے فوج کا کردار کم ہورہا ہے۔بڈکوٹ ہندوارہ میں فوج کے قائم کردہ ایک اسکول میں منعقدہ تقریب کے موقعہ پریہاں موجود میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے فوج کی 15ویں کورکے سربراہ نے کہاکہ کشمیر میں تشدد کے تمام پیرامیٹرز میں 50 فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور استحکام کے ساتھ ہی صورتحال بہت بہتر ہے۔ان دنوں سرسری طور پر پیش آنے والے غیر معمولی واقعات میں ، کچھ مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے افراد غیر مسلح سیکورٹی اہلکاروں کو ہلاک کر رہے ہیں ، اس کا بھی سرحد پار اور وادی میں ہی کنٹرول کیا جاتا ہے اور اس وقت تک صورتحال کو تھوڑا سا بڑھایا جائے گا۔ مجھے یقین ہے کہ کشمیرکے لوگ بے چین ہیں کیونکہ بے گناہ افراد اور سیاسی کارکنوں کو کشمیر میں امن اور ترقی کے عمل میں خلل ڈالنے کے لئے ہلاک کیا جاتا ہے لیکن جس طرح سے سیکورٹی ادارے ملکرکام کررہے ہیں ،مجھے اُمید ہے کہ ایسے واقعات کو روکا جائے۔ سلامتی کے معاملے میں ، صورتحال بہت اچھی ہے اور ہندواڑہ جو کبھی دہشت کاگڑھ تھا ، اب سیکورٹی اداروں اور لوگوں کی مشترکہ کوششوں سے بہت پرامن ہے۔شمالی کشمیر میں غیر ملکی عسکریت پسندوں کی موجودگی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ میں ایک چھوٹا سا پیغام دینا چاہتا ہوں اور ہمارے ہمسایہ ممالک نے پچھلے کچھ سالوں میں عالمی پلیٹ فارم میں یہ دعویٰ کیاہے کہ شورش اور عسکریت پسندی کا سارا عمل مقامی ہے۔ ہمسایہ ملک نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ یہاں کوئی غیر ملکی عسکریت پسند نہیں ہیں لیکن میں وثوق کیساتھ کہتاہوں کہ وادی میں جو بھی عسکریت پسند یہاں موجود ہیں وہ پاکستانی ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے کاکہناتھاکہ ایک ایسا منصوبہ تیار ہے جو کام کر رہا ہے اسی لئے کشمیر یوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ہر وہ نوجوان جس کو تم مرنے کی اجازت دے رہے ہو کیوں کہ تم قابو نہیں پا رہے ہو ،اوریہ مزید بے اعتنائی اور پریشانی کا باعث ہے۔جی او سی15ویں کور نے کہا کہ یہ عوام کے مفاد میں نہیں ہے بلکہ بہت کم لوگوں کی بھلائی میں ہے جو یہاں اس تنازعاتی معیشت کو چلا رہے ہیں اور کم عمر لڑکے مرنے کی وجہ سے کما رہے ہیں اور پاکستان کے ایجنڈے پر چلنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمارے نوجوانوں کو استعمال کیا جارہا ہے اور میں والدین ، برادری کے رہنماوں ، سول سوسائٹیوں سمیت تمام لوگوں سے درخواست کروں گا جن کی حفاظت کے لئے میں بار بار کہتا رہا ہوں۔لیفٹنٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے یہ بھی کہا کہ ہمیں تشدد کے اس چکر کو توڑنا ہے۔ عسکریت پسند کو مارنا راستہ نہیں ہے بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہمارے چھوٹے بچےکونہیں مرناچاہئے۔ غیر ملکی جنگجوؤں کو مرنے دینا چاہئے۔انہوں نے سوالیہ اندازمیں کہاکہ کیوں ہم اپنے بچوں کو کسی غلط چیز کی وجہ سے مرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں

