خبریں کالم کی خبریں

وزیر اعظم کے ذہن میں بہت سارے منصوبے ہیں
جموں کشمیر کے نوجوانوںمیں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں/کرن رججو
مرکزی سرکارجموں وکشمیرمیں کھیل سرگرمیوںکوفروغ دینے کیلئے پُرخلوص/منوج سنہا

11 Apr 2021 کو شائع کیا گیا

کھیل کود کے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے سنیچر کے روزکہا ہےکہ جموں و کشمیر کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی کے ذہن میں بہت سارے منصوبے ہیںاورآنے والے وقت میں ان تمام منصوبوں کوایک ایک کرکے عملی جامہ پہنایاجائیگا۔اس دوران جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہانے کہاکہ 513کروڑ روپے مالیت کاسپورٹس بجٹ رکھ کرمرکزی … مزیدپڑھیں

چین اورپاکستان کیساتھ حالیہ امن معاہدوں کی عمل آوری کامعاملہ
26تا30اپریل فوجی کمانڈروں کی اہم کانفرنس

05 Apr 2021 کو شائع کیا گیا

جموں وکشمیرکی اندرونی وسرحدی صورتحال نیز چین وپاکستان کیساتھ طے شدہ امن معاہدوں کی عمل آوری کاجائزہ لینے کیلئے رواں ماہ کے آخری ہفتے میں فوج کے اعلیٰ ترین کمانڈروں کی ایک5روزہ کانفرنس منعقد ہورہی ہے ۔ایک میڈیارپورٹ میں ذرائع کاحوالہ دیتے ہوئے لکھاگیا ہے کہ مشرقی لداخ سے ہندوچین افواج کی دستبرداری اورواپسی نیز … مزیدپڑھیں

عوامی مشکلات میں اضافہ

28 Mar 2021 کو شائع کیا گیا

اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے موجودہ جیالوجی ومائننگ پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ دوہرایا ہے جس کی وجہ سے لاکھوں کنبوں کا روزگار متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر میںنجی وسرکاری ترقیاتی کام رُکے پڑے ہیں۔ اپنی پارٹی کی طرف سے جموں وکشمیر میں شروع کئے گئے احتجاجی پروگر ام سے متعلق … مزیدپڑھیں

نیشنل کانفرنس کو کمزور نہ کیا گیا ہوتا تو 5اگست2019ممکن نہیں ہوپاتا

20 Mar 2021 کو شائع کیا گیا

جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ مضبوط نیشنل کانفرنس کے سائے تلے 5اگست2019کے فیصلے ممکن نہیں ہوپاتے،نیشنل کانفرنس کی کمزوری یہاں کے عوام کی کمزوری بن جاتی ہے ،یہ حقیقت ہے اور اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے کہ اگر گذشتہ30سال کے دوران نیشنل کانفرنس کو … مزیدپڑھیں

16مارچ سے موسم میں بہتری کی اُمید
14اور15مارچ کومزید بارشوں کا امکان

13 Mar 2021 کو شائع کیا گیا

وادی میںمسلسل 4دنوں تک برف وباراں کاسلسلہ جاری رہنے کے بعدسنیچر کے روز موسم مجموعی طورپرخشک رہا۔تاہم گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران گلمرگ ،پہلگام اورکپوارہ میں ہلکی برف باری اوربارشیں ہوئیں جبکہ سری نگر، قاضی گنڈ،کوکرناگگ اوردیگرکچھ علاقوں میں بھی دوران شب ہلکی بارشیں ہوئیں۔موسلادار بارشوں سے دریائے جہلم اوراسکے معاون ندی نالوں میں پانی … مزیدپڑھیں

2022کے وسط تک اسمبلی انتخابات کاامکان نہیں
حدبندی کمیشن کے معیادکار میں ایک سال کی توسیع

