خبریں

RSSایجنڈا کو آگے بڑھانے کی کوششیں جاری

RSSایجنڈا کو آگے بڑھانے کی کوششیں جاری

مزاحتمی تحریک کی کامیابی کیلئے اتحاد فکر و عمل کو لازمی قرار دیتے ہوئے حریت (ع)چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے کہاکہ کشمیر کی مزاحمتی قیادت میں مکمل اتحاد ہے۔پلوامہ میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’’ ہمارا نقطہ اتحاد اور اصولی موقف یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق حل کیا جائے‘‘۔اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے اور اسے دہشت گردی یا انتہا پسندی کے ساتھ جوڑنا قطعی ناقابل قبول ہے۔طاقت اور تشدد کے بل پر ہمارے بنیادی انسانی ، سماجی ،سیاسی اور مذہبی حقوق سلب کرلئے گئے ہیں یہاں تک کہ مزاحمتی قیادت کو مسجدوں میں جانے پر بھی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں‘‘۔میرواعظ نے کہا کہ پر امن جلسوں کی تو بات ہی نہیں بلکہ اب میٹنگوں پر بھی پہرے بٹھائے جاتے ہیں۔سال رواں میں اب تک چالیس بار شہر کے بیشتر علاقوں میں کرفیو نافذ کیا گیا جبکہ کئی مرتبہ مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی روک دی گئی ، یہاں بار بار تحریک نواز قیادت کو تھانہ و خانہ نظربندکیا جاتا ہے اور پر امن سیاسی سرگرمیوں پر قدغن لگائی جاتی ہے۔ مسئلہ کشمیر ایک انسانی اور سیاسی مسئلہ ہے اور اسے سیاسی بنیادوں پر ہی حل کرکے خطے میں امن و سلامتی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے،لیکن کشمیر دشمن قوتیں کشمیری عوام کی اس مبنی برحق جدوجہد کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کیلئے اسے دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کررہی ہیں جو انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے‘‘۔ میرواعظ کے مطابق ریاستی حکمرانوں نے اقتدار میں آنے سے قبل یہ دعویٰ کیا تھا کہ ہر ایک کو یہاں اظہار رائے کی آزادی ہوگی اور گولی سے نہیں بلکہ بولی سے بات بنے گی لیکن آئے دن جس طرح سے مزاحمتی قیادت اور نوجوانوںکو پشت بہ دیوار کرنے کی کوششیں جاری ہیں،وہ عیاں ہے۔میرواعظ نے کہا ’’ ہم اصولی طور پر تعمیر و ترقی کیخلاف نہیں ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ مراعات، مفادات، مالی ،اقتصادی پیکیجوں یا کوئی علاقائی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ سوا کروڑ کشمیری عوام کے سیاسی مستقبل کے تعین کا مسئلہ ہے جس کو طاقت ،تشدد، دھونس ، دبائو یا فوجی قوت کے بل پر حل نہیں کیاجاسکتا بلکہ اسے صرف اور صرف کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں یا پھر سہ فریقی بات چیت کے ذریعہ ہی حل کیاجاسکتا ہے‘‘۔ بھارت کی فرقہ پرست قوتیں کشمیر میں مسلمانوں کے اسلامی تشخص اور انفرادیت کو ختم کرنے کی کوششوں میں لگی ہیں اور یہ تنظیمیں تقریباً چالیس مختلف ناموں سے سرگرم عمل ہیںانہوں نے کہا کہ کشمیر میں کشمیریوں کو تقسیم کرنے کیلئے آر ایس ایس کے ہندوتوا ایجنڈا کو آگے بڑھانے کیلئے یہاں جو ایجنسیاں سرگرم عمل ہے ان سے ہوشیار رہنے کی سخت ضرورت ہے۔