ایران کے صدارتی الیکشن میں سخت گیر امیدوار ابراہیم رئیسی کو برتری

19 Jun 2021 کو شائع کیا گیا

سخت گیر نظریات کے حامل اور اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ امیدوار ابراہیم رئیسی کو صدارتی الیکشن میں برتری حاصل ہوگئی۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے صدارتی الیکشن میں ووٹنگ کا عمل مکمل ہوگیا اور حسب توقع سخت گیر نظریات کے حامل ابراہیم رئیسی کو برتری حاصل ہوگئی۔ انتخابات میں سات امیدوار میدان میں تھے تاہم اصل مقابلہ 4 امیدواروں کے درمیان تھا۔گو ابھی تک سرکاری طور پر کامیاب امیدوار کا اعلان نہیں کیا گیا ہے تاہم ایران کے سبکدوش ہونے والے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ پُرامن الیکشن کے ذریعے نئے صدر کا انتخاب کرلیا گیا ہے میں کامیاب امیدوار کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
حسن روحانی نے نئے صدر کا نام نہیں لیا تاہم انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ کس نے الیکشن میں درکار ووٹ حاصل کرلیے اور عوام نے کس کو آج منتخب کیا ہے۔ اس کے برعکس دیگر دو سخت گیر امیدواروں محسن رضائی اور امیر حسین غازیزادہ ہاشمی نے ابراہیم رئیسی کو نام لیکر مبارکباد دی۔
اسی طرح صدارتی الیکشن میں حصہ لینے والے اصلاح پسند امیدوار عبدالنصر حماتی نے بھی ٹوئٹر پر ابراہیم رئیسی کو نام لیکر کامیابی پر مبارکباد دیی۔ عبدلانصر حماتی مرکزی بینک کے سابق گورنر بھی تھے۔
60 سالہ ابراہیم رئیسی انقلاب ایران کے فوری بعد سے ہی اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ صرف 20 سال کی عمر میں دو صوبوں کے پراسیکیوٹر رہے اور ترقی کرتے ہوئے دارالحکومت کے نائب پراسیکیوٹر اور پھر چیف پراسیکیوٹر مقرر ہوئے۔بعد ازاں دس سال تک نائب عدلیہ کے سربراہ رہے اور 2019 سے اعلیٰ عدلیہ کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ حالیہ صدارتی الیکشن کی مہم کے دوران بھی ابراہیم رئیسی کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل رہی۔انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اپوزیشن جماعتیں ابراہیم رئیسی پر سیاسی قیدیوں کو پھانسی کی سزا دینے کا الزام لگاتی ہیں اور اس الزام کے تحت ہی امریکا نے بھی ابراہیم رئیسی پر پابندی عائد کی تھی۔ مزیدپڑھیں