06 Mar 2021 کو شائع کیا گیا

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کاانعقاد طویل عرصہ کیلئے کھٹائی میں پڑگیاہے،کیونکہ مرکزی حکومت نے اسمبلی حلقوں کاسرنوتعین کرنے کیلئے ایک سال قبل تشکیل کردہ حدبندی کمیشن کے معیاد کار میں ایک سال کی توسیع کردی ہے ۔خیال رہے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہانے گزشتہ دنوںیہ واضح کردیاتھاکہ حدبندی کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعدمرکزی الیکشن کمیشن جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کرانے کے بارے میں حتمی فیصلہ لے گا۔ مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر، آسام، منی پور، ناگالینڈ اور اروناچل پردیش کے انتخابی حلقوں کی دوبارہ حدبندی کےلئے گذشتہ سال مارچ میں قائم کردہ Delimitation- Commissionیعنی حدبندی کمیشن کو اپنا کام مکمل کرنے کےلئے توسیع مل گئی ہے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کی میعاد میں ایک سال کی توسیع کی گئی ہے اور اب یہ پینل صرف جموں و کشمیر کی حد بندی پر غور کرے گا۔اس پینل کو چار شمال مشرقی ریاستوں کے لوک سبھا اور اسمبلی حلقوں کی حدبندی اور جموں و کشمیر میں اسمبلی نشستوں کی تعداد بڑھانے کا کام سونپا گیا ہے۔مرکز کی جانب سے جاری کی گئی نوٹیفکیشن میں لکھا گیا ہے کہ Delimitation- Commissionایکٹ2002 کی دفعہ 3 کے ذریعے دئیے گئے اختیارات کا استعمال کر کے مرکزی حکومت آسام، اروناچل پردیش، منی پور اور ناگالینڈ کو کمیشن سے ہذف (نکال) کر رہی ہے۔جس کا مطلب اب یہ کمیشن صرف جموں و کشمیر کی حدبندی پر توجہ مرکوز کرے گا۔
گزشتہ سال لوک سبھا اسپیکر نے15 رکن پارلیمان کو حد بندی کمیشن کا بطور ممبر نامزد کیا تھا۔ممبران میں مرکزی وزراءکرن رجیجو اور ڈاکٹرجتیندر سنگھ شامل ہیں، جو انتخابی حلقوں کو دوبارہ بنانے یعنی اسمبلی حلقوں کی سرنوحدبندی میں مدد کریں گے۔رکن پارلیمان اور ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیاں، جس کےلئے کمیشن تشکیل دیا گیا ہے، پینل کو اس کے کام میں مدد کے لئے بطور ساتھی ممبر بنائے جاتے ہیں۔جموں و کشمیر میں فی الحال کوئی قانون ساز اسمبلی موجود نہیں ہے۔مرکزی حکومت نے 6 مارچ2020 کو سپریم کورٹ کے سابق جج رنجنا پرکاش دیسائی کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا تھا۔الیکشن کمشنر سشیل چندر اور جموں و کشمیر کے ریاستی الیکشن کمشنر اور دیگر چار ریاستوں کے الیکشن کمشنر اس کے سابقہ ممبر تھے۔اب ا لیکشن کمشنر سشیل چندر کے علاوہ، صرف جموں و کشمیر کے ریاستی الیکشن کمشنر ہی اس کے ممبر ہیں۔جموں و کشمیر میں پارلیمانی اور اسمبلی انتخابی حلقوں کو ازسر نو شکل دینے کے قائم حدبندی کمیشن کو ایک سال کی توسیع مل گئی ہے تو اس اقدام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مرکزی علاقہ میں اسمبلی انتخابات جلد ہی نہیں منعقد ہوں گے۔سیاسی مبصرین کامانناہے کہ حدبندی کمیشن کے معیادکارمیں ایک سال کی توسیع کاصاف مطلب یہ ہے کہ جموں وکشمیر میں اگلے سال کم سے کم مارچ کے مہینے تک اسمبلی انتخابات نہیں ہونگے ۔