سعودی عرب میں خواتین کو تنہا اور آزاد زندگی گزارنے کی اجازت

12 Jun 2021 کو شائع کیا گیا

سعودی عرب میں پہلی بار خواتین کو اپنے مرد سرپرست یعنی والد، بھائی یا شوہر کے بغیر تنہا رہنے اور آزاد زندگی گزارنے کی اجازت مل گئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب میں ہونے والی نئی قانون سازی میں خواتین کو لازمی طور پر اپنے مرد سرپرست کے ساتھ رہنے کے قانون کے آرٹیکل 169 سے پیراگراف (ب) حذف کردیا گیا جس کے بعد مملکت میں خواتین کو والد، بھائی یا شوہر کے ساتھ رہنے کے بجائے تنہا رہنے کا حق حاصل ہوگیا۔قانون میں اس ترمیم کے بعد سعودی عرب میں خواتین کو اب طلاق یا کسی جرم میں سزا مکمل کرنے کے بعد ان کے مرد سرپرستوں میں سے کسی ایک کے حوالے کرنے کے بجائے تنہا رہنے کی اجازت حاصل ہوگئی۔ اسی طرح خواتین کو اب کئی معاملات میں مرد سرپرستوں کی اجازت لینا بھی ضروری نہیں ہوگا۔
نئے قانون کے متن میں خاتون کے تنہا رہنے پر خاندان کے مرد سربراہ کی جانب سے مقدمہ کے انداراج کو ممنوع قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بالغ عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کہاں رہنا چاہے۔ علاوہ ازیں سرپرست، آزاد اور تنہا رہنے والی خاتون سے متعلق صرف اسی وقت شکایت درج کرا سکتے ہیں جب وہ خاتون کسی جرم کی مرتکب ہوئی ہوں اور جرم کا ثبوت بھی موجود ہو۔
سعودی عرب میں خواتین کے سرپرست کے حوالے سے قانون کے بڑھتے ہوئے ناجائز استعمال پر کافی عرصے سے غور و خوص جاری تھا تاہم فروری 2019 میں 18 سالہ لڑکی کے چھپتے چھپاتے تھائی لینڈ پہنچنے اور والدین پر زبردستی فیصلے مسلط کرنے کے الزامات پر اس معاملے کو عالمی توجہ ملی تھی۔ولی عہد محمد بن سلمان نے منصب سنبھالتے ہی کئی تاریخی اور غیر معمولی نوعیت کے اقدامات کیئے ہیں جن میں وژن 2023 کے تحت خواتین کو خود مختار بنانا بھی شامل ہے جس کے بعد سے خواتین کو گاڑی چلانے، ملازمت کرنے، کھیل میں حصہ لینا اور بیرون ملک کے اکیلے سفر کی اجازت ملی ہے۔واضح رہے کہ سعودی عرب میں خاتون کو اپنے کسی مرد رشتہ دار کے ساتھ رہنا لازمی تھا۔ اسی طرح باپ یا شوہر، چچا، بھائی یہاں تک کہ بیٹا کی اجازت کے بغیر شادی، پاسپورٹ کے حصول یا بیرون ملک سفر کرنا ناممکن تھا۔ مزیدپڑھیں

بھار ت ہر شعبے میں خود کفیل بننے کیلئے پر عزم

05 Jun 2021 کو شائع کیا گیا

وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھار ت ہر شعبے میں خود کفیل بننے کیلئے پر عزم ہے ۔انہوں نے کہا کہ کووڈ ۔19عالمی وبا نے نشانے کے حصول کی رفتار سست کردی ہے لیکن یہ ہمارا عزم ہے کہ ہم مختلف شعبوں میں مضبوطی حاصل کریں گے اور خودکفیل بنیں گے۔ کونسل آف … مزیدپڑھیں

لیفٹیننٹ گورنر نے 500 بستروں پر مشتمل کووڈ ہسپتال کاافتتاح کیا
جموں کشمیر کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کیلئے وزیر اعظم کا کیا شکریہ

29 May 2021 کو شائع کیا گیا

کووڈ 19 وبائی مرض سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کیلئے صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے کو بڑھانے کے ایک اور اقدام میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن ( ڈی آر ڈی او ) کے 500 بستروں پر مشتمل کووڈ ہسپتال کا افتتاح کیا اور اس سہولت کو جموں کے عوام کے نام وقف کیا۔ بھگوتی نگر میں قائم اس 500 بستروں والے ہسپتال میں 125 انٹیسو کئیر یونٹ ( آئی سی یو ) بیڈ ہوں گے جبکہ دیگر بیڈ 24 گھنٹے آکسیجن والے کووڈ بستروں پر مشتمل ہے ۔ ہسپتال وینٹی لیٹرز ، مانیٹرس سے آراستہ ہو گا جس میں فارمیسی ، تشخیصی سہولت ، ایکس رے اور سی ٹی سکین کی سہولت بھی دستیاب ہے ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ’’ میں وزیر اعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا جموں و کشمیر کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے پر ان کا مشکور ہوں ‘‘۔ جاری وبائی اور آئندہ چیلنجوں سے نمٹنے پر بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ڈی آر ڈی او ہسپتال موثر طریقہ کار کے ساتھ کووڈ وبائی بیماری کے خلاف جنگ میں حکومت کی کوششوں میں اضافہ کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا ’’ مجھے چئیر مین ڈی آر ڈی او ڈاکٹر جی ستیش ریڈی اور ان کی پوری ٹیم کو مبارکباد اور ان کی تعریف کرنی ہو گی جو ریکارڈ وقت میں اس سہولیات سے متعلق طبی سہولیات کی تعمیر کیلئے 24 گھنٹے کام کر رہے ہیں‘‘۔ جموں اور ڈویژن کے دیگر علاقوں میں ہمارا صحت کا بنیادی ڈھانچہ صحت کی دیکھ ریکھ کی خدمات کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ توقع ہے کہ یہ ہسپتال بھی تین چار دن میں مکمل طور اوپریشنل ہو جائے گا ۔
ڈریں اثنا لیفٹیننٹ گورنر نے مریضوں کے بلاک ، آئی سی یو وارڈ ، جنرل وارڈ ، فارمیسی سمیت نئے قائم ہونے والے ہسپتال کے مختلف حصوں کا دورہ کیا جس میں انہوں نے مریضوں کو دستیاب سہولیات کے بارے میں دریافت کیا ۔ انہوں نے صحت کے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ مریضوں کی دیکھ ریکھ کے انتظام کیلئے ہسپتال کے حوالے سے متعلق پالیسی کی سختی سے پابندی کو یقینی بنایا جائے ۔ اِس موقعہ پر ممبر پارلیمنٹ جگل کشور شرما ، مئیر جموں میونسپل کارپوریشن چندر موہن گپتا ،ڈی ڈی سی چیئر پرسن جموں بھارت بھوشن ،لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بھٹناگر، چیف سیکرٹری بی وی آر سبھرامنیم ، فائنانشل کمشنر محکمہ صحت و طبی تعلیم اَتل ڈولو ، لیفٹیننٹ گورنر کے پرنسپل سیکرٹری نتیشور کمار ، ڈویژنل کمشنر جموں ڈاکٹر راگھو لنگر ، اعلیٰ سول و پولیس افسران کے علاوہ ڈی آر ڈی او کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے ۔
ادھرلیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا کی صدارت میں اِنتظامی کونسل کی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں کووِڈ متاثرین کے لئے خصوصی اِمدادی سکیم ( ایس اے ایس سی ایم /سکشم) کے مالی اِمداد کی منظور ی دی گئی۔اِس سکیم کا مقصد اُن خاندانوں کی رہائش کو یقینی بنانا ہے جنہوںنے اَپنا واحد کمانے والا فرد کھو دیا ہے۔
نئی سکیم سکھشم کے تحت فوت شدہ کی شریک حیات اور متاثرہ خاندانوں میں سے ایک زندہ بچ جانے والے ممبر کو ایک ہزار روپے کی خصوصی ماہانہ پنشن ملے گی۔ یہ ایک ہزار روپے کی رقم براہِ راستہ بینک ٹرانسفر ( ڈی بی ٹی ) کی جائے گی بشرطیکہ وہ دوسری پنشن سکیموںسے مستثنیٰ ہو۔
مزید برآں یہ سکیم ان بچوں کو خصوصی سکالر شپ بھی فراہم کرے گی جو اَپنے کمائے ہوئے والدین / بہن بھائیوں / سرپرستوں کو کووِڈ سے کھودیتے ہیں ۔ خصوصی سکالر شپ سالانہ بالترتیب0 20,00 روپے اور 40,000 روپے کی رقم کے حساب سے 12 ویںجماعت تک تعلیم حاصل کرنے والے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو بذریعہ ڈی بی ٹی دی جائے گی ۔
اِنتظامی کونسل نے کووِڈ متاثرین کے اہل خانہ کے لئے محکمہ سوشل ویلفیئر میں ایک خصوصی سیل اور مختلف سرکاری سکیموں کے تحت فوائد میں توسیع کی سہولیت فراہم کرنے کے لئے بھی خصوصی سیل بنانے کی منظوری دی ۔ مذکورہ سیل میں ڈائریکٹر جنرل وومن اینڈ چائیلڈ ڈیولپمنٹ ، ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر کشمیر / جموں ، مشن ڈائریکٹر آئی سی پی ایس اور محکمہ خزانہ کے نمائندے شامل ہوں گے۔
دریں اثنالیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی صدارت میں انتظامی کونسل ( اے سی ) کی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں ہائی کورٹ کے کمپیوٹر سیکشن کیلئے 19 آسامیاں تشکیل دینے کیلئے محکمہ قانون ، انصاف اور پارلیمانی امور کی تجویز کو منظوری دی گئی ۔اِنتظامی کونسل نے اسسٹنٹ رجسٹرار کی 3 ، اسسٹنٹ رجسٹرار II کی دو آسامیاں ، سیکشن آفیسر کی 4 آسامیاں ، ڈی ای او کی 4 آسامیاں اور کمپیوٹر اوپریٹر کی 6 آسامیاں بنانے کی منظوری دی ۔ توقع ہے کہ ہائی کورٹ میں تکنیکی انسانی وسائل کو مستحکم کرنے سے انصاف انتظامیہ میں تکنیکی مداخلت کو فروغ ملے گا ۔
مزیدپڑھیں