مبصرین کہتے ہیں کہ اب مذکورہ کمیشن کی معیاد چونکہ مارچ2022تک بڑھادی گئی ہے تویہ کمیشن اپنی رپورٹ اپریل2022میں پیش کرسکتاہے اوراسکے بعدہی جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کرانے کاکوئی فیصلہ لیکر شیڈول جاری کیاجائے گا۔سیاسی مبصرین کایہ بھی مانناہے کہ اگر حدبندی کمیشن اپنی رپورٹ اپریل2022میں پیش کرے گا تواس رپورٹ پرممکنہ عذرات لینے اورپھراسکومرکزی سرکارکی جانب سے منظوریملنے کے بعدہی قومی الیکشن کمیشن جموں وکشمیرمیں اسمبلی انتخابات کرانے کاکوئی فیصلہ لے سکتاہے ،یعنی کل ملاکر جموں وکشمیر میں آئندہ کم سے کم 15مہینوں تک اسمبلی انتخابات کرائے جانے کے امکانات معدوم ہوئے ہیں۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک گزٹ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج رانجنا پرکاش دیسائی کی سربراہی میں اکتوبر2019 کو وجود میں آنے والے حدبندی کمیشن کو اپنے کام کو مکمل کرنے کے لئے مزید ایک سال مل جائے گا۔ یہ پینل یاحدبندی کمیشن جموں و کشمیر اور چار شمال مشرقی ریاستوں آسام ، منی پور ، اروناچل پردیش اور ناگالینڈ کے انتخابی حلقوں کی دوبارہ حدبندی کے لئے تشکیل دیا گیا تھا۔ تاہم ، ایک سال کی توسیع صرف جموں و کشمیر کے لئے ہے۔
خیال رہے اگست2019 میں پارلیمنٹ نے جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ منظور کرنے سے پہلے ، جموں و کشمیر اسمبلی کی موثر طاقت87 تھی ، جس میں لداخ کی4 نشستیں شامل تھیں ، جو اب ایک علیحدہ مرکزی زیرانتظام علاقہ یایونین ٹریٹری ہے۔ جموں وکشمیر اسمبلی کی طاقت اب107 ہے جس میں 24نشستیں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کیلئے مخصوص رکھی گئی ہیں۔غورطلب ہے کہ جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کے سیکشن 60 کے مطابق ،سابق ریاست جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں اسمبلی حلقوں یا نشستوں کی تعداد 107 سے بڑھا کر114 کردی جائے گی۔جس میں جموں وکشمیر میں اسمبلی حلقوں کی تعداد83سے بڑھ کر90ہوجائیگی جبکہ پاکستانی زیرانتظام کشمیر کیلئے24نشستیں برقراررہیں گی ۔مرکزی علاقہ جموں و کشمیرمیںاسمبلی انتخابات حد بندی کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہی ہوں گے۔
ادھرحدبندی کمیشن کی کارروائی ، جس میں سابق ریاست جموں و کشمیر کے سابق ممبران کی حیثیت سے5 ممبران پارلیمنٹ ہیں، کا نیشنل کانفرنس نے بائیکاٹ کیا ہے جس کے پینل میں3 نمائندے ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے ممبران یعنی تین رکن پارلیمان نے خود کو حد بندی کمیشن سے الگ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پارٹی نے جموں وکشمیر تنظیم نو ایکٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے اور معاملہ زیر التواءہے۔کمیشن کی چیئرپرسن کو لکھے گئے خط میں ، جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی اور تجربہ کار سیاستدان فاروق عبد اللہ سمیت این سی کے 3 ممبران پارلیمنٹ نے کہا تھاکہ ہمارے خیال میں ، جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ ، 2019واضح طور پر غیر آئینی ہے اور اس پر عمل درآمد کیا گیا ہے۔ ہندوستانی آئین کے مینڈیٹ اور روح کی پامالی اور خلاف ورزی اور اس لئے اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔این سی ارکان پارلیمنٹ بشمول ڈاکٹرفاروق ،حسنین مسعودی اور محمد اکبر لون کاخط میں کہناتھاکہ ہم نے جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ2019 کے اختیارات کے استعمال کے آئینی جواز کو چیلنج کیا ہے ، جس کے تحت زیربحث اجلاس منعقد ہونے کی تجویز ہے۔
مزیدپڑھیں