مداحوں سے کورونا ویکسینیشن کرانے کی اپیل

17 May 2021 کو شائع کیا گیا

بالی ووڈ کے سلطان سلمان خان نے اپنے مداحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کورونا سے بچاؤ کی ویکسینیشن ضرور کرائیں۔
اپنے پیغام میں سلمان خان نے کہا کہ وہ کوئی ماہر نہیں لیکن ان کا خیال ہے کہ جب تک کسی بھی انسان میں کورونا کا وائرس موجود ہے، موجودہ صورت حال برقرار رہے گی، اسے ختم ہونا چاہیے اور یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب ہم ویکسینیشن کرائیں گے۔ ان کے والدین نے ویکسینیشن کا تمام عمل مکمل کرلیا ہے اور وہ خود بھی 10 روز بعد ویکسین کی اگلی خوراک لینے جائیں گے۔
سلمان خان نے کہا کہ وہ ویکسینیشن مہم شروع کرنے کا ارادہ کررہے ہیں اور اگر انہیں یہ ویکسین مل گئی تو وہ لوگوں کی ضرور مدد کریں گے۔واضح رہے کہ کورونا وبا کے باوجود سلمان خان نے حسب روایت ہر سال کی طرح اس سال بھی عید الفطر پر اپنی فلم ریلیز کی ہے۔ ان کی فلم ’رادھے؛ یور موسٹ وانٹڈ بھائی‘ ریلیز ہوئی پے۔
مزیدپڑھیں

اصل مقصد سمجھنا ضروری

01 May 2021 کو شائع کیا گیا

بہت خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو ماہِ رمضان کے روزے رکھ کر اللہ کو خوش کرتے ہیں ۔ اسلام نے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے جو عبادات فرض کی ہیں ان میں ماہِ رمضان کے روزوں کو بڑی اہمیت ہے ۔ اللہ نے روزوں سے متعلق فرمایا ہے کہ روزے میرے لئے … مزیدپڑھیں

لیفٹیننٹ گورنر کا 18 سے45 سال کے عمر کے تمام لوگوں کیلئے مفت کووِڈ۔19 ویکسی نیشن دینے کا اعلان
یوٹی میں کووِڈ۔19 ویکسینوں کی دستیابی کو یقینی بنانے کیلئے ویکسین لاجسٹک ٹیم تشکیل دی جائے گی

24 Apr 2021 کو شائع کیا گیا

لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اعلان کیا ہے کہ یوٹی حکومت مرحلہ سوم ویکسی نیشن مہم کے دوران 18 سے 45 سال کی عمر کے تمام افراد کے لئے مفت کووِڈ۔ 19 ویکسی نیشن فراہم کرے گی۔ یہ فیصلہ راج بھون میں لیفٹیننٹ گورنر کی زیر صدارت ایک اعلی سطحی میٹنگ کے دوران لیا گیا جس میں چیف سیکرٹری بی وی آر سبھرامنیم ، فائنانشل کمشنر خزانہ ارون کمار مہتا،فائنانشل کمشنر صحت و طبی تعلیم اَتل ڈولو،لیفٹیننٹ گورنر کے پرنسپل سیکرٹری نتیشور کمار، سیکرٹری ڈی ایم آر آر اینڈ آر سمرن دیپ سنگھ موجود تھے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’جموں و کشمیر میں ہم 18 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو کورونا وائرس کی ویکسین مفت فراہم کرنے کے لئے پُرعزم ہیں۔ حکومت ویکسین کے حصول کے تمام اخراجات برداشت کرے گی۔لیفٹیننٹ گورنر نے وزیر اعظم نریندر مودی کا ’’آزاد کاری‘‘ ویکسین پالیسی کا اعلان کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا ، جس سے 18 سال سے زیادہ عمر کے تمام بالغ یکم مئی سے ٹیکے لگانے کے اہل ہوں گے۔ اس اعلان کے مطابق جموں و کشمیر حکومت ویکسی نیشن مہم کے اگلے مرحلے کا آغاز جلد ہی کرے گی جہاں 18سے45 سال کی عمر والے افراد کو ویکسین فراہم کی جائے گی۔ خصوصاً ویکسی نیشن کی جاری مہم میں 45 سال سے زیادہ عمر کے تمام شہریوں کو ٹیکے لگائے جارہے ہیں۔میٹنگ کے دوران لیفٹیننٹ گورنر نے متعلقہ افسران پر آنے والی ویکسی نیشن مہم کے لئے ایک جامع منصوبہ تیار کرنے پر زور دیا۔ یو ٹی میں کوویڈ 19 ویکسینوں کی پریشانی اور خریداری کو یقینی بنانے کیلئے ویکسین لاجسٹکس ٹیم تشکیل دینے کا بھی فیصلہ لیاگیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے ویکسین ، آکسیجن کی فراہمی ، بستر کی دستیابی اور دیگر ہنگامی خدمات کی دستیابی سے متعلق بھی ایک تفصیلی رپورٹ طلب کی ۔ اُنہوں نے اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ کووِڈ کی وجہ سے پیدا شدہ صورتحال کے بارے میں حساس رہیںاور اس کے خاتمے اور اس پر قابو پانے کے لئے مناسب اقدامات کریں۔ دریں اثنامعامات میں اضافے کے پیش نظر میٹنگ میں فیصلہ لیا کہ24؍اپریل(سنیچروار) شام 8بجے سے 26؍ اپریل ( سوموار) 6بجے تک یونین ٹریٹری میں مکمل طور پر ’’ کورونا کرفیو‘‘ نافذ ہوگا۔ تمام بازار اور تجارتی ادارے بند رہیں گے۔ تاہم ضروری اور ہنگامی خدمات کی اِجازت ہوگی۔