کانگریس تمام مذاہب ، لوگوں ، ذاتوں کا یکساں طور پر احترام کرتی ہے

27 Feb 2021 کو شائع کیا گیا

بھاجپا میں شمولیت کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے کہا ہےکہ ”اگر مجھے بی جے میں جانا ہوتا تو میں کب کا چلا گیا ہوتا ۔ اگر چہ راجیہ سبھا میں اپنی مدت پوری کی لیکن سیاست سے کنارہ کش نہیں ہوا ہوں۔ انہوںنے کہاکہ میری خواہش ہے کہ کانگریس پارٹی کو زمینی سطح پر مضبوط کیا جائے ۔ کانگریس اس بات میں یقین رکھتی ہے کہ سبھی مذاہب کے ماننے والوں کا احترام کیا جائے ۔جموں میں تقریب پر تقریر کرتے ہوئے راجیہ سبھا کے سابق لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے کہاکہ میری خواہش ہے کہ کانگریس کو زمینی سطح پر مضبوط کیا جائے۔ چونکہ اس وقت پارٹی کو مختلف سطحوں پر چیلنجوں کا سامنا ہے جس سے نمٹنے کی خاطر سبھی کارکنوں اور لیڈران کو زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کانگریس پارٹی سبھی مذہب کے ماننے والوں کا احترام کرتی ہیں۔ چاہئے کشمیری ہو یا لداخی یا جموں والے ہم تین خطوں کے لوگوں کا احترام کرتے ہیں۔ راجیہ سبھا سے ریٹائر ہو چکا ہوں لیکن سیاست نہیں ۔ غلام نبی آزاد کا مزید کہنا تھا کہ کانگریس کو مضبوط بنانے کی خاطر کام کرتا رہوں گا۔ کانگریس پارٹی بھائی چارے میں یقین رکھتی ہے لہٰذا یہ ہمارا بنیادی اصول ہونا چاہئے۔ بھاجپا میں شمولیت کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے غلام نبی آزاد نے کہاکہ اگر مجھے بی جے پی میں جانا ہوتا تب میں کب کا چلا گیا ہوتا ۔ انہوںنے کہاکہ بی جے پی کے آنجہانی لیڈر اور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے ساتھ گہرے تعلقات تھے ۔ جب بھی دیوالی یا کوئی دوسرا بڑا دن ہوتا تو میں اٹل بہاری واجپائی کے گھر جا کر اُس کو مبارکباد پیش کرتا ۔ میں نے وزیر اعظم اندرا گاندھی ، ڈاکٹر منہومن سنگھ کے ساتھ کام کیا لیکن اس وقت کانگریس پارٹی کو چیلنجوں کا سامنا ہے اور ہمیں پارٹی کو پھر سے پاؤں پر کھڑا کرنے کی خاطر محنت کرنی ہے۔ غلام نبی آزاد کے مطابق کانگریس اتحاد اور بھائی چارے میں یقین رکھتی ہے اور یہ ہمارا اصولی موقف ہے اس پر سمجھوتہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیںہوتا۔ کانگریس کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ اختلافات پیدا ہونے کے بارے میں غلام نبی آزاد نے کہاکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے ۔ انہوںنے کہا کہ نئی پود کو کانگریس کی طرف لانے کی خاطر کارکنوں کو کام کرنا چاہئے۔ غلام نبی آزاد کا کہنا تھا کہ میں کانگریس کا سپاہی تھا اور رہوں گا ۔ یاد رہے راجیہ سبھا میں اپنی مدت پوری کرنے کے بعد قومی میڈیا میں افواہیں گشت کر رہی ہیں کہ غلام نبی آزاد بھاجپا میں شامل ہو سکتے ہیں۔
مزیدپڑھیں