ادھرجموں کشمیر میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کی شدت کے بیچ انتظامیہ نے 24اسپتالوں کو کوویڈ کیلئے مختص رکھا ۔ ادھر جموںکشمیر سرکار کا کہنا ہے کہ 1705بیڈوں کو اسپتالوںمیں کورونا مریضوں کیلئے دستیاب رکھا گیا ہے ۔کورونا وائر س کے کیسوں میں آئے روز اضافہ کے بیچ جموں کشمیر سرکار نے 23اسپتالوں کو کوویڈ کیلئے مختص رکھا ہے جن میں سے 15کشمیر جبکہ 8جموں میں ہے ۔ اس ضمن میں سرکار کی جانب سے جاری کردہ حکمنامہ کے مطابق کوویڈ کیسوں میں اضافہ کے پیش نظر 24اسپتالوں جن میں مریضوں کیلئے بہترین سہولیات دستیاب ہے کو کورونا وائرس کے مریضوں کیلئے مختص رکھا گیا ہے ۔ اس ضمن میں ڈپٹی ڈائریکٹر (پلاننگ ) محکمہ ہیلتھ و میڈیکل ایجوکیشن کی جانب سے جاری کردہ حکمنامہ کے مطابق 24جمو ں کشمیر کے اسپتالوں جن میں مریضوں کیلئے تمام ترسہولیات اور انتظامات موجود ہے کو کوویڈ مریضوں کیلئے رکھا جائے گا ۔ ان اسپتالوں میں جموں صوبے میں گاندھی نگر اسپتال ، سی ڈی اسپتال ، ایم سی ایچ کمپلکس گاندھی نگر ، سی ایچ سی رام گڑھ، اولڈ اسپتال کشتواڑ، ایس ڈی ایچ نگری پرول ، سی ایچ سی چننانی ، اور اے ایچ گگوال سانبہ جبکہ کشمیر صوبے میں سی ڈی اسپتال سرینگر ، این ٹی پی ایچ سی نئی بلڈنگ پریس آباد بڈگام ، ایم سی ایچ کولگام ، این ٹی پی ایچ سی پٹھہ کوٹ بڈگام ، پی ایچ سی چھانہ پورہ بڈگام ، این ٹی ایچ پی سی بانڈی پورہ ، سی ایچ سی داور، طبیہ کالج شیوت بانڈی پورہ، سی ایچ سی حاجن ، آر می اسپتال جیکالائی رنگریٹ ، جی ایل این ایم اسپتال ، کشمیر نرسنگ ہوم ، ایس ڈی ایچ سوپور ، ٹراما اسپتال بجبہاڑہ اور این ٹی پی ایچ سی اکھورہ مٹن شامل ہے ۔ ادھر جموں کشمیر سرکار کے مطابق جموں کشمیر کے اسپتالوں میں 1705بیڈس کو کورونا متاثرہ مریضوں کیلئے رکھا گیا ہے ۔ جن میں سے 1194کشمیر جبکہ 511جموں کے اسپتالوںمیںموجود ہے ۔ ڈپٹی ڈائر یکٹر پلاننگ ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کے مطانق گاندھی نگر اسپتال جموں میں 90بیڈ وں جبکہ سی ڈی اسپتال جموں میں 110بیڈس کو کورونا وائرس مریضوں کیلئے مختص رکھا گیا ہے ، ساتھ ہی ایم سی ایچ کمپلکس گاندھی نگر اسپتال جموں میں98سی ایچ سی رام گڑھ میں 25، اولڈ اسپتال کشواڑ میں70،اور کل ملا کر جموں کشمیر میں 511بیڈس جبکہ اسی طرح سے کشمیرصوبے میں 1194بیڈس کو کورونا متاثرہ مریضوں کیلئے مختص رکھا گیا ہے ۔ جن میں سے 104بیڈس کو سی ڈی اسپتال سرینگر ، 150کو جی ایل این ایم ، 50کو کشمیر نرسنگ ہوم ،50کو ایس ڈی ایچ سوپور ، 110کو ٹراما اسپتال بجبہاڑہ ، 50کو این ٹی پی ایچ سی اکھورہ مٹن ، 60کو ایم سی ایچ کولگام ، 40کو این ٹی پی ایچ سی پٹھ کوٹ بڈگام ، کے علاوہ 100کو این ٹی پی ایچ سی بانڈی پورہ کے علاوہ دیگر اسپتالوں میں بھی بیڈس کو کورونا مریضوں کیلئے مختص رکھا گیا ہے ۔

مزیدپڑھیں