عوامی مفادات کیلئے کوئی بھی قربانی دئوں گی

20 Feb 2021 کو شائع کیا گیا

پی ڈی پی صدر اورسابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے مسئلہ کشمیر کوایک سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئےکہا ہےکہ دنیا میںسب سے زیادہ فوج جموں وکشمیر میں تعینات ہے ۔ ۵؍اگست2019کے فیصلوں کے بعد سے مرکزی حکومت بے قرارہے ،اسی لئے بیرون ممالک کے سفارتکاروں کویہاں بھیج کریہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ کشمیری عوام بھارت سے ناراض نہیں ہیں بلکہ وہ خوش ہیں۔پی ڈی پی صدرنے کہاکہ ہمیں پتھربازی نہیں کرنی ہے،ہمیں اپنی بات کہنی ہےاورہم یہ بات پاکستان سے نہیں بلکہ بھارت سے کہیں گے ۔2016کی ایجی ٹیشن کے دوران مرکزی سرکار کاایک وفد کشمیریوں کے دروازے پرآیا لیکن ہم نے دروازے بند رکھے ۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ ہم نے حکمرانی کی ہے ،آج عوامی احساسات ومفادات کیلئے جیل بھی جاناپڑے توجائوں گی۔ بھاجپا پر پی ڈی پی کوتوڑنے کاالزام عائد کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہاکہ جوپارٹی سے نکلے ہیں،وہ مجھے کہتے تھے کہ بجلی ،پانی اورسڑک کی بات کریں،کوئی اوربات نہ کریں۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ جب میں نے اُن کی بات نہیں مانی تووہ ڈراورخوف کی وجہ سے پارٹی چھوڑکرچلے گئے ۔پی ڈی پی صدرنے پارٹی ورکروں سے جذباتی اندازمیں کہاکہ مجھے اکیلے نہیں چھوڑنا،میرا ساتھ دینا۔
شمالی کشمیر میں عوامی رابطہ مہم کوجاری رکھتے ہوئے پی ڈی پی کی صدراورسابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعرات کوڈاک بنگلہ بارہمولہ میں پارٹی کارکنوں کے ایک کنونشن سے خطاب کیا۔انہوں نے کہاکہ میں عوام کی بات کرئوں گی،چاہئے مجھے جیل ہی کیوں نہ جاناپڑے۔سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ عوام کے حقوق کیلئے قربانی دینی پڑی تومیں دئوں گی ،جیل جانا پڑے توجیل بھی جائوں گی ۔محبوبہ مفتی کاسوالیہ انداز میں کہناتھاکہ بانڈی پورہ میں ایک کمسن بچی کواغوا کرنے کی کوشش کی گئی ،کیا میں اسکی بات نہ کرئوں ،لائوے پورہ میں مارے گئے تین نوجوانوں میںسے ایک کے والد نے بیٹے کی نعش کودفن کرنے کیلئے قبر کھودکررکھی ہے ،اوراس پرکیس کیاگیا،کیا میں اُسکی بات نہ کرئوں۔انہوں نے کہاکہ جولوگ ہماری پارٹی سے نکلے ہیں یانکالے گئے ہیں ،وہ مجھے کہتے تھے کہ آپ چھینے گئے حقوق کی بات نہ کریں ،آپ زیادتیوں اورظلم کی بات نہ کریں ۔سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم نے حکمرانی کی ہے ،آج عوامی احساسات ومفادات کی بات کرنے پرمجھے جیل بھی جاناپڑے تومیںجائوں گی ۔انہوں نے کہاکہ میں اُن لیڈروںکاکیاکرئوں گی ،جومجھے سچ اورحق بات کہنے سے روکتے تھے ۔محبوبہ مفتی کاکہناتھاکہ مجھے ویسے لیڈرنہیں چاہیں ،بلکہ مجھے وہ ورکر چاہیں ،جو میرے ساتھ کھڑے ہونے کیلئے تیارہوں ۔انہوں نے بھاجپا پر پی ڈی پی کوتوڑنے کاالزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ جوپارٹی سے نکلے ہیں ،وہ مجھے کہتے تھے کہ بجلی ،پانی اورسڑک کی بات کریں،کوئی اوربات نہ کریں۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ جب میں نے اُن کی بات نہیں مانی تووہ ڈراورخوف کی وجہ سے پارٹی چھوڑکرچلے گئے۔انہوں نے کہاکہ 5،اگست2019کے فیصلوں کے بعد سے مرکزی حکومت بے قرارہے ،اسی لئے بیرون ممالک کے سفارتکاروں کویہاں بھیج کریہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ کشمیری عوام بھارت سے ناراض نہیں ہیں بلکہ وہ خوش ہیں ۔ محبوبہ مفتی کاکہناتھاکہ مرکزی سرکارنے غیرملکی سفیروں کویہاں بھیجا تاکہ وہ اپنے ملکوں کی حکومتوںسے کہہ سکیں کہ کشمیری بھارت سے ناراض نہیں ہیں بلکہ وہ خوش ہیں ۔ مرکزی سرکار کی بے اطمینانی اوربے قراری صاف نظرآرہی ہے،کیونکہ دلی کے حکمران جانتے ہیں کہ جموں وکشمیر کے عوام5؍ اگست2019کوکئے گئے یکطرفہ فیصلوں سے ناراض ہیں ،اوراب اس ناراضگی کودنیا سے چھپانے کیلئے نت نئے طریقے اپنائے جارہے ہیں،اورغیرملکی سفیروں کی کشمیرآمد اسی طریقے کارکی ایک کڑی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ماگام بڈگام میں موجودلوگوں سے کہلوایا گیاکہ ہمیں بجلی ،پانی ،سڑک اورروزگار چاہئے ۔سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ اگر مرکزی حکمرانوں کویہ اطمینان ہے کہ کشمیری بھارت کیساتھ خوش ہیں تو لاکھوں کی تعدادمیں فوج یہاں کیوں تعینات رکھی گئی ہے ،یہاں زبان بندی کیوں کی گئی ہے ،یہاں اخبار والوں کوڈرایا دھمکایاکیوں جاتاہے،صحافیوںکوکیوں بلاوابھیجاجاتاہے ۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ دنیا میںسب سے زیادہ فوج جموں وکشمیر میں تعینات ہے،لیکن بقول موصوفہ طاقت کے بل پر مرکزی سرکار کوکچھ حاصل نہیں ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ طاقت سے کچھ حاصل نہیں ہوتاہے ،بلکہ دلوںکوجیتنے سے ہی بہت کچھ حاصل ہوسکتاہے۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ عوام کودبانا اورڈرانا بڑی بات نہیں ہے بلکہ عوام کے دلوںکوجیتنا ہی بڑی بات ہے ۔سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے 5؍اگست 2019کے فیصلوں کوسراسرزیادتی قرار دیتے ہوئے کہاکہ ہمارے بزرگوں،ہمارے نوجوانوں،بچوں اوربہن بیٹیوں کے سرسے چادرچھینی گئی ،ہمارے حقوق ختم کئے گئے ،ہمیں جائز حقوق سے محروم کیاگیا۔انہوںنے کہاکہ دفعہ370اور35A جموں وکشمیر اوریہاں کے باشندوں کے حقوق کوتحفظ فراہم کرتے تھے،لیکن اب ہم حقوق کے بغیر ہیں ۔سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ جموں وکشمیر نے بھارت کیساتھ کچھ شرائط کے تحت الحاق کیاتھا،لیکن اب اُس الحاق اوراُس رشتے پر سوالیہ نشان لگ گیاہے ۔کیوں نہ کہوں کہ مسئلہ کشمیر ہے جبکہ یہ مسئلہ ہےاوراگریہ مسئلہ نہیں ہوتاتویہاں دس لاکھ فوجی تعینات ہیں۔مسئلہ کشمیر ایک حقیقت ہے اورجب تک بھارت اورپاکستان بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کوحل نہیں کریں گےتب تک یہ مسئلہ رہے گا۔
مزیدپڑھیں

جموں و کشمیر کو مناسب وقت پر ریاست کا درجہ ملے گا

16 Feb 2021 کو شائع کیا گیا

وزیر داخلہ امت شاہ نے اس بات کا زوردار اعادہ کیا ہےکہ ان کی حکومت جموں و کشمیر کو ایک مناسب وقت پر مکمل ریاست دینے کا عزم رکھتی ہے۔انہوں نے کہاکہ ایسا ہوگا،تاہم امت شاہ نے سیاسی جماعتوں اورلیڈروں سے اپیل کی کہ وہ سابق ریاست کی صورتحال کوسمجھیں اور جموں و کشمیر کے … مزیدپڑھیں

ہند نواز سیاسی جماعتوں کو ہراساںکرنے کی کارروائیاں تیز

07 Feb 2021 کو شائع کیا گیا

جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کے دفعہ 370 کی منسوخی کے فیصلے سے متفق نہ ہونے پر جموں و کشمیرمیں ہند نواز سیاسی جماعتوں کو ہراساں کرنے کی کارروائیاں تیز کردی گئی ہے اور وحید پرہ کو مسلسل حراست میں رکھنا اسی کا ایک حصہ … مزیدپڑھیں